قدرتی آفات سے نمٹنے میں یونیورسٹیوں کا کردار


قدرتی آفات جہاں کسی بھی ملک کے سسٹم کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیتی ہیں وہیں قوموں کو سو چنے پر مجبور کرتی ہیں کہ ان آفات سے مکمل طور پر بچنا تو شاید ممکن نہ ہو لیکن کم از کم ایسا مربوط نظام ترتیب دیا جائے جو ان آفات سے ہونے والے نقصان کو کم کرے۔ جدید قومیں اپنے مسائل کے حل کے لئے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی طرف دیکھتی ہیں اور ان سے توقع رکھتی ہیں کہ وہ مسائل سے نمٹنے کے لئے حل تجویز کریں گے۔

جدید دنیا اپنے اعلی تعلیمی اداروں سے توقع کرتی ہے کہ وہ انہیں ایسی ٹرینڈ فورس مہیا کریں گے جو ان مخصوص حالات میں فوری ردعمل دیں گے اور آفات کے نتیجہ میں ہونے والا نقصان کم سے کم ہو گا۔

اسی تناظر میں یونیورسیٹیز نے ایسے ڈیپارٹمنٹ قائم کیے جو آفات سے بچاؤ، نقصان کو کم کرنے، مناسب ترتیب دینے اور آفات آ جانے کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال میں کام کرنے کے لئے ایسی افرادی قوت مہیا کرتے ہیں۔

جو فوری ردعمل دیتے ہیں تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جا سکے اور کوئی انسانی المیہ جنم نہ لے۔ وہ نہ صرف ان حالات کو بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ ان حالات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کو بھی قابو میں رکھنے کی سعی کرتے ہیں۔

پاکستانی یونیورسٹیوں کو دیکھا جائے تو یہاں بھی ایسے ادارے قائم کیے گئے جو ناگہانی آفات سے بچنے سے متعلق ڈگریاں دیتے ہیں۔ طلبہ داخلہ بھی لیتے ہیں اور ڈگریاں بھی۔ بظاہر تو ان ڈگریوں کے ساتھ نوکری کا کوئی اور میدان نظر نہیں آتا۔ اور جب پاکستان کے زمینی حالات کا جائزہ لیا جائے تو اس تربیت یافتہ افرادی قوت کا کہیں کوئی کردار نظر نہیں آتا۔

یہاں سیلاب آئے، زلزلے آئے اور اپنے پیچھے دل ہلا دینے والی داستانیں چھوڑ گے۔ وقت نے ہی ان دکھوں کا مداوا کیا۔ اور ہماری تان امداد پر جا کر ہی ٹوٹتی ہے۔ امداد کی تقسیم کی بھی اپنی ہی کہانیاں ہیں۔ انسانیت کی خاطر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نکلتے ہیں۔ دوسری طرف حکومتی اداروں کی بات کی جائے تو ان کی کارکردگی کے متعلق میڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

ھونا تو یہ چاہیے کہ یونیورسٹیاں، قدرتی آفات سے نمٹنے والے اداروں کے ساتھ رابطے میں رہیں، اپنے طلبہ کو ان اداروں میں انٹر شپ کروائیں اور ان اداروں کو افرادی قوت مہیا کریں۔ دوسری طرف کبھی کوئی ایسا سروے یا رپورٹ نظر سے نہیں گزری جو بتائے کہ جن طلبہ نے یہ مخصوص ڈگریاں لیں انہیں جاب کہاں ملی۔

موجودہ سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو کہیں بھی اس ناگہانی آفت سے نمٹنے کے لیے مربوط نظام یا کوئی ٹھوس لائحہ عمل نظر نہیں آیا۔ جن علاقوں میں سیلاب آیا وہ لوگ آج بھی کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں۔ ایک دفعہ پھر شاید وقت ہی ان کا مداوا کرے۔ لیکن کب تک ایسا چلے گا۔ اب شاید وہ وقت آ گیا ہے کہ ہمیں سوچنا ہو گا کہ امداد، کوئی مستقل حل نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ یونیورسیٹیز کو یہ کام تفویض کرے کہ وہ ان حالات سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ دیں اور حکومت ان یونیورسیٹیز کر مالی مدد فراہم کرے تاکہ اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

یونیورسیٹیز کو بھی چاہیے کی حکومت سے مطالبہ کریں کہ ان کے طلبہ کو ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے اداروں میں جاب دیں۔ اور ساتھ ہی طلبہ کو صرف کلاس روم تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے طلبہ کو آفات کے دوران عملی میدان میں بھیجیں تا کہ طلبہ کو ان حالات کا علم ہو جوان آفات کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شہنشاہ بابر خان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments