تبصرہ کتاب: وینٹی لیٹر پر پڑی یادیں


رات کے تقریباً دو بجے تھے۔ نیند کا میرے قریب آنے کا ذرا بھی ارادہ نہیں تھا۔ میرے کمرے میں بیڈ اور میرے بک شیلف کے درمیان کوئی خاص فاصلہ نہیں ہے۔ میں نے بک ریک پر نظر دوڑائی اور کتاب ہاتھوں میں تھام کر دیوان لے کر بیٹھ گئی۔ یہ کتاب میرے دل کے انتہائی قریب ہے اس کی خاص وجہ یہ ہے یہ میرے دل کے قریب میری بہترین دوست فاطمہ شیروانی نے لکھی ہے۔ فاطمہ وہ ہے جس کے تعارف کے بغیر میرا تعارف نامکمل ہوتا ہے۔ فاطمہ خان کی تحریروں کی پرستار تو میں آج سے چار سال قبل ہی ہو گئی تھی جب تیرے قرب کی خوشبو کا مطالعہ کیا تھا اس کے بعد فاطمہ کا سفرنامہ اے وادی کمراٹ پڑھنے کو ملا اور وقتاً فوقتاً کالم اور افسانے پڑھے۔ ہر تحریر دل کو چھو لینے والی مکمل تسلسل کے ساتھ انتہائی عمدہ معلوم ہوئی۔ حال ہی میں کتاب ”وینٹی لیٹر پر پڑی یادیں“ کا مطالعہ کیا کیوں کہ یہ شب ہفتے کی تھی اگلے روز کوئی خاص ذمہ داری میرے سر نہیں تھی میں نے کتاب پہلی نشست میں پڑھنے کا فیصلہ کیا۔

کتاب 180 صفحات پر مشتمل ہے اور افسانوں کا مجموعہ ہے۔ چند افسانے میں نے پہلے سے ہی پڑھ لئے تھے اور چند افسانے نئے تھے جنھیں پڑھ کر مجھے انتہائی اچھا لگا۔

مجھے ذاتی طور پر چند افسانے بہت پسند آئے جن میں ”ایک اداس لڑکی کی کہانی“ جو چائے خانہ کی کہانی سے منسوب ہے۔ ”اولاد“ جس میں عورت کی بے بسی کی داستان انتہائی خوبصورتی اور درد کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ ”میری بھی ماں ہے“ خواجہ سرا کی درد ناک کہانی جس کو پڑھ کر میری آنکھوں میں نمی چھا گئی۔ ”مقدمہ“ افسانہ جس میں کامیاب وکیل کی ناکام ازدواجی زندگی کا درد پڑھا۔ ”عام سا مرد“ جس میں فاطمہ نے محبت سے رسوائی تک کا سفر بیان کیا ہے۔ ”آخری محبت نامہ“ جو ترکی کے شہر استنبول سے منسوب ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ”اوس میں بھیگا لمحہ“ میرے دل کو چھو گیا۔

فاطمہ نے کبھی بھی اپنی دوستوں کے لیے محبت کے اظہار میں کنجوسی نہیں کی۔ اس ہی طرح فاطمہ نے اپنے دل کے قریب اپنی بہن عمارہ کے نام کتاب کا انتساب کیا ہے اور اپنی دوست سائرہ کے نام افسانہ ”تیرے جانے کے بعد“ لکھا۔ جس کو داد دیے بغیر مجھ سے رہا نہیں گیا۔

میں دعاگو ہوں اللہ فاطمہ کے علم میں اضافہ فرمائے اور ہمیشہ لکھنے کی سعادت نصیب کرے۔ آمین۔ الہی آمین۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments