پی ٹی ایم، ٹی ٹی پی، حکومت اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال


مصنف: شازار جیلانی اور رشید یوسفزئی

”اگر ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں مطلوبہ نتائج ملنے میں ناکامی ہوئی تو پاکستان کے پاس دوسرے آپشنز بھی موجود ہیں“ افغانستان سے فراغت پانے والے پاکستانی سفیر منصور علی خان کے ساتھ بات چیت میں سب سے زیادہ اہم نکتہ یہی تھا۔ اس قسم کی ملفوف دھمکی سن کر ذہن عموماً عسکری آپشن کی طرف نکل جاتا ہے لیکن عسکری آپشن تو آخری اور ڈو اینڈ ڈائی ہوتا ہے، جو پہلے بھی کئی بار مذکورہ دہشت گردوں کے خلاف استعمال کیا گیا ہے، جن کا نتیجہ آج کے باہمی مذاکرات ہیں۔ بڑی قربانیاں دینے کے باوجود جن کے اختتام پر کامیابی کے کیے گئے دعوے عطر بود ہوچکے ہیں۔ اگر وہ دعوے صحیح ہوتے تو آج پھر انہی دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے پڑتے۔ (وہ دعوے کیوں کر سچ ثابت نہیں ہو سکے اس پر انہی صفحات میں میرا کالم ”طالبان بدل گئے“ پڑھ لیں ) ۔

انسرجنسی کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ جس علاقے میں یہ انسرجنسی جاری ہو وہاں کے عوام کے دل جیتے جائے، جبکہ آج تک جتنے اینٹی انسرجنسی آپریشن ہوئے ہیں ان میں دہشت گردوں کو نقصان پہنچا ہو یا نہیں لیکن ان سے وہاں کی عوام کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچے ہیں۔ جن کی وجہ سے اس پورے عمل پر اب ان کا مزید اعتماد کرنا ناممکن ہے کیونکہ ان آپریشنز کی وجہ سے پیدا ہونے والے شکوے شکایات بھی ابھی تک اسی حالت میں موجود ہیں۔

اب اگر رواں مذاکرات سے گھی سیدھی طرح نہیں نکلتا تو انگلیاں ٹیڑھی کر کے گھی نکالنے کے علاوہ کیا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی اور آپشن بھی موجود ہے؟ یہی سوال ہے جس کو واضح جواب کی تلاش ہے۔ عسکری آپریشن تو دراصل ٹی ٹی پی کی خواہش اور منصوبہ ہے تاکہ پختون پھر سے بے گھر ہوں اور ایک بار پھر آپریشن کی وجہ سے آرمی اور پختون قبائل کے درمیان تعلقات پھر سے خراب ہو جائیں تاکہ لوگ ٹی ٹی پی کے گزشتہ مظالم بھول کر ایک دفعہ پھر ان کو چھپنے کی جگہ اور حملے کرنے کی سہولیات مہیا کر دیں اور آگ و خون کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے جس طرح ماضی میں ہو چکا ہے۔ کیونکہ قتل و غارتگری کے علاوہ ٹی ٹی پی کو دوسرا کوئی کام کرنا آتا ہی نہیں۔

میرے خیال میں عسکری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اس دفعہ ملٹری آپریشن کے علاوہ ایک دوسرا آپشن بھی موجود ہے جو نہ صرف یہ کہ یقینی کامیابی کی ضمانت ہے بلکہ اس کے نتیجے میں بحال شدہ امن پائیدار اور سماجی بنیادوں پر استوار ہو گا۔

جیسا کہ پچھلے پیراگراف میں ذکر ہوا ہے کہ انسرجنسی ہو یا کاؤنٹر انسرجنسی، دونوں کے لئے سماجی بنیادوں پر علاقائی تعاون کی موجودگی اشد ضروری ہوتا ہے تب انسرجنسی یا کاؤنٹر انسرجنسی کامیاب ہوتی ہے۔ کاؤنٹر انسرجنسی کے خلاف کیے گئے گزشتہ آپریشنوں کے بارے میں مقامی لوگوں کی عدم شرکت کی وجہ سے ماضی کی کہانیاں کوئی اچھا تاثر قائم نہیں کر سکی، جس کی وجہ سے دہشت گردوں کے خلاف بر سر پیکار آرمی کو مطلوبہ مقامی تعاون بھی اسی مقدار میں حاصل نہیں ہوسکا، یوں مقامی آبادی کے نقصانات کے علاوہ دو طرفہ اعتماد کا بھی شدید فقدان رہا۔ نتیجتاً انسرجنسی سے متاثرہ علاقوں میں، خود کو بے بس پاکر عوام نے منظور پشتون کی قیادت میں جنگ گریز تحریک پی ٹی ایم شروع کی۔ جس کے احتجاج اور مطالبات کا بنیادی نشانہ عسکری قیادت ہے۔ کیونکہ اس وقت کی حکومت نے ان آپریشنوں کو اون کرنے اور وضاحت دینے کی بجائے سب کچھ آرمی کے سر تھوپ دیا۔

Rasheed Yousafzai
رشید یوسفزئی

قبائلی علاقوں میں انسرجنسی کے خلاف آپریشنز کی وجہ سے وہاں برپا ہونے والی بربادی، ان آپریشنز کی پاداش میں بننے والے مسنگ پرسنز، برباد ہونے والی جائیدادوں کے نقصانات کا ازالہ، لشکری پالیسیاں، اور اس کے نتیجہ میں مقامی لوگوں اور ان کی جائیدادوں کو پہنچنے والے نقصانات کا اعتراف کرنے کے مطالبات پی ٹی ایم کا بنیادی ایجنڈا ہے۔

ٹی ٹی پی کے خلاف ایک اور لاحاصل اور تباہ کن آپریشن کرنے سے زیادہ بہتر آپشن پختون قوم پرست جماعتوں کو عموماً اور پی ٹی ایم کو خصوصاً مطلوبہ سیاسی سپیس مہیا کرنا ہے تاکہ وہ دہشت گردوں کے خلاف اپنا جنگ گریز بیانیہ اور عوام میں اپنا منشور کھلم کھلا پھیلا سکے۔ پائیدار قیام امن کے لئے عسکری قیادت اور پختون قوم پرستوں کا آنے والے دہشت گردوں کے خلاف نظریہ اور مقاصد یکساں ہیں کیونکہ دہشتگرد ایک بار پھر قوم پرستوں پولیس اور آرمی کو ٹارگٹ کر رہے ہیں اور اپنے آپریشنل اخراجات کے لئے اغوا برائے تاوان پر ایک دفعہ پھر عمل پیرا ہیں۔ اس لئے پختون قوم پرست جماعتوں کو اپنا بیانیہ عام کرنے اور پی ٹی ایم کو بلا روک ٹوک عوام تک پہنچنے کا راستہ اور سہولت دی جائے۔ جس کا محدود پیمانے پر گزشتہ چند ہفتوں سے مظاہرہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگر اس دوران پی ٹی ایم کی شکایات کا ازالہ کیا جائے اور طرفین کے درمیان اعتماد بحال ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل میں سیکورٹی فورسز کو انٹلیجنس بیسڈ ٹارگٹڈ آپریشنز کے لئے آئیڈیل ماحول اور عوامی تعاون میسر نہ آ سکے۔

منظور پشتون کو لاہور میں انسانی حقوق فورم اور آزاد کشمیر تک رسائی دینا اور علی وزیر کو ضمانت اور ہسپتال کی سہولیات دے کر عسکری اسٹیبلشمنٹ نے بہت دانشمندانہ اقدامات کرنے میں پہل کاری کی ہے۔ جس کا دوسری طرف سے اسی نیک نیتی پر مبنی مثبت جواب انا چاہیے جس نیک نیتی سے ابتداء ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ مثبت اقدامات فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لئے فی الحال آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں لیکن بڑے سے بڑے سفر کے لئے بھی ابتداء چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر کیا جاتا ہے۔ لیکن ابھی بہت دور تک بہت تیز جانے کی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گرد بہت تیزی سے پختون علاقوں میں اپنا نیٹ ورک دوبارہ استوار کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

ایک پختون جتنا جنگ باز نظر اتا ہے اس سے کہیں بڑھ کر وہ مذاکرات کار اور امن پسند ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر جنگ اور ناراضگی کا خاتمہ لین دین اور افہام و تفہیم پر ہوتا ہے۔ وہ جب بھی دوران ناراضگی مطالبات پیش کرتا ہے جیسے کہ پی ٹی ایم نے پیش کیے ہیں تو اس کا مطلب جنگ کا نیوتا نہیں امن کی خواہش ہوتی ہے۔ اپنی کم عمری کے باوجود منظور پشتون کوئی عام سیاستدان نہیں بلکہ ایک دوراندیش سیاسی مدبر ہے۔ بلاشبہ اس کی پہلی ترجیح اور واحد مقصد جنگ زدہ پختون علاقے میں پائیدار امن کی بحالی ہے۔ اس لیے ان کا اعتماد حاصل کر کے عسکری قیادت وہ کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں جو وقت کی ضرورت اور نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ ایک دفعہ قوم اور فوج مل کر باہمی اتفاق اور اعتماد کے ساتھ جنگ پسند قوتوں کے خلاف کھڑی ہو گئی تو مغربی بارڈر ہمیشہ کے لئے محفوظ، بیرونی ہاتھ کا قلعہ قمع اور امن کی بحالی حقیقت بن سکتی ہے۔

مطالبات مانے جانے اور سیاسی سپیس ملنے کی صورت میں قوم پرست جماعتوں کو عموماً اور پی ٹی ایم کو خصوصاً اس صورتحال سے بچنا ہو گا جس میں اپنی حکومت کے دوران اے این پی گرفتار ہو گئی تھی۔ لڑنا مارنا اور مرنا سیکورٹی فورسز کے فرائض منصبی ہیں۔ کسی سیاسی جماعت کو خود کو خالی ہاتھ عسکری قوت سمجھنا دانشمندی نہیں ہوتی، اس کا پہلے بھی پختون عوام اور لیڈرشپ بھاری قیمت ادا کر چکی ہے۔ انسرجنسی کے خلاف فوج کو آخری آپشن کے طور پر بالکل اسی طرح بلایا جاتا ہے جس طرح شہر میں آگ لگنے کی صورت میں فائر بریگیڈ کو بلایا جاتا ہے۔ آگ بجھانے کے بعد فائر بریگیڈ اپنی سٹیشن پر چلی جاتی ہے اور آگ بجھانے کے دوران جو عمومی نقصانات ہو جاتے ہیں، حکومت اس کی تلافی کر کے بحالی کے کام میں لگ جاتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں وضاحتیں اور جوابی بیانات دینا بھی آرمی نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔ اگر آرمی کی ایکشن، بحالی کے پروگرام اور وضاحتوں کے کام کو سول حکومت اون کرے تو متاثرہ لوگوں اور آرمی کے درمیان تعلقات بہت تیزی سے بہتر ہوسکتے ہیں۔ لیکن آرمی ایکشن کو ماضی میں مسلم لیگ نون نے اور نہ ہی پی ٹی آئی نے اون کیا۔ دوسری طرف اے این پی نے خود کو بلٹ پروف سمجھ کر بارودی جیکٹوں کے سامنے اپنے سینے کھولنے کی پالیسی اپنا کر ثالث بننے کی بجائے ٹرمینیٹر بننے کی غیر دانشمندانہ پالیسی اپنانے کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصان اٹھائے۔

امن کو پائیدار موقع دینے کا اس سے زیادہ سازگار ماحول نہیں ہو سکتا۔ طرفین کو ماضی دفن کر کے دہشت گردوں کے مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کرنے کے بارے میں آگے بڑھنا ہو گا۔ مذہبی شدت پسندی کا آزمودہ علاج سیکولر سیاسی جماعتوں کو ان کا مطلوبہ مقام اور سپیس دینا اشد ضروری ہے۔ امید ہے پختونوں کے وسیع تر مفاد میں دوسری قوم پرست جماعتوں کی طرح منظور پشتون بھی ملنے والی حالیہ توجہ اور گڈول کو اہم جان کر باہمی اعتماد سازی کی خاطر اپنے الفاظ کی سچائی کا ثبوت دیں گے، کیونکہ وہ اکثر اپنی تقریروں اور انٹرویوز میں کہتے رہتے ہیں کہ مسائل کے حل اور بامقصد مذاکرات کے لئے میں ہر وقت تیار ہوں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے کوئی میری طرف ایک قدم بڑھائے گا تو میں دس قدم بڑھانے کے لئے تیار ہوں

(یہ تحریر شازار جیلانی اور رشید یوسفزئی نے مشترکہ طور پر لکھی ہے۔ حافظ رشید یوسفزئی مصنف و انٹلیکچوئل کے علاوہ قرآن و حدیث اور انگریزی زبان و ادب کے بھی ماہر ہیں۔ اپنے وسیع مطالعہ اور منفرد طرز تحریر کی وجہ سے وہ پاکستان کے اکیڈیمیا، یونیورسٹیز و مدارس میں یکساں مقبول ہیں۔ اقوام متحدہ و یورپی یونین پارلیمنٹ کے سٹیجز پر مدعو ہو چکے ہیں۔ آج کل کیبک، کینیڈا کی شربروک یونیورسٹی میں فرنچ زبان و ادب پڑھنے میں مصروف ہیں )

طالبان بدل گئے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 98 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments