عائشہ کمال کا ایک پینٹنگ کے عوض پانج ہزار سے 50 لاکھ روپے تک کمانے کا سفر

موسیٰ یاوری - بی بی سی اردو


عائشہ کو عجیب و غریب ای میلز اور موبائل میسجز ملنا اب عام سی بات تھی۔ ان ای میلز اور پیغامات میں اُن سے عجیب و غریب قسم کی فرمائشیں کی جاتی تھیں۔

اُن کو موصول ہونے والے ایک میسج کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

خریدار: ’میرا تعلق کینیڈا سے ہیں۔ کیا آپ کے پاس کوئی ’نیوڈ آرٹ‘ ہے؟ میں آپ کو ڈالرز میں قیمت ادا کروں گا۔‘

عائشہ: ’نہیں میرے پاس اس طرح کا کام نہیں ہے۔‘

خریدار: ’اگر آپ اس طرح کے سکیچز کر سکتی ہیں تو میں آپ کو 1700 کینیڈین ڈالرز تک دے سکتا ہوں۔۔۔‘

عائشہ کو اگرچہ تسلسل سے ایسے پیغامات موصول ہوتے رہتے تھے جن میں انھیں کثیر رقم کے عوض مخصوص پینٹنگز بنانے کی ترغیب دی جاتی تھی تاہم، اُن کے مطابق، وہ اپنے ’اصل کام‘ یعنی اسلامک خطاطی کے ذریعے ہی اپنی پہچان اور نام بنانا چاہتی تھی۔

عائشہ کے مطابق اس نوعیت کے میسجز موصول ہونے کے بعد بعض اوقات وہ سوچنے پر مجبور بھی ہو جاتی تھیں کہ انھیں اپنا کام چھوڑ کر گیلریز کے کہنے پر فن پارے بنانے چاہییں تاکہ کچھ رقم مل سکے۔

مگر پھر وہ یہ سوچ اپنے ذہن سے جھٹک دیتیں کیونکہ انھیں تو صرف خطاطی کرنے میں سکون ملتا تھا۔ مگر شاید انھیں اندازہ نہیں تھا کہ اپنی ان کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور عائشہ سے عائشہ کمال بننے میں انھیں دس سال لگیں گے۔

اپنے کام سے یہی لگن تھی کہ پھر عائشہ کی زندگی میں وہ ناقابلِ فراموش دن بھی آیا جب انھیں اُن کی بنائی ہوئی ایک پینٹنگ کے عوض 50 لاکھ روپے کی آفر موصول ہوئی۔ یہ اُن کے 10 سالہ انتھک محنت کا صلہ تھا جو اب جا کر شاید لوگوں کو سمجھ میں آنا شروع ہوا تھا۔

لیکن انھیں وہ وقت بھی یاد ہے جب ان کی پہلی بنائی ہوئی پینٹنگ فقط پانچ روپے میں فروخت ہوئی تھی۔ عائشہ کا ایک دہائی پر محیط اور پانچ ہزار سے 50 لاکھ تک کا سفر اتنا آسان نہیں تھا۔

عائشہ کمال ایک ’ماڈرن اسلامک خطاط (کیلی گرافر)‘ ہیں۔ یعنی وہ قرآنی آیات کی خطاطی کرتی ہیں۔ قرآنی آیات سے لگاؤ اور انھیں مختلف رنگوں سے لکھنا انھیں بچپن سے ہی بہت پسند تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ بچپن میں ایک حافظِ قرآن سے انھوں نے قرآن پڑھنا سیکھا۔ ’اس وقت مجھے اللہ کے مختلف نام بھی حافظ صاحب نے یاد کروائے۔۔۔ تو میں انھی ناموں اور مختلف عربی کے الفاظ کو ہوا میں لکھنے کی کوشش کرتی تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

ہمارے بڑے یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ نئی نسل ’کاہل، کام چور یا کم ہمت‘ ہے؟

’لوگ کیا کہیں گے۔۔۔ لڑکیاں تھوڑا ہی یہ سب کرتی ہیں‘

اگر دنیا کا نظام نوجوان چلائیں تو کیا یہ بہتر ہوگا؟

بیٹی نے جعلی عامل کے ساتھ مل کر ماں سے 14 کروڑ ڈالر لُوٹ لیے

لیکن بچپن میں انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ہوا میں لکھنے سے کینوس تک کا سفر اور اس کے بعد اپنے آپ کو دنیا کے سامنے منوانا اتنا آسان نہیں تھا۔

عائشہ کو اس بات کا احساس ہمیشہ سے رہا تھا کہ وہ گھر میں سب سے بڑی ہیں۔ ان کے علم میں یہ بات بھی تھی کہ جب وہ پیدا ہوئیں تھی تو ان کے گھر والے بیٹا پیدا ہونے کی امید کر رہے تھے۔

’میری امی کی خواہش تھی کہ گھر میں بیٹا پیدا ہو۔‘ اُن کے امی کی یہ خواہش پوری تو ہوئی لیکن کئی سال بعد۔ لیکن والد کی جلد وفات اور گھر میں سب سے بڑا ہونے کی ذمہ داری کا احساس انھیں ہمیشہ سے تھا۔

BBC

’گھر والے ہمیشہ کہتے تھے کہ یہ کام چھوڑ دو، یا پھر شادی کر لو‘

اپنے شوق کو اپنا پروفیشن بنانے کے دوران اُن کی زندگی میں کئی ایسے واقعات بھی پیش آئے جن کے باعث انھیں اس بات کا احساس بھی ہوتا تھا کہ انھیں اپنے بچپن کے شوق کو چھوڑ کر کچھ اور کر لینا چاہیے۔ یا پھر خطاطی چھوڑ کر اس طرح کی پینٹنگز بنانی چاہییں جو مارکیٹ میں فروخت بھی ہو سکیں یا جن کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ ہو۔

یہ وہ وقت تھا جب گھر والے عائشہ کو کوئی اور کام کرنے کا مشورہ دیتے یا پھر ایک اور مسئلہ ہمیشہ سامنے آتا گھر والوں کی طرف سے۔۔۔ ’مجھے گھر والے ہمیشہ کہتے تھے کہ یہ کام چھوڑ دو، یا پھر آرام سے شادی کر لو۔‘

دوسری طرف گیلریز والے بھی ان سے ان کے کام کی بجائے اور طرح کا کام مانگتے۔ ’گیلریز والے ہمیشہ دل توڑتے تھے۔ وہ کہتے تھے اس طرح کا کام نہیں بِک سکتا۔‘

عائشہ کو ایک دفعہ نہیں بلکہ ان تمام برسوں کے دوران کئی بار یہ سُننا پڑا کہ آپ کا کام نہیں فروخت ہو سکتا اور اگر آپ ’نیوڈ پینٹنگز یا پھر ایسا کام کریں جس کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ ہو‘ تب آپ کا کام فروخت ہو گا۔

’جب رات کو سب سو جاتے تھے تو میں اکیلے میں روتی تھی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ مجھے اپنی پینٹنگز کو دوبارہ ٹھیک کرنا پڑتا، کیونکہ میرے آنسو اُس پر گِر جاتے تھے۔‘

BBC

عائشہ چاہتی تھیں کہ باقی مشہور لوگوں کی طرح اُن کا کام بھی کوئی خریدے۔ ’ایک دو گیلریز نے پھر میرا کام خریدنا شروع کیا لیکن وہ بھی صرف پانچ، چھ ہزار میں خریدتے تھے۔ یہ بھی وہ اس شرط پر خریدتے کہ کہ پیسے آپ کو ابھی نہیں مل سکتے، جب کام فروخت ہو گا تو رقم ملے گی۔‘

لیکن اس سب کے باوجود انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔

اس دوران عائشہ نے پاکستان کے نامور خطاط عامر کمال سے تربیت بھی حاصل کی، اور اپنا کام جاری رکھا۔

BBC

اُن کی زندگی میں اس وقت بدلاؤ آیا جب اُن کے کام کی پہلی نمائش سنہ 2016 میں دبئی میں منعقد ہوئی اور پھر انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس دوران عائشہ نے مختلف ملکوں میں اپنے فن پاروں کی نمائشیں کیں۔

حال ہی میں انھوں نے بیلا روس میں اپنے فن پاروں کی رونمائی کی اور ساتھ ہی اس نمائش کے دوران ایک ماسٹر کلاس بھی لی۔ یورپ میں عائشہ کے کام کو بہت سراہا گیا۔

عائشہ کے مطابق اب انھی گیلریز سے فون اور میسجز آتے ہیں کہ میں اُن کے لیے کام کروں لیکن اب ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا۔

عائشہ نے انٹرویو کے دوران ایک سرد آہ بھری اور شکوہ بھرے لہجے میں کہا کہ ’ہمارے ملک میں آرٹسٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انھیں اپنے ملک میں پہلے عزت تو ملے۔ میں جب باقی ملکوں سے ہو کر آ گئی ہوں تو اب انھی گیلریز والوں کو میرے کام کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہے لیکن اب میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔‘

BBC

عائشہ کے اس دس سالہ سفر کے دوران تلخ اور شیریں یادیں تو بہت ہیں مگر ان کے لیے سب سے یادگار لمحہ کون سا ہے؟ میں نے جب اُن سے پوچھا تو انھوں نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا ’پیسے تو آنے جانے والی چیز ہے، لیکن جب مجھے صرف ایک فن پارے کے 50 لاکھ ملے تو میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ تم میری بیٹی نہیں میرا بیٹا ہو۔۔۔ یہ سن کر مجھے بہت سکون اور خوشی ملی تھی۔‘

عائشہ کی پیدائش کے بعد اُن کے گھر میں ان کے چھوٹے بھائی کی پیدائش تو ہو گئی تھی لیکن اُن کی امی کی یہ خواہش اور سوچ کہ ان کے گھر میں پہلے بیٹا پیدا ہوتا، کو عائشہ نے کئی دہائیوں بعد بدل دیا تھا۔

عائشہ کو اب بھی نیوڈ آرٹ بنانے کی پیشکش ہوتی ہے لیکن اب وہ اس نوعیت کے پیغامات پر توجہ دینے کی بجائے اگلے مہینے امریکہ میں ہونے والی ایک نمائش پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26021 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments