وقار حسین: ’احمد پور شرقیہ گزیٹئر‘ کے خواب سے ’وزیر آباد ڈائجسٹ‘ کی تکمیل تک

زیست کے اس سفر میں ہمیں کئی لوگ ملتے ہیں۔ کچھ بچھڑ جاتے ہیں، جب کہ بہت سے چہرے طاق نسیاں کی زینت بن جاتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ خوب صورت لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی دل ستاں یادیں الوہی چراغ کی صورت ہمارے آنکھوں میں لو دیتی ہیں اور خوش بو بن کر دل و دماغ کو مہکائے رکھتی ہیں۔ ایسے سندر لوگوں کی باز آفرینی ہماری زندگی کی ہم سفر بن کر تلخی ایام کو شیرینی امروز میں بدل دیتی ہے اور جن کے تصور سے ہی روح سپھل اور شانت ہو جاتی ہے۔
وقار حسین جنہیں ہم جانتے ہیں اور سچے دل سے مانتے ہیں، شاید ان کی یاد اور ان سے ہمارا تعلق بھی جاڑے کی گلابی دھوپ کی طرح تھے۔ بہت قیمتی لیکن بہت مختصر۔ پتا ہی نہیں چلا اور دن تمام ہو گیا۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے تعلق رکھنے والے اہل، اہل دل، لائق، ادب نواز اور باذوق جوان رعنا وقار حسین بیوروکریسی کی اس نایاب کھیپ سے ناتا رکھتے ہیں، جو اپنی معاملہ فہمی و فیصلہ سازی سے ملک و قوم کو سیاسی و انتظامی بحران کے گرداب سے نکالنے پر عبور رکھتی ہے۔ عوام کی خدمت اور انسانی ترقی و بھلائی کے نت نئے آئیڈیاز جنہیں ہمہ وقت متحرک رکھتے ہیں اور وہ انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔
انتظامیہ دراصل اس مہارت سے جنم لیتی ہے جو کسی علاقے کے عوام کی عادات و خصائل، رسم و رواج اور معیشت و معاشرت کے گہرے مطالعہ سے پیدا ہوتی ہے۔ سو وقار صاحب اسی مہارت اور مطالعہ کا حسین امتزاج ہیں۔ ان کی ہم سے یا ان سے ہماری پہلی ملاقات 28 اگست 2018 ء کو ’حادثاتی‘ طور پر ہوئی تھی۔ ہم میونسپل کمیٹی اوچ شریف میں ’مرحوم‘ کتاب سرائے کے مکین تھے اور وہ انہی دنوں احمد پور شرقیہ میں اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر تعینات ہوئے تھے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ سال 2016 ء۔ 2017 ء کے دوران میں ہہاول پور میں ڈپٹی کمشنر کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے علم دوست بیرسٹر ڈاکٹر احتشام انور صاحب نے 18 اگست 2018 ء کو فروغ ادب اور کتب بینی کے حوالے سے ہماری ادنی کاوشوں سے ’متاثر‘ ہو کر ”ملیے بہاول پور کے ایک حیرت انگیز شخص سے“ کے عنوان سے موقر نیوز ویب سائٹ ’ہم سب‘ پر ایک بلاگ تحریر کیا تھا۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے ایک سینئر افسر کی لکھی یہ تحریر ’حرز جاں‘ کے طور پر وقار صاحب نے بھی پڑھی۔
وہ 28 اگست 2018 ء کا ایک حبس آلود دن تھا، صبح کے ساڑھے دس کا وقت۔ یاد پڑتا ہے کہ ہم ’کتاب سرائے‘ کے مختصر احاطے میں اپنے لگائے پودوں سے ’ملاقات‘ اور ان کو پانی ’پلا‘ رہے تھے کہ اچانک اندر کمرے میں پڑے موبائل فون کی مترنم گھنٹی بج اٹھی۔ جا کر دیکھا تو موبائل فون کی سکرین پر اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ کے ریڈر محمد شہزاد کا نام جھلملا رہا تھا۔ ”جل تو جلال تو، آئی بلا کو ٹال تو“ کا ورد کرتے ہوئے کال اٹینڈ کی تو دوسری طرف سے شہزاد نے رسمی کلمات کے بعد یہ کہہ کر ہمارا ’تراہ‘ نکال لیا کہ ”اے سی صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔“
کچھ حیرانی بھی ہوئی اور پریشانی بھی۔ کیوں کہ ہماری ان سے کوئی شناسائی تھی اور نہ ہی ’جناح لائبریری‘ کا ان کے منصب سے براہ راست کوئی تعلق تھا۔ صرف اخبار میں ان کی تعیناتی کی خبر پڑھ کر ہی محض ان کے نام سے واقف تھے۔ جند ثانیے بعد ایک باوقار لب و لہجے کے ساتھ تازگی و نفاست سے معمور آواز ہمارے کان سے لگے موبائل فون پر ابھری۔ ”نعیم صاحب! میں وقار بات کر رہا ہوں۔ چند دنوں پہلے آپ کی تحصیل میں اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر تعینات ہوا ہوں۔ میں نے احتشام انور صاحب کی تحریر پڑھی ہے۔ آپ اوچ شریف میں کہاں ملیں گے؟ مجھے آپ سے بالمشافہ ملاقات کرنی ہے“ ۔
ہمارے یہ کہنے پر کہ ہم میونسپل کمیٹی اوچ شریف کی اسی جناح لائبریری میں موجود ہیں جس کا تذکرہ احتشام انور صاحب نے اپنے کالم میں کیا ہے تو انہوں نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ ”ہم آدھے گھنٹے میں آپ کے پاس آ رہے ہیں۔“ اور پھر واقعی وہ آدھے گھنٹے بعد آ بھی گئے۔ اے سی صاحب کی اچانک ’آمد‘ پر دفتر میں بھونچال سا آ گیا۔ وہ گاڑی سے اترے اور شہزاد کی معیت میں سیدھا ’جناح لائبریری‘ چلے آئے۔ لائبریری پہنچنے تک چیئرمین میونسپل کمیٹی سید سبطین حیدر بخاری صاحب، چیف افسر قاضی محمد نعیم صاحب اور دیگر صاحبان بھی ان کے پیچھے آ گئے۔
ہم نے دروازے پر ان کا خیر مقدم کیا۔ والہانہ پن سے ملے۔ اور چیئرمین صاحب اور چیف افسر صاحب سے کہنے لگے کہ ”آپ نے نعیم کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر صاحب کا کالم پڑھا ہے؟ میں آج صرف ان سے ملنے کے لیے آیا ہوں۔ اور لائبریری میں ہی کچھ وقت گزاروں گا“ ۔ سوائے چیف افسر صاحب کے، باقی تمام لوگ اپنی آنکھوں میں حیرانی سجائے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے کہ چیئرمین صاحب کے دفتر میں بیٹھنے کی بجائے اے سی صاحب کا لائبریری میں کیا اہم کام ہو سکتا ہے۔
وقار صاحب لائبریری میں داخل ہوئے۔ کتابوں کا جائزہ لیا۔ مختلف مصنفین اور کتابوں کے بارے میں ہم سے پوچھا۔ پھر سٹڈی ٹیبل کے گرد بیٹھ کر انہوں نے لائبریری کے قیام، بلڈنگ کی تعمیر، اس کے انتظام، درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تفصیلات معلوم کیں اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ گفتگو کے دوران میں انہوں نے کہا کہ علم اور کتب خانے ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں، مہذب معاشرہ ایک منظم کتب خانے کی ضرورت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا، علم کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہمارے سکول، کالج اور یونیورسٹیاں ہیں مگر ان میں صرف نصابی تعلیم دی جاتی ہے، عملی زندگی کے راستے پر مسلسل گامزن رہنے کا ذریعہ کتب خانے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی تعلیم یافتہ معاشرے میں لائبریری اور قارئین کا چولی دامن کا ساتھ ہے، افراد کی تربیت اور ترقی میں لائبریریاں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، ان کی موجودگی اور عدم موجودگی کسی بھی آبادی کے تہذیبی رجحانات اور ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں، موجودہ دور میں لائبریری کا دائرہ کار عمل، علم اور سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔
دوران گفتگو وقار صاحب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جناح لائبریری کی ترقی کے حوالے سے ہم سے جو کچھ بھی ہو سکا، وہ ہم کریں گے، انہوں نے اپنی پرانی یادوں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے شہر کراچی میں اسی طرح کی ایک چھوٹی سی لائبریری تھی جہاں جا کر میں سی ایس ایس کی تیاری کرتا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ عہد رفتہ میں انگریز ڈپٹی کمشنر اپنی تعیناتی کے دوران اس ضلع کا ایک گزیٹئر تشکیل دیتے تھے، تاہم اب کافی عرصہ سے یہ روایت ختم ہو کر رہ گئی ہے، انہوں نے ہم سے اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ میں تحصیل احمد پور شرقیہ کے گزیٹئر کی تشکیل کے لیے کام کروں، اس سلسلے میں انہوں نے مکمل طور پر سرکاری معاونت فراہم کیے جانے کی یقین دہانی کرائی۔ اس پہلی ملاقات میں انہوں نے علم و ادب اور تاریخ و ثقافت کے موضوعات، تحصیل احمد پور شرقیہ کے ادبی منظر نامے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس پہلی ملاقات کے بعد ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔
25 جولائی 2018 ء کو عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کو مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے کا موقع ملا اور چند ماہ بعد ہی پنجاب اسمبلی سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ مجریہ 2019 ء کی منظوری کے بعد 4 مئی 2019 ء کو صوبائی حکومت نے گزٹ نوٹیفیکیشن کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو تحلیل کر کے با لحاظ عہدہ اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ، وقار صاحب کو میونسپل کمیٹی اوچ شریف کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔
نئے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد ان کی دفتری ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا تاہم ہر ہفتے اوچ شریف آمد پر وہ جناح لائبریری کے لیے وقت ضرور نکالتے۔ احمد پور شرقیہ کے گزیٹئر کی تشکیل کے حوالے سے بھی ہمارا کام دھیرے دھیرے پایہ تکمیل تک پہنچ رہا تھا کہ اچانک 24 جون 2019 ء کو ان کا تبادلہ وزیر آباد کر دیا گیا لہذا ان کا یہ خواب تشنہ تکمیل ہی رہا۔
وہ 7 مارچ 2020 ء کی ایک روپہلی شام تھی۔ جب وقار صاحب کا فون آیا۔ دعا سلام اور حال احوال کے بعد کہنے لگے کہ ”احمد پور شرقیہ ایک مشکل تحصیل تھی، دفتری امور سے فراغت ہی نہ ملتی تھی، دفتری عملے کو انگلی سے پکڑ کر ہر کام سکھانا اور کرانا پڑتا تھا۔ وزیر آباد میں تو دفتری عملہ چھوٹے موٹے معاملات خود ہی حل کر دیا کرتا ہے۔ لہذا یہاں کچھ فراغت میسر آئی تو میں نے اس تحصیل کے گزیٹئر پر کام شروع کیا۔ ’وزیر آباد ڈائجسٹ‘ کے نام سے اس کی اشاعت ہو چکی ہے۔ میں آپ کو ’وزیر آباد ڈائجسٹ‘ کے اشاعت کی اطلاع دیتے ہوئے بہت خوش ہوں۔ اس کی دو کاپیاں آپ بھیج رہا ہوں۔ ایک آپ کے لیے اور دوسری کاپی اپنی لائبریری میں رکھوا دیجیے گا تاکہ دوسرے لوگ بھی مستفید ہو سکیں۔ اور دوسری بات یہ کہ اس پر تبصرہ بھی ضرور لکھیے گا۔“
دوسرے دن ہی کوریئر کے ذریعے ’وزیر آباد ڈائجسٹ‘ کی دو کاپیوں کا پارسل موصول ہوا۔ ان کے حکم کی تعمیل میں ہم نے ایک کاپی لائبریری میں ہی رکھوا دی۔ وقار صاحب کی محنت اور مشقت کا عکس ’وزیر آباد ڈائجسٹ‘ کی شکل میں ہمارے ہاتھ میں تھا۔ دیدہ زیب چہار رنگی طباعت، اعلی معیار کے صفحات، معلومات افزاء خوب صورت تصاویر اور دلچسپ حقائق کے ساتھ یہ کتاب واقعی تحصیل وزیر آباد کا انسائیکلو پیڈیا تھی۔ ہمیں خوشی بھی تھی کہ احمد پور شرقیہ نہ سہی، وزیر آباد ہی سہی، چلو ان کا دیرینہ خواب تو پورا ہوا۔
کتاب پڑھ کر سوچا تھا کہ فراغت میں اس پر تسلی سے تبصرہ لکھیں گے لیکن گاہے ہماری روایتی سستی اور گاہے ہمہ وقتی مصروفیات نے ہمیں اس کام سے روکے رکھا۔ ملتان تبادلے کے بعد تو دفتری امور نے لکھنے پڑھنے کی مشق سے ہی بے گانہ کر دیا۔ چند دنوں کے لیے دفتر سے فراغت نصیب ہوئی تو اپنے کمرے کی صفائی کا سوچا۔ اس دوران میں کتابوں کی ترتیب درست کرتے ہوئے اچانک ’وزیر آباد ڈائجسٹ‘ ہمارے سامنے آ گیا۔ کتاب سامنے آئی تو وقار صاحب کا ہنستا مسکراتا چہرہ اور تبصرے کے حوالے سے ان کی تاکید یاد آ گئی۔ یوں اب ”رو میں ہے رخش قلم۔ کاش تحصیل احمد پور شرقیہ میں بھی کوئی ایسا اسسٹنٹ کمشنر آئے جو ’احمد پور شرقیہ ڈائجسٹ‘ مرتب کرے۔

