پی ایم سی کی تحلیل اور پی ایم ڈی سی کی بحالی


پاکستان میں میڈیکل ایجوکیشن کو ریگولیٹ کرنے والے وفاقی ادارے پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کی تحلیل اور اس کی راکھ پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی دوبارہ تعمیر ایسے وقت میں ایک ایسی حکومت کے دور میں ہوئی ہے جس کا وجود صرف اسلام آباد اور کسی حد تک سندھ تک محدود ہے۔ پاکستان میڈیکل کمیشن کی جانب سے تقریباً ًدو سال تک طبی تعلیم کے انتہائی اہم اور حساس شعبے کو تختہ مشق بنائے جانے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں برسر اقتدار آنے کے والی مخلوط حکومت نے پارلیمنٹ سے قانون سازی کے ذریعے نیب کے پر کترنے نیز حکومت میں شامل بعض نمایاں شخصیات کی کرپشن اور بدعنوانیوں کی انکوائریاں رکوانے کے بعد اب تک جو دوسرا بڑا فیصلہ کیا ہے وہ پی ایم سی کے خاتمے کے بعد پی ایم ڈی سی ادارے کی دوبارہ بحالی ہے۔

موجودہ وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل جو پاکستان پیپلز پارٹی کے کوٹے سے وفاقی وزیر بنے ہیں اور جن کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے نے پچھلے چند ماہ کے دوران پی ایم سی کے خاتمے اور اس کی جگہ پر پی ایم ڈی سی کی بحالی کا جو فیصلہ کیا ہے اس کے پیچھے پی ایم سی کے گزشتہ دو سالوں کے دوران کیے جانے والے یک طرفہ اور چھوٹے صوبوں کے مفادات کو پس پشت ڈالنے والے متنازعہ فیصلے رہے ہیں جن میں سرفہرست فیصلہ ماضی اور خاص کر اٹھارہویں ترمیم کی روح کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے چاروں صوبوں کے طلباء سے ایم بی بی ایس کے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کالجوں میں سنٹرلائزڈ داخلوں کے علاوہ مرکزی ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ منعقد کرانا تھا۔

یاد رہے کہ پی ایم سی کے اس فیصلے پر صوبہ سندھ، خیبر پختون خوا، بلوچستان اور حتیٰ کہ پنجاب سے بھی احتجاج سامنے آیا تھا لیکن پی ایم سی نے اس احتجاج کو سنی ان سنی کرتے ہوئے نہ صرف سارے ملک کے طلباء سے یکساں نصاب پر مشتمل ایک مرکزی ٹیسٹ لیا تھا بلکہ ایم بی بی ایس میں داخلوں کے لئے 65 فیصد اور بی ڈی ایس میں داخلوں کے لئے 55 فیصد کی شرط بھی عائد کی گئی تھی جبکہ اب موجودہ حکومت نے اس شرح کو بالترتیب 55 فیصد اور 45 فیصد کر دیا ہے جس کو ایک بار پھر بعض حلقوں کی جانب سے میرٹ کی گراوٹ کا نقطہ آغاز قرار دے کر ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔

اسی طرح پی ایم ڈی سی کے وجود میں آنے کے باوجود پی ایم سی چونکہ اس سال کے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے لئے دو لاکھ سے زائد طلباء و طالبات سے فی کس چھ ہزار روپے کے عوض ان کی رجسٹریشن کر چکا ہے اس لئے ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ نیا سیٹ اپ بننے کے بعد ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ گزشتہ سال کی طریقہ کار کے مطابق ملک گیر سطح پر کمپیوٹر بیسڈ ہو گایا پھر ماضی کی پریکٹس جب پی ایم ڈی سی بحال تھا اس کے طریقہ کار کے مطابق صوبائی سطح پر ہر صوبہ از خود ٹیسٹ لے گا اس گمبھیر صورتحال نے جہاں لاکھوں طلباء کو ایک عجیب ذہنی کوفت میں مبتلا کر رکھا ہے تو دوسری جانب لاکھوں والدین اور متعلقہ ادارے بھی اس حوالے سے تذبذب کے شکار ہیں۔

اسی طرح موجودہ حکومت کی جانب سے داخلوں کے لئے میرٹ میں کمی کے حوالے سے حکومتی حلقے تو اس کے متعلق یہ جواز تراش کر لوگوں کو مطمئن کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ گزشتہ سال کے اس سخت فیصلے سے پرائیویٹ سیکٹر کے بعض میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی نشستیں خالی رہ گئیں تھیں جس سے نہ صرف ان کالجز کو مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا بلکہ اس سے ملک کا کثیر زرمبادلہ بھی بڑی تعداد میں ہمارے بچوں کی وسطی ایشیائی ممالک اور چین کے میڈیکل کالجز میں داخلوں کی صورت میں باہر منتقل ہوا تھا جبکہ اس کے برعکس بعض حلقے اس فیصلے کو وفاقی وزارت صحت اور پرائیویٹ کالجز کی ملی بھگت کا نتیجہ بھی قرار دے رہے ہیں۔

یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے علاوہ دیگر انڈر گریجویٹ پروگرامات میں داخلوں کے لئے تو کے ایم یو اپنا ٹیسٹ گزشتہ اتوار کو صوبے کے تیرہ مراکز میں منعقد کر چکی ہے جس میں 25 ہزار سے زائد طلباء و طالبات نے حصہ لیا لیکن آیا وہ طلباء جنہوں نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کے لئے پی ایم سی کے ساتھ گزشتہ دو تین ماہ سے رجسٹریشن کر رکھی ہے ان کے مستقبل کا کیا ہو گا آیا یہ طلباء اب بحال ہونے والے پی ایم ڈی سی کے تحت منعقدہ ٹیسٹ میں شامل ہوں گے یا پھر ان کو ایک بار پھر صوبوں کے رحم و کرم پر چھوڑا جائے گا اور صوبوں میں بھی انہیں کسی ایک متفقہ پیمانے کی بجائے مختلف اداروں اور ان کے الگ الگ پیمانوں پر جانچا جائے گا۔

اسی طرح یہاں یہ سوال بھی اہمیت کا حامل ہے کہ آیا پہلے سے رجسٹرڈ طلباء کے فیسوں کا کیا بنے گا اور آیا ان طلباء کو ایک بار پھر رجسٹریشن کے لمبے چوڑے اور روح فرسا عمل سے گزرنا ہو گا یا پھر ان کی پی ایم سی کے ساتھ رجسٹریشن ہی کو متعلقہ صوبوں کو ٹرانسفر کیا جائے گا یہ وہ سوالات ہیں جو گزشتہ کئی ہفتوں سے لاکھوں طلباء اور ان کے والدین کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں اور کسی بھی جانب سے انہیں نہ تو کوئی تشفی جواب مل رہا ہے اور نہ ہی کسی بھی سطح پر ان کی کوئی شنوائی ہو رہی ہے جو ان کے ساتھ یقیناً ایک بہت بڑا ظلم اور زیادتی ہے۔

Facebook Comments HS