ایشیا کپ کرکٹ تنازع: لیسٹر میں پاکستانی اور انڈین باشندوں میں ایک بار پھر کشیدگی، پولیس طلب

ایمی فلپ - بی بی سی نیوز


برطانیہ کے شہر مشرقی لیسٹر کے کچھ علاقوں ایک بار پھر بڑی تعداد میں پاکستانی اور انڈین باشندوں کے آمنے سامنے آنے اور ’نسل پرستانہ اور نفرت انگیز نعرہ بازی‘ کرنے کے باعث بدنظمی پیدا ہونے کے بعد پولیس اور کمیونٹی رہنما سب سے پُرامن رہنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

آن لائن فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ سنیچر کی شام سیکڑوں لوگ، خاص طور پر مرد، سڑکوں پر نکل آئے۔

28 اگست کو ایشیا کرکٹ کپ میں انڈیا اور پاکستان کے مابین کھیلے جانے والے کرکٹ میچ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کی یہ تازہ ترین کڑی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کو ’قابو میں کر رہے ہیں‘ اور عام شہریوں سے کہا کہ وہ اس میں ملوث نہ ہوں۔

عارضی چیف کانسٹیبل راب نکسن نے ایک ویڈیو میں کہا کہ ’ہمیں شہر کے مشرقی لیسٹر علاقے کے کچھ حصوں میں بد نظمی کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس اہلکار موجود ہیں، ہم اس صورتحال کو کنٹرول کر رہے ہیں، وہاں اضافی نفری بھی بھجوائی جا رہی ہے۔ پولیس کو کراؤڈ کو منتشر کرنے، شہریوں کو روکنے اور تلاشی لینے جیسے اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔‘

پولیس چیف نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’براہ کرم اس میں شامل نہ ہوں، ہم امن کے لیے یہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔‘

ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ سنیچر کے روز احتجاج کر رہے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ احتجاج تازہ ترین تنازعے کا باعث بن گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مشرقی لیسٹر میں کمیونٹی کے سربراہان احتجاج کی جگہ پر پولیس افسران کے ساتھ موجود تھے اور وہ سب لوگوں کو پرامن رہنے اور گھروں کو واپس لوٹ جانے کا کہہ رہے تھے۔

یہ تنازع ہے کیا اور یہ کیسے شروع ہوا؟

خیال رہے کہ دبئی میں ہونے والے ایشیا کرکٹ کپ میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ کے بعد برطانیہ کے شہر لیسٹر میں ہنگامی آرائی اور مخالفانہ نعری بازی کے بعد نفرت انگیز جرائم کے تحت ہونے والی تحقیقات کے دوران پانچ افراد کو گرفتار اور درجنوں شہریوں سے تفتیش کی گئی تھی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ‘نسل پرستانہ اور نفرت انگیز نعرہ بازی’ کے مناظر دیکھنے میں آئے جس کے بعد پولیس نے بھی تفتیش شروع کر دی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایشیا کپ کا یہ پہلا میچ تھا جو ایک سخت مقابلے کے بعد انڈیا نے جیت لیا تھا۔

پولیس اہلکاروں کو شہریوں کو روک کر تلاشی لینے کے لیے خصوصی اختیارات دیے گئے تھے اور منگل کی رات سے بُدھ کی صبح تک 16 سال سے کم عمر کسی بھی شخص کو گھر واپس جانے پر مجبور کرنے کا حکم دینے کا بھی اختیار دیا گیا تھا۔

اختیارات کا اطلاق شہر کے بیلگریو، رشی میڈ اور سپنی ہل کے علاقوں میں ہوا۔ شہر میں پولیس کو یہ خصوصی اختیارات گذشتہ ماہ دبئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایشیا کپ میچ کے بعد شہر میں ہنگامہ آرائی کے بعد دیے گئے تھے۔

لیسٹرشائر کے پولیس حکام نے کہا کہ ’ایک فعال پولیسنگ منصوبے کے تحت غیر سماجی رویے، کرائم اینڈ پولیسنگ ایکٹ 2014 کی دفعہ 34 اور 35 کے تحت ہجوم کو منتشر کرنے کے اختیارات منگل کی رات آٹھ بجے سے بدھ صبح چھ بجے تک نافذ کیے گئے تھے۔

پولیس اہلکاروں کو اس کے علاوہ کرمنل جسٹس اینڈ پبلک آرڈر ایکٹ 1994 کی دفعہ 60 کے تحت بھی اختیارات دیئے گئے تھے جس کے تحت افسران کو کسی مخصوص علاقے میں کسی شخص کو کوئی وجہ بتائے بغیر روکنے اور تلاشی لینے کی اجازت دی گئی تھی۔

پولیس نے تصدیق کی کہ مجموعی طور پر 131 افراد کو روکا گیا اور ان کی تلاشی لی گئی جبکہ 18 افراد کو منتشر کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ چار گرفتاریاں بھی ہوئیں:

  • لیسٹر سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ شخص کو ایک کنڈکٹڈ انرجی ڈیوائس (سی ای ڈی) رکھنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔
  • لیسٹر سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ شخص کو جارحانہ ہتھیار رکھنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔
  • ایک 17 سالہ شخص کو جارحانہ ہتھیار رکھنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔
  • لیسٹر سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ شخص کو شراب نوشی کی حالت میں ڈرائیونگ کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔

قائم مقام چیف کانسٹیبل روب نکسن نے پولیس ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کیا جس میں پولیس کے اضافی اختیارات دیئے جانے کی وضاحت کی گئی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’میں اس بات سے آگاہ ہوں کہ ہمارے شہر کے کچھ حصوں میں کافی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ اس کشیدگی کا باعث انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ کے بعد 28 اگست کو پیش آنے والا ایک واقعہ تھا۔ جس کے بعد مزید دو واقعات ہوئے ہیں، ایک برج روڈ پر اور دوسرا کوٹیسمور روڈ کے علاقے میں۔‘

پولیس کی طرف سے ابھی تک ان واقعات کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

روب نکسن کا کہنا تھا کہ ’ان تینوں واقعات کی الگ الگ تحقیقات پوری ذمہ داری سے جاری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پولیس نے 28 اگست کو ہونے والے واقعے سے مبینہ طور پر منسلک پانچ افراد کی نشاندہی کی ہے اور صرف ان افراد کا نام شامل تفتیش ہے۔

راب نکسن نے کہا کہ پولیس کو اختیارات استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے ’لہذا اگر لوگ آوارہ گردی کر رہے ہیں اور چہرے کو ڈھانپ کر ہتھیار لے کر جا رہے ہیں تو میں توقع کروں گا کہ میرے افسران ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’لوگوں کا باہر نکل کر لیسٹر کی سڑکوں پر تشدد کرنا بالکل ناقابل قبول ہے۔ اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہمیں اس واقعے میں کسی بھی اضافے کو روکنے کے لیے مل کر متحرک ہونے کی ضرورت ہے اور میں آپ کی حوصلہ افزائی کروں گا کہ ہمارے ساتھ کام کریں اور شہر میں پرسکون ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری مدد کریں۔

یہ بھی پڑھیے

جب انگلینڈ کے کرکٹرز نے پاکستانی امپائر کو اغوا کر لیا

جب فاسٹ بولر کی گیند سے زخمی ہونے پر بلے بازوں سے پولیس نے رابطہ کیا!

پاکستان کے75 برس: جب انڈین کرکٹ کپتان نے طنز کیا کہ ’پاکستانی ٹیم تو سکول کی ٹیم ہے‘

انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ کے بعد لیسٹر میں ہجوم جمع ہونے پر ایک پولیس افسر اور ایک عام شہری پر حملہ کرنے کا ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آیا تھا۔

حکام کے مطابق پولیس کی نفری کو اتوار کے روز بیلگریو کے علاقے ہجوم جمع ہونے کی اطلاع کے بعد طلب کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ایک جوڑے پر حملہ کیا گیا جس میں ایک 28 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا۔

نفری طلب کیے جانے کے بعد لیسٹرشائر پولیس نے بتایا کہ ایشیا کپ میچ کے اختتام کے بعد افسران نے میلٹن روڈ، شافٹسبری ایونیو اور بیلگریو روڈ کے علاقے میں گشت شروع کیا۔

میچ کے بعد پولیس حکام نے کہا کہ اسے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ‘نسل پرستانہ اور نفرت انگیز نعرہ بازی’ کی متعدد ویڈیوز سے آگاہ کیا گیا ہے۔

لیسٹر شہر کا نقشہ

لیسٹر میں کافی بڑی تعداد میں انڈیا اور پاکستان کے لوگ آباد ہیں

پاکستان اور انڈیا کے درمیان جب بھی کسی دوسرے ملک میں یا برطانیہ کے اندر کوئی میچ ہوتا ہے تو دونوں ملکوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں میں انتہائی جوش و خروش دیکھنے کو ملتا ہے۔

لندن سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں مانچسٹر، برمنگھم، لیسٹر، بریڈ فورڈ اور دیگر جہگوں پر جہاں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت آباد ہے وہاں ایسے موقعوں پر اکثر کشیدگی دیکھنے میں آتی ہے لیکن نعرے بازی سے بات کبھی آگے نہیں بڑھی۔

ایک ٹویٹ میں مشرقی لیسٹر پولیس کی ٹیم نے کہا: ’ذمہ داروں کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ ہم اس نعرہ بازی کو نفرت انگیز جرم سمجھ رہے ہیں اور جس کسی نے بھی حصہ لیا ہے اس سے قانون کے مطابق اس سے نمٹا جائے گا۔‘

پولیس کی شہریوں کو اس علاقے سے دور رہنے کی ہدایت

پولیس نے شہریوں کو اس علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے اور یہ بتایاکہ وہاں پولیس اپنا آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

گرین لین روڈ کی ایک رہائشی نے بتایا کہ انھوں نے سنیچر کی شام جو کچھ دیکھا وہ بہت پریشان کن تھا۔ ساری صورتحال واقعی قابو سے باہر لگ رہی تھی۔‘

ان کے مطابق پولیس وہاں موجود تھی لیکن ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ اس معاملے کو بہتر انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ان کے مطابق لوگ اب بھی بہت خوفزدہ اور غیر یقینی محسوس کر رہے تھے، اور حال ہی میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس سے گذشتہ چند ہفتوں میں بہت زیادہ تناؤ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

لیسٹر سے رکن اسمبلی کلوڈیا ویبے نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں کو واپس چلے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ وقت غصے پر قابو پانے اور پرامن رہنے کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دلائل کو اچھے تعلقات رکھ کر مضبوط بنا سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ آپ کے خاندان آپ کے تحفظ سے متعلق پریشان ہوں گے، لہٰذا براہ مہربانی جو پولیس کہہ رہی ہے ایسا ہی کریں کیونکہ وہ کشیدگی ختم کرنے کی کوشش اور پرامن رہنے کی اپیل کر رہی ہے۔

مشرقی لیسٹر کے مقامی پولیس کمانڈر، انسپکٹر یعقوب اسماعیل نے کہا کہ ’مقامی اہلکار علاقے میں نوجوانوں، کمیونٹی رہنماؤں اور دیگر لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں کسی بھی تقریب کا اہتمام منصوبہ بندی اور مکمل احتیاط کے ساتھ کیا جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26020 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments