انڈیا میں حاملہ خاتون کی ہلاکت: ’نواسے، نواسی کا انتظار کر رہے تھے، انشورنس کمپنی نے میری بیٹی کی جان لے لی‘

آنند دت - بی بی سی ہندی کے لیے


مونیکا
گذشتہ برس ہی مونیکا کی شادی ہوئی تھی
انڈیا میں 22 سالہ مونیکا نامی خاتون اس وقت ہلاک ہو گئیں جب مبینہ طور پر قرض کی ریکوری کرنے والے ایجنٹ نے انھیں اپنی گاڑی سے کچل دیا۔

مونیکا کے خاندان کے مطابق وہ دو ماہ کی حاملہ تھیں اور اپنے پہلے بچے کی آمد کی تیاری کر رہی تھیں۔

بتایا گیا ہے کہ جمعرات، 15 ستمبر کو یہ واقعہ جھارکھنڈ کے ہزاری باغ ضلعے میں اس وقت پیش آیا جب مونیکا اپنے والد کے قرض کی رقم سے حاصل کردہ ٹریکٹر قبضے میں لیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں۔

مونیکا کے والد متھیلیش کمار مہتا نے بتایا ہے کہ انھوں نے سال 2018 میں مہندرا فنانس نامی کمپنی سے قرض لے کر ایک ٹریکٹر خریدا تھا اور کل 44 قسطیں ادا کی تھیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ’وہ کچھ دن پہلے باقی چھ قسطوں یعنی ایک لاکھ 20 ہزار روپے کی ادائیگی کے لیے گئے تھے جسے کمپنی نے لینے سے انکار کر دیا تھا۔‘

متھیلیش کمار مہتا نے کہا کہ ’کمپنی کے لوگوں نے کہا کہ اب انھیں ایک لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے۔ ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں کمپنی کے ایجنٹ 15 ستمبر کو ان کے گھر پہنچے اور وہاں کھڑا ٹریکٹر لے جانے لگے۔‘

متھیلیش اور ان کی بیٹی مونیکا نے اس کی مخالفت کی۔ اس سلسلے میں گاڑی لینے کے لیے آنے والے ایجنٹ نے حاملہ مونیکا پر گاڑی چڑھا دی۔

والد متھیلیش کے مطابق ملزمان نے گاڑی پیچھے کی اور سڑک پر گری ہوئی مونیکا پر دوسری بار گاڑی چڑھا دی اور پھر فرار ہو گئے۔

معاملے کی تحقیقات کرنے والے افسر اور اچک پولیس سٹیشن کے انچارج ایس آئی دھننجے سنگھ نے بتایا کہ مونیکا کے والد کی شکایت پر اس معاملے میں 16 ستمبر کو ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

آئی پی سی کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ایک نامزد ملزم کے علاوہ تین نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کی گئی ہے۔ لیکن ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

مونیکا کا خاندان

مونیکا کے خاندان کا کہنا ہے کہ انھیں انصاف چاہیے

ٹریکٹر کی بقایا رسم کا جھگڑا کیا تھا؟

مونیکا کے ماموں کے گھر یعنی سیجوا گاؤں میں میڈیا والوں کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ ان کی والدہ ریکھا دیوی دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔ کچھ دیر بعد ان کی آہں تو تھم گئی لیکن آنسو نہیں تھمے۔

ان کی چھوٹی بیٹی منیشا کماری اپنی ماں کو چپ کروا رہی تھی لیکن وہ خود بھی بلک بلک کر رونے لگیں۔ منیشا کی دونوں خالائیں پاس ہی بیٹھی تھیں۔ کبھی وہ اپنے آنسو خود پونچھ رہی تھی تو کبھی بہن کے۔

مونیکا کے والد متھیلیش کمار مہتا نے بی بی سی ہندی کے ساتھ پورا واقعہ شیئر کیا۔ انھوں نے بتایا ’سال 2018 میں، میں نے اپنا پرانا ٹریکٹر تبدیل کر کے نیا ٹریکٹر لیا تھا۔ پورے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے، میں نے بجاج فائنانس کمپنی سے قرض لیا اور کل 44 قسطوں میں رقم ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

’میں تقریباً تمام قسطیں ادا کر رہا تھا۔ لیکن لاک ڈاؤن کے دوران کچھ قسطیں وقت پر جمع نہیں کرائی گئیں۔ جس کی وجہ سے 44 کی بجائے کل 50 قسطیں جمع کرنی پڑیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس دوران کمپنی کے لوگ رقم کو لے کر مسلسل پریشان کر رہے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کمپنی کے لوگوں سے بات چیت ہوئی اور ایک لاکھ 20 ہزار روپے میں تصفیہ طے پایا۔

اس رقم کے ساتھ 18 جولائی کو وہ ہزاری باغ میں بجاج فائنانس کمپنی کے دفتر گئے۔ تاہم کمپنی کے ملازمین نے بتایا کہ انھیں ایک لاکھ 30 ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے۔

متھیلیش مہتا کہتے ہیں ’جب میں نے پوچھا کہ جب ایک لاکھ 20 ہزار روپے کی سیٹلمنٹ کی بات ہوئی تھی، تو پھر وہ مزید دس ہزار کیوں مانگ رہے ہیں۔ لیکن کمپنی کے ملازمین نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔‘

دس ہزار روپے کم پڑ رہے تھے، اس لیے میں وہ رقم لے کر گھر آگیا۔ اس دوران دس ہزار روپے تو جمع نہ ہو سکے، لیکن رکھی گئی رقم میں سے کچھ خرچ ضرور ہو گیا۔‘

اس کی وجہ سے ایک بار پھر کمپنی کے لوگوں کے فون آنے لگے۔ 14 ستمبر کو روشن سنگھ نامی ایجنٹ ان کے گھر آیا۔ فیصلہ ہوا کہ خاندان 22 ستمبر کو رقم جمع کرائے گا لیکن روشن سنگھ مقررہ تاریخ سے پہلے 15 ستمبر کو اپنے لوگوں کے ساتھ دوباہ ان کے گھر آیا۔

کسان متھیلیش کمار مہتا جو تقریباً پانچ ایکڑ زمین کے مالک ہیں کہتے ہیں کہ ’روشن سنگھ اور اس کے آدمی میرا ٹریکٹر لے جانے لگے۔ میں اس وقت کھیت میں کام کر رہا تھا۔ میری بیٹی مونیکا گھر پر تھی۔ جب اس نے دیکھا تو اس نے التجا کی لیکن ان لوگوں نے ایک نہ سنی اور ٹریکٹر لینے لگے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اسی دوران مونیکا میرے پاس آئی اور ٹریکٹر لے جانے والے ایجنٹ کے بارے میں بتایا۔ میں نے مونیکا کو موٹر سائیکل پر بٹھایا اور فوراً ان ایجنٹوں کا پیچھا کیا۔

’راستے میں انھیں روکنے اور ان سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ لوگ شور مچانے لگے۔ گاڑی میں بیٹھے لوگوں نے کہا کہ راستے سے ہٹ جاؤ۔‘

’میری بیٹی ان کا راستہ روک کر کھڑی تھی، انھوں نے گاڑی اس کے اوپر چڑھا دی۔ میں بیٹی کو لے کر ہزاری باغ صدر ہسپتال پہنچا۔

’وہاں ڈاکٹروں نے رانچی کے راجندر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس سے رجوع کرنے کا کہا۔ وہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔‘

مونیکا کی والدہ ریکھا دیوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ سب سے بڑی بیٹی تھی۔ گذشتہ سال بڑے شوق سے شادی کی تھی۔ شادی سے پہلے وہ سب کچھ سنبھال لیا کرتی تھی۔‘

مونیکا کی والدہ

ہم نواسے نواسی کا انتظار کر رہے تھے لیکن انشورنس کمپنی نے میری بیٹی کی جان لے لی ہمیں صرف انصاف چاہیے: مونیکا کی والدہ

مونیکا چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ اس کے دو چھوٹے بھائی اور ایک بہن ہے۔

ان کی والدہ یہ بتاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دیں کہ مونیکا دو ماہ کی حاملہ تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نواسے نواسی کا انتظار کر رہے تھے لیکن انشورنس کمپنی نے میری بیٹی کی جان لے لی ہمیں صرف انصاف چاہیے۔‘

مونیکا کی شادی 24 مئی 2021 کو ہوئی تھی۔ ان کے شوہر کلدیپ کمار ٹرک چلاتے ہیں۔

کلدیپ بتاتے ہیں ’ہم ہر روز بچے کے بارے میں بات کرتے تھے۔ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم اسے رانچی میں پڑھائیں گے۔ ڈاکٹر یا انجینیئر بنائیں گے۔‘

ساتھ ہی معاملے کی جانچ کرنے والے آئی او کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ بہت جلد پولیس تمام ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرے گی۔

کمپنی کا کیا موقف ہے؟

مہندرا رائز کمپنی کے ایم ڈی اور سی ای او ڈاکٹر انیش شاہ نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ’ہمیں ہزاری باغ کے واقعے سے بہت دکھ ہوا ہے۔

’ہم اس واقعے کے تمام پہلوؤں کی چھان بین کریں گے۔ اس کے علاوہ تھرڈ پارٹی کلیکشن ایجنسیاں بھی تحقیقات کریں گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اس واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ ہم غم کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں۔‘

تاہم متھیلیش کمار مہتا کے مطابق کمپنی کی جانب سے اب تک کسی نے ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

کیا ریکوری کا یہ طریقہ کار درست ہے؟

کمپنی کے مالک آنند مہندرا نے بھی اس واقعہ پر غم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ہزاری باغ میں کمپنی کے دفتر کو تالا لگا ہوا ہے۔

اس پورے معاملے پر جھارکھنڈ ہائی کورٹ کی وکیل سونل تیواری کا کہنا ہے کہ ’اس معاملے پر سپریم کورٹ کا ایک گائیڈ لائن ہے، جس کے مطابق آپ بھتہ خوروں کو بھیج کر قرض کی وصولی نہیں کر سکتے۔

’اس کے علاوہ، اگر آپ قرض کو بدلتے ہیں۔ اگر وہ وصولی کے لیے جاتا ہے تو اسے پہلے اس کے لیے نوٹس دینا ہو گا۔‘

اس پورے معاملے پر ماہر زراعت دیویندر شرما کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے پارلیمنٹ میں بتایا ہے کہ ملک بھر میں 10 ہزار سے زیادہ ول فل ڈیفالٹر ہیں، جو پیسے دے سکتے ہیں، لیکن آج تک کتنے وِل فل ڈیفالٹرز کو پکڑ کر جیل میں ڈالا گیا ہے۔ پھر ان سے رقم برآمد ہوئی ہے۔‘

وہ پوچھتے ہیں کہ ’کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ کچھ کارپوریٹس نے رقم واپس نہیں کی اور انھیں گھر واپسی کرنے والے ایجنٹ بھیجے گئے۔

’حکومت نے پچھلے پانچ سالوں میں کارپوریٹس کے 10 لاکھ کروڑ سے زیادہ کے قرضے معاف کیے ہیں۔ تو پھر کسانوں کے ساتھ ہی ایسا رویہ کیوں ہے؟‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ اس قسم کی امتیازی پالیسی کی وجہ سے ہی زراعت پر بحران گہرا ہوا ہے۔‘

قرض کی وصولی کے لیے طاقت کے استعمال کی یہ پہلی کہانی نہیں ہے۔ تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مونیکا کی موت کے بعد قرض لینے اور بدلے میں ہراساں کرنے والے کسانوں کی فہرست میں ایک اور نام شامل ہو گیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25926 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments