پاکستان میں بخار کی دوا پینا ڈول نایاب کیوں ہو گئی ہے؟

تنویر ملک - صحافی، کراچی


پیناڈول
پاکستان میں اس وقت بخار کی دوا پینا ڈول کی قلت کی شکایات عام ہیں اور ملک میں یہ دوا یا تو دستیاب نہیں ہے یا پھر مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے۔

ملک میں ڈینگی بخار کے کیسوں میں اضافے کی وجہ سے پینا ڈول کی طلب میں اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی قلت اور مہنگے داموں اس کی فروخت کی شکایات ابھریں جن میں اس دوا کی بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کو وجہ قرار دے دیا گیا۔

اسی دوران کراچی میں سندھ حکومت کے محکمہ صحت کی جانب سے ہاکس بے میں ایک گودام پر چھاپے کے دوران پینا ڈول کی ساڑھے چار کروڑ گولیوں کی برآمد کی دعویٰ کیا گیا ہے۔

صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے کہا گیا کہ برآمد شدہ پینا ڈول کی گولیوں کو ذخیرہ کر کے مہنگے داموں بیچا جانا تھا اور ان کی قیمت 25 کروڑ روپے سے زائد ہے۔

دوسری جانب پینا ڈول بنانے والی کمپنی ‘جی ایس کے’ نے صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے چھاپے اور برآمد کی جانے والی پینا ڈول کی گولیوں پر رد عمل میں کہا ہے کہ پینا ڈول کا سٹاک جان بوجھ کر نہیں چھپا کر رکھا گیا اور نہ ہی ذخیرہ اندوزی کی گئی ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کے بعد کراچی کے ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں محکمے کی اس کارروائی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے چار کروڑ سے زائد پینا ڈول گولیاں برآمد کی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا ایک ایسے وقت میں جب اس گولی کی زیادہ ضرورت ہے اس کی ذخیرہ اندوزی کی جا رہی ہے۔

کیا پینا ڈول کی ذخیرہ اندوزی کی جا رہی ہے؟

میڈیکل سٹو

سندھ کی صوبائی حکومت کے اعلامیے کے بعد کراچی کے علاقے ہاکس بے میں پینا ڈول تیار کرنے والی کمپنی کے گودام پر چھاپہ مار کر ساڑھے چار کروڑ پینا ڈول کی گولیاں برآمد کی گئی ہیں۔

چھاپہ مارنے والی ٹیم کے سربراہ دلاور جسکانی کے مطابق چھاپے کے دوران گودام سے ساڑھے چار کروڑ پینا ڈول کی گولیاں برآمد کی گئی ہیں اور برآمد شدہ مال ذخیرہ کر کے مہنگے داموں بیچا جانا تھا۔ برآمد شدہ پینا ڈول ادویات کی قیمت پچیس کروڑ سے زائد ہے اور یہ گولیاں جی ایس کے کمپنی نے خود ہی ذخیرہ کر رکھی تھی ۔

جی ایس کے نے اس کی سختی سے تردید کی کہ پینا ڈول کا سٹاک جان بوجھ کر چھپا کر رکھا گیا تاکہ قلت پیدا کی جائے۔

`گودام میں موجود سٹاک معمول کے کاروبار کے تحت ملک بھر میں جاری اور تقسیم ہونا تھا۔‘

جی ایس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فرحان محمد ہارون نے کمپنی کے گودام پر چھاپے کی تصدیق کرتے ہوئے اس الزام کو مسترد کیا کہ پینا ڈول کی ذخیرہ اندوزی کی جا رہی تھی۔

انھوں نے کہا گودام میں موجود سٹاک مممول کے مطابق گودام سے پورے ملک میں سپلائی کیا جانے والا تھا۔

پاکستان میں ملٹی نیشنل فارما سوٹیکل کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم فارما بیورو کی ترجمان عائشہ ٹمی نے ذخیرہ اندوزی کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو سٹاک برآمد کی گیا ہے صرف دو دن کی پیداوار کا سٹاک ہے جسے کمپنی نے اپنے گودام سے پورے ملک میں سپلائی کرنا تھا۔ انھوں نے کہا جی ایس کے کمپنی پاکستان میں پینا ڈول تیار کرتی ہے اور سالانہ بنیادوں پر اس کی پیداوار 45 ارب گولیاں ہیں اور جس سٹاک کو برآمد کر کے اسے ذخیرہ اندوز کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ کچھ بھی نہیں۔

انھوں نے کہا پینا ڈول کو ایک سیاسی ایشو بنایا جا رہا ہے اور ہر ایک اس پر بات کر کے اپنا مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو سرکاری اہلکار ہیں وہ بھی اس پر کارروائی کر کے تمغہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جب کہ دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ دو دن کی پینا ڈول کی پیداوار کا یہ سٹاک کمپنی نے اپنے وئیر ہاوس سے تقسیم کرنا تھا۔‘

کمپنی کے گودام پر چھاپہ مارنے والے ڈرگ انسپکٹر دلاور علی جسکانی نے اس سلسلے میں کہا کہ `جب ہم گودام میں گئے اور ہم گودام کی انتظامیہ سے پینا ڈول سٹاک کے بارے میں ضروری کاغذات مانگے جس میں اس مال کی پیداوار کی تاریخ اور انوائس وغیرہ شامل تھی تو انھوں نے کہا انہیں اس کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے بعد ہم انے اعلیٰ حکام سے بات کی تو انھوں نے کارروائی کا حکم دیا۔‘

پینا ڈول کی ذخیرہ اندوزی کو کمپنی کی جانب سے مسترد کرنے پر انھوں نے کہا یہ کمپنی کا موقف ہے۔ ہم نے مزید تحقیقات کے لیے انہیں بلایا تھا لیکن وہ اجلاس میں نہیں آئے۔

جسکانی نے کہا ان کی اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔

کیا پیناڈول کی قلت ختم ہو سکے گی؟

ملک میں ڈینگی بخار کے بڑھتے ہوئے کیسوں کے بعد پینا ڈول گولی کی طلب میں بھی اضافہ ہو گیا ہے تاہم اس گولی کی قلت اور دستیاب گولی کی مہنگے داموں فروخت کی وجہ سے مریض پریشانی کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیے

پاکستان میں پیناڈول نایاب کیوں ہو گئی ہے؟

کیا پیراسیٹامول کا طویل مدت تک استعمال دل کے لیے اچھا نہیں؟

پاکستان میں پیناڈول کی گولی کی قلت کی وجوہات کیا ہیں؟

اس سلسلے پاکستان فارموسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین منصور دلاور نے کہا `پیناڈول کی تیاری میں استعمال ہونے والے سالٹ کی درآمد کی قیمت میں بہت اضافہ ہوا۔‘

انھوں ن کہا کہ جو سالٹ 600 روپے فی کلو پر فراہم ہوتا تھا اب وہ 2400 روپے فی کلو پر فراہم ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں سالانہ بنیادوں پر 45` کروڑ گولیوں کی پیداوار کی جاتی ہے جو کمپنی بنا رہی تھی اس کی جانب سے قیمت بڑھانے کی درخواست کے باوجود حکومت نے قیمت نہیں بڑھائی جس سے کمپنی کو نقصان ہوتا رہا ہے۔

`اصل میں پینا ڈول تو ایک برانڈ کا نام ہے یہ گولی پیرا سٹامول ہے تاہم پینا ڈول کے نام سے زیادہ معروف ہے۔‘

انھوں نے کہا ان کی ایسوسی ایشن کی وزارت صحت کے حکام سے ملاقات ہوئی ہے جس میں پینا ڈول کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے خام مال یعنی سالٹ کی قیمتوں میں کمی کی یقین دہانی کر ائی گئی ہے۔

`پینا ڈول کا سالٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں نے قیمت میں دس فیصد کمی پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا ناصرف پینا ڈول بلکہ پیرا سٹامول، کالپول جو بخار کی دوائیں ان کے سالٹ میں دس فیصد کمی کا اعلان ان کی فراہمی والی کمپنیوں نے کیا ہے۔

منصور نے بتایا کہ پینا ڈول بنانے والی کمپنی اور دوسری ادویات بنانے والی کمپنی کی جانب سے پیداوار بڑھائی جائے گی جس کے بعد امید ہے کہ اس کی سپلائی کی صورت حال بہتر ہو گی۔‘

انھوں نے کہا کہ جو کمپنی پینا ڈول بنا رہی ہے اس نے فی الحال پیداوار روکی ہوئی تھی کیونکہ کاروباری لاگت بڑھنے کی وجہ سے اس کی تیاری اور فروخت پرانے نرخوں پر ہونے کی وجہ سے خسارے کا سبب بن رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ `خام مال کی قیمت میں کمی سے کاروباری لاگت کم ہو گی جس کے بعد امید ہے کہ اس کی پیداوار بڑھے گی اور پیناڈول کی قلت پر کنٹرول ہو گا۔

پیناڈول

پینا ڈول کی طلب کیوں بڑھ گئی ہے؟

ملک میں پینا ڈول کی طلب کے اضافے کے بارے میں ماہرین صحت اور اس شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق ڈینگی بخار کے کیسوں میں اضافے کے بعد اس کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آی ہے۔

انھوں نے کہا پورے ملک میں ڈینگی کے کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اتنی بڑی تعداد میں ان کی ضرورت کے مقابلے میں رسد کم ہے۔

عارف بلوچ نے بتایا کہ سندھ اور بلوچستان میں سیلاب کے بعد ڈینگی بخار کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور وہاں سے اس کی طلب زیادہ ہے۔

صحت کے شعبے کے ماہر ڈاکٹر سلمان اوٹھو نے بتایا کہ پینا ڈول ایک برانڈ کا نام ہے جب کہ کئی کمپنیاں بخار کے دوا بناتی ہیں۔ انھوں نے کہا عام آدمی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی زبان پر پینا ڈول کا نام چڑھا ہوا ہے ۔ ورنہ اگر پیناڈول نہ ہو تو بخار کے علاج کی دوسری دوائیں بھی موجود ہیں۔

انھوں نے کہا گذشتہ سال بھی ڈینگی کے کیسوں کے بڑھنے سے اس کی قلت ہو گئی تھی تاہم اس سال سیلاب کے بعد ڈینگی بخار کے کیسوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اس کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ بخار کی اور بھی بہت سی دوائیں ہیں لیکن لوگوں کی عادت بنی ہوئی ہے کہ وہ پینا ڈول ہی مانگتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25926 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments