کامران ٹیسوری ایک بار ایم کیو ایم کی تقسیم کا باعث بن گئے


26 اگست 2016 کے بعد سے ایم کیو ایم کیا بکھری کہ ہر گزرتے دن و ماہ سال میں خزاں کے پتوں کی کی طرح بکھرتی ہی جا رہی ہے۔ ایم کیو ایم میں اندرونی اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ رابطہ کمیٹی کے ارکان اور ذمہ دار ان ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں ہیں۔ پہلے بڑے سے بڑے مسئلہ کو کمرے میں بیٹھ کر حل کر لیا جاتا تھا اب وہی باتیں میڈیا کے ذریعہ کارکنوں اور عوام تک پہنچ رہی ہیں۔ اندرونی سازشوں اور ایک دوسرے کو گرانے اور مٹانے کی کوششوں نے ایم کیو ایم کو اس قدر کمزور اور بے بس کر دیا ہے کہ رابطہ کمیٹی فیصلہ سازی کا اختیار اور اعتماد کھو چکی ہے۔

اب ٹیلی فون کال کا انتظار کیا جاتا ہے یا کسی خفیہ پیغام کا ۔ اس کی ایک تازہ مثال ڈاکٹر فاروق ستار کا میڈیا پر برملا اظہار ہے، جب ان سے پوچھا گیا کہ ایم کیو ایم میں آپ کی واپسی میں رکاوٹ کیوں آئی اور کس نے مخالفت کی۔ ڈاکٹر صاحب نے کندھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”بزرگوں“ نے منع کیا ہے۔ اس سے قبل کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی بھی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں ہمارے پاس ”فون“ آیا کرتے تھے۔ ان کا اشارہ یقیناً ”نیوٹرل“ کی طرف تھا۔

ایم کیو ایم جو کبھی غریب اور متوسط طبقہ کی جماعت ہوا کرتی تھی۔ پڑھے لکھے اور تعلم یافتہ نوجوان اس جماعت کا حصہ تھے۔ جس کی نظم و ضبط اور ضابطہ اخلاق کی مثالیں پیش کی جاتی تھی۔ آج وہ جماعت اپنا تشخص کھو چکی ہے۔ کمزور تنظیمی ڈھانچے اور مسلسل اختلافات کی وجہ سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اہم 7 نشستوں کے باوجود ایم کیو ایم کو کسی بھی سطح پر سنجیدہ نہیں لیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار ایم کیو ایم کے بارے میں بول چکے ہیں کہ ’موجودہ پارٹی نہ تو ایم کیو ایم ہے اور نہ ہی ایم کیو ایم پاکستان، بلکہ اب یہ پارٹی چوں چوں کا مربہ ہے۔ پارٹی کے اندر اختلافات ہیں بلکہ اب ایم کیو ایم‘ نشان عبرت ’بن گئی ہے۔

کامران ٹیسوری کا نام اب ایم کیو ایم کے لئے نیا نہیں رہا۔ کامران ٹیسوری وہ ہی شخص ہیں جنہیں سینیٹر بنانے کی کوشش میں ڈاکٹر فاروق ستار کو پہلے پارٹی رکنیت اور پھر کنوینر کے عہدے سے بھی ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ یاد رہے کہ 5 فروری 2018 کو کامران ٹیسوری کی وجہ سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی جس کا خمیازہ 2018 کے عام انتخابات میں نتائج کی صورت میں بھگتنا پڑا تھا۔ اور پھر ڈاکٹر عامر لیاقت کی خالی ہونے والی سیٹ این اے 245 پر جب ضمنی انتخابات ہوئے تو ایم کیو ایم کے امیدوار معید فاروقی اور ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار بھی مد مقابل تھے۔

اس سیٹ سے تحریک انصاف کے امیدوار محمود مولوی 29 ہزار 475 ووٹ لے کر کامیابی ہوئے۔ جو سیاسی طور پر غیر معروف شخصیت تھے جب کہ دوسری طرف ایم کیو ایم اپنی پوری تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ تھی تو دوسری طرف ڈاکٹر فاروق ستار تمام امیدواروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مقبول سیاسی شخصیت تھے مگر دونوں کوہی شکست کا سامنا کرنا پڑا، ایم کیو ایم جن سیٹوں پرایک لاکھ اور 80 ہزار ووٹ حاصل کرتی تھی وہاں سے ایم کیو ایم کے معید انور نے 13 ہزار 193 ووٹ لئے۔ آزاد امیدوار فاروق ستار نے 3479 اور مہاجر قومی موومنٹ کے محمد شاہد کو 1177 ووٹ ملے۔ ایم کیو ایم کے چاروں دھڑے بمشکل 18 ہزار ہی حاصل کرسکے۔ جو اس بات کا ثبوت تھا کہ ووٹر اور ہمدرد اب ایم کیو ایم کو ووٹ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

کامران ٹیسوری کو بنیاد بنا کر ایم کیو ایم نے ڈاکٹر فاروق ستار کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔ اس ہی ایم کیو ایم نے کامران ٹیسوری کو سینے سے لگا لیا ہے۔ کامران ٹیسوری پہلے نامنظور تھے تو اب کیسے قابل قبول ہو گئے؟ کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور پارٹی کے چار اہم رہنماؤں نے کامران ٹیسوری کو نہ صرف پارٹی میں واپس لیا بلکہ انہیں ڈپٹی کنوینر کے عہدے پر بحال کر دیا ہے۔ طویل عرصے سے پارٹی سے وابستہ کارکنوں کی خدمات کو فراموش کر کے سرمایہ داروں، صنعت کاروں اور وڈیروں کو پارٹی میں اعلیٰ مقام اور مرتبے دیے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کارکنوں اور ہمدردوں کی بڑی اکثریت خود کو ایم کیو ایم سے الگ کرچکی ہے اور کچھ پرانے ذمہ دار اب بھی ایم کیو ایم سے وابستہ ہیں انہیں نہ تو فیصلہ سازی میں شامل کیا جاتا ہے اور نہ ان کی اب پہلی جیسی پارٹی میں اہمیت اور عزت ہے۔

ان فیصلہ پر رکن رابطہ کمیٹی کشور زہرہ نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چند لوگوں کی خواہش کو تمام ارکان کے سروں پر تھوپا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی عہدیداروں نے کامران ٹیسوری کی واپسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی کے فیصلے چار لوگوں نے کرنے ہے تو ہم گھر بیٹھ جاتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے کئی سینئر ذمہ دار پارٹی فیصلوں سے مطمئن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک متنازعہ شخص کو واپس لیا گیا اور اہم عہدہ بھی دے دیا گیا۔ ناراض گروپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر پارٹی قیادت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی تو ہم فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔ اراکین رابطہ کمیٹی اور ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کا کہنا ہے کہ مشکل حالت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے لیکن پارٹی میں فرمائشی پروگرام نہیں چلے گا۔

اس ہی اجلاس کے دوران پاک سر زمین چھوڑ کر ایک بار پھر ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کرنے والے ڈاکٹر صغیر، وسیم آفتاب اور سلیم تاجک کو بھی رابطہ کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ اس پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رؤف صدیقی اور صادق افتخار کو بھی رابطہ کمیٹی میں لیا گیا ہے۔ پارٹی میں مزید دو ڈپٹی کنوینیئرز عبدال وسیم اور خواجہ اظہار الحسن کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ذمہ دار اور کارکن نئے رابطہ کمیٹی ممبران اور ڈپٹی کنوینئر کے فیصلوں پر بھی ناراض ہیں۔

ایم کیو ایم میں اختلافات کی خبریں تو زباں عام تھیں لیکن اس فیصلے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ کامران ٹیسوری پہلے بھی پارٹی کی تقسیم اور انتشار کی وجہ بنے تھے اور اب ایک بار پھر ان کی شمولیت کی وجہ سے اندرونی اختلافات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اگر فل کورم رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کامران ٹیسوری کے بارے میں ڈپٹی کنوینر کا عہدہ واپس لینے کا فیصلہ ہوتا ہے تو پھر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی واپس کا سفر شروع ہو جائے گا، جس طرح ڈاکٹر فاروق ستار کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکالا گیا تھا ممکن ہے کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے خلاف بھی رابطہ کمیٹی کی اکثریت عدم اعتماد کی اظہار کردے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے۔ وفاقی وزیر امین الحق نے کہا کہ ’اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، ایم کیو ایم جمہوری پارٹی ہے اس میں رابطہ کمیٹی کے اراکین اختلاف رائے کا اظہار کرتے ہیں، رابطہ کمیٹی کوئی بھی فیصلہ مشاورت کے بغیر نہیں کرتی۔‘

کوئی وقت تھا جب ایم کیو ایم میں عہدے اور ذمہ داری دینے کا پیمانہ اس کی وفاداری کے ساتھ تنظیم سے وابستگی ہوتی تھی۔ کارکنوں کے بعد اگر کسی کو عہدہ دیا جاتا تھا تو اس میں سرفہرست شہداء کی فیملی کو اولیت دی جاتی تھی۔ کارکن یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ صادق افتخار کو کس کوٹے پر وزیراعظم شہباز شریف کا اسپیشل اسسٹنٹ بنا یا گیا ہے جب کہ ان کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر ہے۔ اس تعیناتی پر پوری ایم کیو ایم خاموش ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار، کامران ٹیسوری کی وکالت کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ”جو اسیر، لاپتہ کارکن واپس آئے ہیں اور جو دفاتر کھلے ہیں یہ سب کامران ٹیسوری کو کوششوں کا نتیجہ ہے۔“ صادق افتخار کی خدمات اور قربانیوں کے بارے میں کارکنوں کو اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ اب ایم کیو ایم میں اس ہی طرح کے لوگ کی جگہ رہ گئی ہے۔

کارکنان یہ سوال پوچھنے کا بھی حق رکھتے ہیں۔ رابطہ کمیٹی کے ”کچھ بڑے“ ، کامران ٹیسوری پر تو سوال اٹھا رہے ہیں لیکن اس کا جواب کون دے گا کہ کیا رؤف صدیقی کے مقابلے خواجہ اظہار زیادہ سینئر ہیں؟ کیا ان کی خدمات زیادہ ہیں؟ کس پیمانے پر رؤف صدیقی کو رابطہ کمیٹی کا رکن اور خواجہ اظہار کو ڈپٹی کنوینئر بنایا گیا؟ جو چیزیں کئی سالوں سے کارپٹ کے نیچے دبی ہوئی تھی اب وہ باہر آنا شروع ہو گئی ہیں۔ کارکنوں نے سوال کرنا شروع کر دئے ہیں اور اپنے غم و غصے کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم کی شکست کے بعد اس کی پوزیشن مزید خراب ہوئی ہے۔ عوامی مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے عوام بھی شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں کے غم و غصے اور شدید ناراضگی کا انداز کراچی کے ان دو واقعات سے بھی لگا یا جاسکتا ہے۔

ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکن وسیم عباس کی نماز جنازہ شاہ فیصل کالونی میں ادا کی گئی، میڈیا رپورٹ کے مطابق اس دوران مجمع میں کچھ افراد مشتعل ہوئے اور ”انہوں نے عامر خان اور فیصل سبزواری سے بدتمیزی کی، انہیں دھکے بھی دیے۔“ جبکہ اور لاپتہ کارکن عابد عباسی کی نماز جنازہ کے دوران وسیم اختر اور کامران ٹیسوری کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی۔ سربراہ ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ شاہ فیصل کالونی میں عامر خان کے ساتھ مبینہ بدتمیزی کے واقعے کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے، کیا اب لوگ لاشیں ملنے کے بعد بھی احتجاج اور غصہ نہ کریں۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کب تک وزارتوں کے مزے لوٹتی رہے گی، ایم کیو ایم چار سال تک تحریک انصاف اور اب مسلم لیگ کے ساتھ وفاق میں حصے دار ہے۔ اس کے باوجود اسیر کارکنوں کی بازیابی اور کراچی کے مسائل حل ہونے کی بجائے صورت حال بد سے بتر ہوتی جا رہی ہے۔ اگر ایم کیو ایم کو واقعی کراچی کو حل کرنا چاہتی اور کارکنوں کو بازیاب کرانا چاہتی ہے تو پھر وزارتوں سے استعفیٰ دے کر حکومت سے باہر آئے اور عوامی مسائل حل کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش کرے۔ بلدیاتی انتخابات میں اگر ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے امیدواروں کو ایم کیو ایم کے سامنے کھڑا کیا تو ووٹ بھی تقسیم ہو گا اور طاقت بھی تقسیم ہوگی۔ لگ یہ رہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں کراچی کی عوام ماضی کی وابستگی سے بالاتر ہو کر فیصلے کرے گی اور نتائج توقعات سے بہت مختلف آئیں گے۔

Facebook Comments HS