نئی تخلیقی صنف ” عشرہ” کا ظہور اور اس کی مقبولیت



تاریخی طور پر نظم کسی ایک ہیئت میں نہیں لکھی گئی۔ پابند نظم کی کئی صورتیں مسدس، مخمس، ثلاثی وغیرہ کے ناموں سے مقبول رہی ہیں جن میں مختلف مصرعوں میں قافیے کی ترتیب کا اہتمام بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔ آزاد نظم کے فروغ کے بعد سانیٹ اور ترائیلے کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی گئی جو زیادہ پابندیوں کی حامل قدرے پیچیدہ صورتیں تھیں لیکن مسدس اور سانیٹ کیا، مخمس اور ترائیلے کیا، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ نظم بیشتر پابندیوں کو نظر کرتی، آزاد سے آزاد تر ہوتی چلی گئی

ہیئتی پابندیوں کے استرداد کے اس دور میں حیرت انگیز طور پر نظم کی ایک نئی شکل کا طلوع ہوا جو دھیرے دھیرے اپنے خد و خال واضح کرتی، نمایاں سے نمایاں تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی سے سے نوجوان نسل میں اس نئی شعری صنف ”عشرہ“ کا خاصا چرچا ہے۔ ادبی پرچوں میں عشروں کی اشاعت اب معمول کی بات ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کی کئی اہم ادبی مجلے جیسے ”آج“ اور ”اثبات“ عشرے کے گوشے شائع کر چکے ہیں۔ انٹر نیٹ پر دیکھیں تو معروف ادبی چوپالوں میں اس کی ترویج جاری ہے۔

بعض یونیورسٹیوں کی سالانہ تقریبات میں عشرے کے سالانہ تخلیقی مقابلے بھی منعقد ہوتے آئے ہیں۔ اب تو پی ایچ ڈی کے مقالوں تک میں عشرے کے بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔ غور کیجئے تو عشرے پر لکھے گئے تعارفی مضامین اور عشرے لکھنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو بظاہر ایک نا قابل یقین سی بات ہے۔

ایسا کیوں کر ممکن ہوا؟

یہ بات سمجھنے کے لئے ہمیں نوے کی دہائی میں متعارف ہونے والے صاحب طرز غزل گو ادریس بابر تک پہنچنا ہو گا کیونکہ عشرہ انہی موصوف کی حالیہ ایجاد ہے۔

ادریس بابر نئی نسل کے ممتاز پاکستانی تخلیق کار اور مترجم ہیں جو بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں۔ بارہ چودہ سال پہلے ادریس بابر کی منفرد اور تازہ تر غزلوں کا مجموعہ ”یونہی“ شائع ہوا تو اہل ذوق چونک اٹھے۔ یہ غزلیں روایت کے احترام کی ضمانت فراہم کرتے ہوئے بھی جدید حسیت سے مالا مال تھیں۔ علامتیات کی ندرت، اظہارات کی دلیری اور موضوعات کی فراوانی ادریس بابر کی شناخت ٹھہری۔ کچھ ہی عرصے میں اردو دنیا میں ادریس بابر کا تعارف ایک اہم غزل گو کے طور پر ہو گیا اگرچہ اس سے پہلے دو عشروں کے دوران وہ دیگر اصناف سخن اور عالمی ادب کے تراجم سے حوالے سے بھی قابل قدر کام کر چکے تھے۔

ادریس بابر کو یہ احساس دامن گیر تھا کہ ہماری تخلیقی زبان فرسودہ اور متعفن ہوتی جا رہی ہے۔ لکھنے والے زبان و بیان میں جاری مسلسل تبدیلیوں سے بے خبر صدیوں پرانی مدقوق علامات اور متروک الفاظ کے ذریعے اظہار پر مجبور ہیں اور روایات کے یہ بندھن ان کے آگے بڑھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر کوئی لکھاری اپنے تئیں کوئی تبدیلی لانے کی کوشش کرتا بھی ہے تو قدیم روایتی فارمیٹس میں اپنی تخلیقی تازگی اور خوشبو کو کھو بیٹھتا ہے چنانچہ اپنی تخلیقی تشنگی کی تسکین کے لئے انہوں نے ایک نئی صنف کی ایجاد کا سوچا جو موضوع، عروض، ، زبان و بیان اور فارمیٹ کی تمام پابندیوں سے مبریٰ ہو ما سوائے اس کے کہ اس کی ضخامت دس سطور تک محدود ہو۔ اس صنف کو انہوں نے ”عشرہ“ کا نام دیا۔

عشرہ کے تعارف کے سلسلے میں درج ذیل تعارفی سطور جا بجا دکھائی دے جاتی ہیں

” عشرہ دس سطروں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لئے کسی مخصوص یا ہیئت، فارم یا روم کی قید نہیں۔ ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہر آشوب، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اور تو اور، یہ حمد و نعت کو بھی ویسا ہی مناسب ہے جیسا کہ سلام و منقبت کے لئے موزوں ہے۔ پھر یہ اتنی ہی آ سانی یا دشواری سے پابند بھی ہو سکتا ہے، آزاد بھی اور تقریباً اسی طرح بلنک ورس بھی، نثری نظم بھی۔ یا ان میں سے کچھ یا سبھی کا کوئی آمیزہ۔ عشرہ وقت ضائع کرتا ہے یا نہ جگہ۔ ہاں، کبھی کبھی بدل دیتا ہے ایک کو دوسرے میں“

ویسے ایجاد کی حد تک تو اس طرح کی جرات اردو میں کوئی نیا کام نہیں۔ ماضی میں بھی بہت سے شعرا اظہار کے نت نئے شعری سانچے وضع کرتے آئے ہیں حتی کہ غزل کے نام تک پر بھی گزشتہ پچاس سالوں میں بہت سے تجربات کیے جا چکے ہیں۔ نظم و غزل میں کیے گئے ان سب تجربات میں ایک ہی چیز مشترک رہی ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ بہ حیثیت مجموعی یہ تمام تر تجربات ناکام رہے۔ نہ وہ سانچے رہے اور نہ سانچہ سازوں کا نام بچا۔ تو کیا عشرہ ان سب سے مختلف تجربہ ہے؟

اس کا جواب میں زیادہ تر ”نہیں“ اور کبھی چھوٹی سی ”ہاں“ بھی سننے کو ملتی ہے۔ میں نے اس سلسلے میں کچھ مطالعے کی کاوش کی تو معلوم ہوا کہ گزشتہ تجربات میں سے زیادہ تر تو تجربہ برائے تجربہ کی مثال تھے۔ باقی کے ساتھ ایک مشترک صورت حال یہ رہی کہ بیشتر سانچے تراشنے والے دوسروں کو متوجہ کرنے والا کوئی فکری تخلیقی کام کر ہی نہیں پائے، تو اس صورت میں محض ایک خالی سانچے کی اہمیت کیا؟

جب کہ عشرہ کا معاملہ بالکل الگ ہے۔ ایک تو عشرہ کے خالق ادریس بابر نے گزشتہ پندرہ سالوں میں نہایت تسلسل اور خود اعتمادی کے ساتھ ہزاروں عشرے تخلیق کیے ہیں جن میں سے کئی انتہائی مقبول ہوئے۔ عشرہ کے بارے میں منفی رائے رکھنے والوں نے بھی بطور منظومات ان کے معیار اور اہمیت کو تسلیم کیا۔ دوسرا یہ کہ ادریس بابر نے ذاتی طور پر عشرے کی آبیاری کرنے کے علاوہ نئی نسل کو متحرک کرنے اور اچھا لکھنے والے نوجوانوں کو عشرہ نگاری میں اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب رہے چنانچہ عشرہ لکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا آ گیا اور یہ سلسلہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔ اب اس کا نکتۂ عروج یہ ہے کہ عشروں کا پہلا با قاعدہ مجموعہ ”عشرے“ کے نام سے مارکیٹ میں آ چکا ہے اور ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے۔ اس میں ادریس بابر ہی کی ایک سو سترہ عمدہ اور معیاری تخلیقات شامل ہیں۔ یہ کتاب پڑھ کر اندازہ ہوا کہ بلا شبہ یہ ایک معیاری شعری مجموعہ ہے

میں اس کتاب کو پڑھنے کے بعد عشرہ کے فارمیٹ سے زیادہ اس مجموعے کی مواد کی نوعیت میں کھو گیا۔ ”عشرے“ میں شامل نظمیں مزاج میں انتہائی تند و تیز ہیں۔ ان میں سے بیشتر میں ان موضوعات کو چھوا گیا ہے جو عموماً مختلف مصلحتوں کی بنا پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ اظہار بھی زیادہ تر بے ساختہ ہے بلکہ کہیں کہیں بلنٹ بھی لگتا ہے۔ مجھے علم ہوا ہے کہ کئی اور تند و تیز عشرے اس مجموعے سے اس لئے نکال دیے گئے کہ پبلشر انہیں شائع کرنے پر تیار ہی نہ تھا جب کہ مجھے تو موجودہ صورت میں بھی یہ ایک نہایت تیز مرچ مسالے والی ڈش لگی ہے۔ یہی صورت حال مجھے بعض نئے عشرہ نگاروں کے ہاں بھی نظر آئی تھی۔

تو یہاں یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا موضوعات کی اس ندرت، تنوع اور تندی و تیزی کو ”عشرہ“ کے مزاج سے وابستہ سمجھا جائے؟

یہ مجموعہ تو واشگافانہ اس سوال کا جواب ”ہاں“ میں دے رہا ہے
اگر اس حقیقت کا اثبات کر لیا جائے تو بھی کیا یہ عناصر نظم کے عمومی سانچے میں فٹ نہیں آسکتے تھے؟
”آ تو سکتے تھے! “
”تو پھر عشرہ ہی کیوں؟“

اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے میرے ذہن میں بے شمار نئے سوالات پیدا ہو گئے۔ ان میں دو تین یہاں لکھ دیتا ہوں، آئیے مل کر ان کا جواب تلاش کرتے ہیں

مرثیہ کے لئے تاریخی طور پر مسدس کا فارمیٹ ہی کیوں اختیار کیا جاتا ہے؟
جاپانی صنف ”ہائیکو“ موسم اور اس کے متعلقات کے لئے کیوں مختص ہو کر رہ گئی ہے؟
نعت زیادہ تر ”غزل“ کے فارمیٹ میں کیوں کہی جاتی ہے؟
وغیرہ، وغیرہ

ان کے جوابات تو جانے مل پائیں کہ نہیں لیکن عشرہ کا مزاج تو لگ بھگ طے ہی سمجھیں۔ مزید بر آں اگر اس کے مزاج شناس اسی رفتار سے بڑھتے گئے تو ادریس با بر ( اللہ انہیں عمر خضر عطا کرے ) کے بعد بھی اس صنف کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ واللہ اعلم


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments