جون ایلیا کا مراسلہ از جنت


شفاعت بالے،

نہیں معلوم کہ تجھے اپنی پیشانی پہ میری ڈھیروں مٹھیاں محسوس ہوئیں کہ نہیں۔ ٹویٹر کی ایک خلا میں تیرے اس جملے کی گونج کہ: ”اس وقت صرف دو موضوعات پہ گفتگو ہونی چاہیے ایک سیلاب اور دوسری طالبان کی سوات میں آمد۔“ نے مجھے یعنی تیرے اس عاصی، فقیر، سرخے چچا کو تیرا گرویدہ کر دیا۔ خون حسین کی قسم، جی چاہا تیری بلائیں لے لوں اور اس حد تک لیں کہ ان جنتی انگلیوں کے کٹاکوں سے اہل جنت کو بھی این ڈی ایم اے کے چیئرمین کی گمشدگی کی خبر ہو گئی۔

فیض بھائی کہنے لگے کہ اس جملہ کی گونج اس خاموشی کی گونج جیسی ہے جس کی وجہ سے مملکت خداداد کا میڈیا جسے عربی میں وسائل الاعلام کہا جائے گا مگر اہالیان فہم و دانش اسے وسائل الآلام سمجھیں گے، وہ صرف اور صرف عمرانی شور نشر کر رہا ہے۔ انہیں اپنا شعر یاد آ گیا کہ:

اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے

اور وہ جواب صرف نہ ہے۔ مجھ یہاں بھی سمجھایا گیا کہ لوگ بہت کچھ کر رہے ہیں۔ میں مانتا ہوں۔ مگر پھر بھی کچھ نہیں کر رہے۔ بالے 34 لاکھ بچہ۔ چار کروڑ عوام۔ ساڑھے تین لاکھ زچہ۔ ساڑھے تین سے چار ہزار ولادتیں روزانہ کھڑے پانی کی انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں ہیں۔ بقول کیفی بھائی:

اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑے
ہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے

17 جون کو لسبیلہ میں پہلا سیلاب آیا تھا۔ 2 ماہ سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا۔ ہم نے ٹی 20 ایشیا کپ ہار لیا۔ اس پہ خوشیاں بھی منا لیں۔ اس پہ بین بھی کر لئے۔ نصف ارب ڈالر کے طیارے خرید لئے اور سیلاب زدگان کا وہ حال ہے کہ الامان الحفیظ۔

این ڈی ایم اے یعنی نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی یعنی قومی ادارہ انتظام آفات کا سربراہ ایک جرنیل ہے کیونکہ فوج کے علاوہ انتظامی صلاحیت کے حامل افراد اس قحط الرجال کی ماری مملکت خدا داد میں ہیں ہی نہیں۔ مری میں لوگ سردی سے جم کے مر گئے۔ ادارہ کچھ نہ کر پایا۔ کیا کرتا؟ اس کا کام انتظام آفات ہے اور مملکت خدا داد کی رعیت پہ تو عذاب الہی نازل ہوا تھا۔ سیلاب آیا اور جس کو اکابرین دین نے عذاب الہی قرار دیا۔ ادارہ کیونکہ فعال اراکین پہ مشتمل ہے اس نے حق سے بڑھ کے کیا اور عذاب کا شمار رکھنا شروع کر دیا۔ اب ہر ہفتہ کے اختتام پہ وہ خدائی عذاب کے مستحقین کا حال مفصل بیان کرتا ہے۔ اس فعال کارکردگی پہ اس گھبرو جوان جرنیل نواز ستی کو جسے اس آفت کی چتا پہ ستی ہی ہو جانا چاہیے کو نوازا جائے گا۔ فیض صاحب کو آمد ہوئی ہے اور کہہ رہے ہیں :

ان کے حصہ میں ان کی جاب آئے
آئے خلقت پہ جو عذاب آئے

جانی، اب آ جا عمران خان اور اس کے خانخواہوں کی طرف۔ ایک شخص جو اس سیلابی ماحول میں صرف سیاسی جلسے کر رہا ہے۔ خانخواہوں کو یہ تو یاد ہے کہ خلیفہ دوئم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ فرات پہ ایک کتا اگر بھوکا مر جائے تو اس پہ میرا حساب ہو گا مگر ان کروڑوں کی حالت پہ جو کہ بھوکے اور بیمار مر رہے ہیں اس پہ اس کے زیر حکومت پنجاب اور پختونخوا میں بھی صرف شہباز شریف کا ہی حساب ہو گا۔ بھئی ان 15 ارب کا کیا ہوا جو جمع ہوئے تھے۔ معلومات پہ حق کے قانون کے داعی یہ معلومات فراہم کرنے کو تیار نہیں۔ جلسوں اور تقاریر کے لئے ان کے پاس وافر وقت ہے مگر سیلاب زدگان کے ساتھ تصاویر اتروانے کے لئے وہ بہت کم وقت نکال پائے۔

خان خاناں کا مقصد صرف یہ ہے کہ اگلے مقتدر اعلیٰ کی تقرری اس کے ہاتھوں ہو۔ فیض بھائی پہ پھر آمد ہوئی ہے۔ کہہ رہے ہیں کہ عمران کا مقصد یہ ہے کہ:

بام پنڈی سے انتخاب اترے
اور عمران کامیاب آئے
باقی کچھ اور اشعار بھی ان سے سرزد ہوئے ہیں۔
توشہ خانہ ملک ریاض ملے
سامنے جب وہ بے نقاب آئے
خود پرستی مجھے ہے بیماری
ملک میں لاکھ سیل آب آئے
میرے جلسے کہاں رہے اچھے
ان میں کب خانماں خراب آئے
جلسہ گاہیں بہت تھی سونی فیض
آج تم یاد بے حساب آئے
یہ فیض فیض بھائی نہیں بہاولپور والا ہے۔

باقی یہ ہے کہ تخم طاغوت کے شور  نے ایک طرف تو سیلاب کی طرف سے قوم کے تخیل و ادراک کو بیگانہ کیا ہے اور دوسری طرف طالبان کی سوات میں سرگرمیوں سے غافل رکھا ہے۔ فساد اور رد فساد کا مصنف اپنی کتاب کا نیا باب لکھ رہا ہے۔ یہ وہی ہے جو خدائے رحیم و کریم کو خدائے غیظ و غضب کہتا ہے اور عوام کو خوفزدہ کر کے خود کو بادشاہ جہاں، والی ماسوا، نائب اللہ فی الارض، کہتا ہے۔ مشیت ایزدی عجب ہے کہ اس شیطان کی رسی کو تا ابد ڈھیل دی گئی ہے۔ جوش صاحب دعاگو ہیں :

کر بھی دے معزول ان ارباب عزوجاہ کو
آسمانوں سے خدا کو اور زمیں سے شاہ کو
سیلاب زدگان پہ اور کیا کہوں۔ اپنا یہ شعر بار بار پڑھتا ہوں اور سینہ کوبی کرتا ہوں۔
نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پر
اپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے

جانی، تو تو مملکت خدا داد کی اشرافیہ سے ملتا رہتا ہے۔ تجھ پہ واجب ہے کہ تو ان سے کہہ دے کہ تو ایک جھوٹ ہے۔ ایک ڈھکوسلہ ہے۔ جتنا چاہیں ابھی دیکھ لیں۔ تو آخرت میں ان کے لئے ہونے کا ہی نہیں ہے۔

بالے جاتے جاتے افسر میرٹھی کے الفاظ میں اپنی دعا سنتا جا اور اس کی قبولیت کی سند تو تیرے اعمال ہیں ہی۔

اف وہ آنکھیں کہ ہیں بینائی سے محروم کہیں
روشنی جن میں نہیں نور جن آنکھوں میں نہیں
میں ان آنکھوں کے لیے نور ضیا بن جاؤں
ہائے وہ دل جو تڑپتا ہوا گھر سے نکلے
اف وہ آنسو جو کسی دیدۂ تر سے نکلے
میں اس آنسو کے سکھانے کو ہوا بن جاؤں
دور منزل سے اگر راہ میں تھک جائے کوئی
جب مسافر کہیں رستے سے بھٹک جائے کوئی
خضر کا کام کروں راہنما بن جاؤں

جیتا رہ اور کار ہائے خیر جاری اور نعرہ حق بلند رکھ۔

تیرا دعاگو و مداح

جون ایلیا


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عین سین کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments