حکومت کی نا اہلی اور سیلاب متاثرین


پاکستان کی موجودہ آبادی تقریباً 22 کروڑ ہے۔ پاکستان دنیا کی چھبیسویں بڑی معیشت میں شمار ہوتا ہے۔ اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔ ہمارا ملک بنیاد طور پر زرعی ملک ہے اور جی ڈی پی کا تقریباً 25 فیصد حصہ زراعت سے آتا ہے۔ گندم، کپاس، چاول، گنا اور پھلوں میں آم، کھجور اور سنگترے کی پیداوار میں دنیا کے چند ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ہماری 50 فیصد آبادی شعبہ زراعت سے وابستہ ہے اتنی ساری خوبیوں کے باوجود آج ہمارے ملک کا تقریباً 70 فیصد حصہ سیلاب سے تباہ ہو چکا ہے۔

اب نہ زمین ہے اور نہ ہی زراعت۔ اس سیلاب کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلی بیان کی جا رہی ہے، موسمیاتی ماہرین کے مطابق دنیا کا درجہ حرارت ایک سینٹی گریڈ بڑھ گیا ہے اور گرین لینڈ کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جو سب سے زیادہ گلیشیئرز رکھتا ہے ان کی تعداد اس وقت 7 ہزار ہے۔ گرین لینڈ چونکہ پولر ریجن میں واقع ہے اور آبادی بھی 56 ہزار ہے اس موسمیاتی تبدیلی کا ان پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا لیکن ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہے اس بار جو تباہی آئی ہے وہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں کبھی نہیں آئی۔

ہم 70 سال سے آفات کا شکار رہے ہیں جس میں سر فہرست سیلاب ہے۔ پہلے اس سیلاب کی دو وجوہات ہوتی تھیں ایک مون سون کی بارشیں اور دوسری بھارت کا اپنے ڈیموں اور دریاؤں سے زائد پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دینا تھا۔ ہم ہر سال شور مچاتے تھے کہ بھارت کی آبی جارحیت کی وجہ سے ہمارے علاقوں میں سیلاب آ جاتا ہے۔ لیکن ہم نے اس کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ ہر سال خلق خدا پانی میں ڈوبتی رہی، روتی رہی اور چیختی رہی لیکن ہم سال بڑے بڑے سیمینار کر کے صرف بارش کے زائد ہونے کے اعداد و شمار بتاتے رہے اور یہ کہتے رہے کہ ہمارے پڑوسی نے ڈیم بنا لیے ہیں اور اضافی پانی کا رخ ہماری طرف موڑ دیا ہے، اس مسئلہ پر کبھی سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا، جبکہ ہماری نصف آبادی زراعت کے پیشے سے منسلک تھی۔

انگریز ہمیں آبپاشی کا نظام دے کر گیا تھا، نہریں اور بند باندھنے کا کام کر کے گیا تھا۔ ضرورت اور وقت کے مطابق اس میں بہتری لانی تھی لیکن ہم نہیں کرسکے اس بار قدرت نے بھی ہم پر رحم نہیں کھایا، بلوچستان جو خشک سالی سے بے حال تھا اب بارش او ر سیلاب سے تباہ حال ہو چکا ہے۔ ہر طرف پانی میں ڈوبی ہوئی لاشیں اور پانی میں بہتے ہوئے مال مویشی جو معصوم بچوں کی طرح مدد کے لئے دیکھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ دیکھنے والے کے لئے یہ منظر دل دہلا دینے والا ہے لیکن جن پر بیتی ہے ان کے لئے تو یقیناً یہ قیامت ہی ہوگی۔

بارش اور سیلاب کا یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا اور بلوچستان سے ہوتا ہوا جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آخر میں اس سیلاب اور بارشوں کا آخری پڑاؤ صوبہ سندھ رہا، یعنی وطن عزیز کا کوئی گوشہ عافیت میں نہیں ہے۔ اس سیلاب سے ہماری حکومتوں کی 40 سال کی کارکردگی کی پول کھل گئی اس وقت حساب لگایا جائے تو ہماری نصف آبادی جو کہ 10 کروڑ بنتی ہے سیلاب متاثرین میں شامل ہے اور اس وقت یہ آبادی معاشی طور پر مکمل برباد ہو چکی ہے۔

یہ سب عذاب الٰہی کی ہی شکل ہے۔ اللہ نے سورۂ نحل آیت نمبر 45 میں فرمایا ”کیا جو لوگ بری بری چالیں چلتے ہیں اس بات سے بے خوف ہیں کہ خدا ان کو زمین میں دھنسا دے یا (ایسی طرف سے ) ان پر عذاب آ جائے جہاں سے ان کو خبر ہی نہ ہو“ ۔ اسی طرح سورۂ قمر آیت نمبر 11میں فرمایا ”بس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دیے“ ۔ بارش تو اللہ کی طرف سے تھی لیکن جو بربادی آئی ہے اس میں ہماری چالیں اور ہمارے ہاتھ ملوث ہیں۔

زمینوں پر قبضے کرنے کی ہمیں عادت تھی پھر ہم نے قدرت کی زمین بھی نہ چھوڑی، یعنی پانی کی گزرگاہیں دریاؤں کے کنارے ہم ان سب پر قبضہ کرتے چلے گئے۔ جہاں تعمیرات نہیں کرنی تھی وہاں کی، جہاں درخت نہیں کاٹنے تھے وہاں ہم نے درخت بے دریغ کاٹے، زمینداروں نے اپنی زمینوں کا رقبہ بڑھانے کے لئے پانی کی قدرتی گزرگاہیں ختم کر دیں، اور اپنی زمینوں کو بچانے کے لئے پانی کا رخ آبادیوں کی طرف موڑ دیا۔ جس کی وجہ سے پوری پوری آبادی زیر آب آ گئی اور کچے مکان جو اپنا بوجھ مشکل سے اٹھاتے تھے وہ پانی کے ریلے میں زمین بوس ہو گئے، رہی سہی کسر گلیشیئرز کے پگھلنے نے کردی۔

جب ہم نے اپنی نہریں بند کر دیں، گزر گاہیں موڑ دیں، ہم نے سیدھا سیدھا قدرت سے جنگ کی تو کیا ہمیں اس کی سزا نہیں ملے گی۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انٹونیو گیوٹرز نے کہا کہ میں نے پوری دنیا میں کئی انسانی تباہی دیکھی لیکن اس پیمانے پر تباہی کہیں نہیں دیکھی۔ اس وقت پاکستان کا 70 فیصد حصہ زیر آب ہے، خشک زمین ہی نہیں جو ٹینٹ لگائے جاسکیں۔ متاثرین کے لئے رہائش اور غذا کا بندوبست ہو سکے۔ سڑکیں اور پل نہیں رہے جو امداد پہنچائی جا سکے۔

اس مسئلے کا پہلا حل تو یہ ہے کہ جو آبی گزرگاہیں ہیں انہیں دوبارہ سے بحال کیا جائے جو نہروں کے رخ موڑے گئے ہیں اور نہریں بند کی گئی ہیں ان کو ان کی اصل جگہ پر واپس لایا جائے اور پانی کو سمندر میں گرنے کا رستہ دیا جائے۔ اب یہ کام قومی سطح پر کرنا ہو گا کیونکہ معاملہ پہاڑوں سے شروع ہو کر پاکستان کی زمین کے آخری حصہ تک آ گیا ہے، اس میں ہمارے ملک کے تین شعبوں کا اہم کام ہے انجینئرنگ، زراعت و آبپاشی اور محکمہ موسمیات یہ شعبہ چونکہ قیام پاکستان سے پہلے کے موجود ہیں تو ان کے ماہرین غیر ملکی ماہرین سے بہت بہتر ہوں گے ، کیونکہ اپنی زمین اور اس کے مسائل کو بہتر سمجھتے ہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ وہ غیر ملکی ماہرین سے بہتر، جلد اور جنگی بنیادوں پر متاثرین کی بحالی کا کام کریں گے۔ ان مظلوموں کو صرف امداد ہی نہیں گھروں کو جلد واپس بھیجنے کی بھی ضرورت ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے یہ مظلوم بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اس سے پہلے کہ اللہ ہم سے مزید ناراض ہو اور ہم کسی نئی مصیبت میں گرفتار ہوں ان مظلوموں کو واپس ان کے گھروں میں بھیجنے کا انتظام کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS