پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: بروک اور ڈکٹ کی 139 کی شاندار شراکت، پاکستان کو 63 رنز سے بھاری شکست
ایشیا کپ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے پاکستانی بولرز آج انگلینڈ کے نوجوان بلے بازوں کے سامنے بے بس دکھائی دیے جنھوں نے ان کی ناقص بولنگ کی خوب درگت بنائی۔
انگلینڈ کی جانب سے ہیری بروک کی 35 گیندوں پر 81 رنز کی ناقابلِ یقین اننگز کے باعث انگلینڈ نے پاکستان کو جیت کے لیے 222 رنز کا ہدف دیا تھا تاہم پاکستان مقررہ 20 اوور میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر صرف 158 رنز ہی بنا سکا۔
پاکستانی اوپنرز آج، کل کی طرح عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے اور یوں بات جب مڈل آرڈر پر آئی تو جوابات ملنے کی بجائے مزید سوالات نے جنم لیا۔
حیدر علی تین اور افتخار صرف چھ رن بنا کر پویلین لوٹ گئے اور پھر شان مسعود اور خوشدل شاہ نے 15 رنز کی اوسط کے حساب سے کھیلنے کی کوشش کی جو بے سود رہی۔
تاہم شان مسعود کی اپنی دوسری ٹی ٹوئنٹی اننگز میں نصف سنچری یقیناً پاکستان کے لیے اس میچ کی اکلوتی خوش آئند بات رہی۔
انھوں نے 40 گیندوں پر 65 رنز کی اچھی اننگز کھیلی اور ناٹ آؤٹ رہے۔ ادھر خوشدل شاہ 21 گیندوں پر 29 رنز ہی بنا سکے اور عادل رشید کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔
پاکستان نے 20 اوورز کے اختتام پر 158 رنز بنائے اور یوں جمعرات کو بہترین کارکردگی دکھانے والی بیٹنگ آج اوپنرز کے آؤٹ ہوتے ہی لڑکھڑا گئی۔
انگلینڈ کی جانب سے آج بولنگ اٹیک میں متعدد تبدیلیاں کی گئی تھیں اور ان کا اثر ان کی اچھی بولنگ میں بھی دکھائی دیا۔
مارک وڈ کی پیس بابر اعظم کے آؤٹ ہونے کا سبب جبکہ ٹاپلی کی چینج آف پیس رضوان کی پویلین میں واپسی کا باعث بنی۔
یہ بھی پڑھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: ایشیا کپ کا فائنل ہارنے والی ٹیم ’تبدیلی‘ لا سکے گی؟
شان مسعود یہ بوجھ کس حد تک اٹھا پائیں گے؟
مارک وڈ نے تین اور عادل رشید نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ہیری بروک کو پلیئر آف دی میچ کا اعزاز دیا گیا۔
اس سے قبل انگلینڈ کی جانب سے اننگز کے آغاز میں گذشتہ دو میچوں کے برعکس آج فل سالٹ کا سکور سنگل ڈجٹس میں ہی رہا اور انھیں محمد حسنین نے صرف آٹھ رن ہی بنانے دیے۔
تاہم آغاز میں اس نقصان کے باوجود انگلینڈ کی جانب سے آج ڈیبیو کرنے والے اوپنر ول جیکس نے جارحانہ انداز اپنائے رکھا اور پاور پلے میں انگلینڈ کا سکور 57 رنز تک پہنچا دیا۔
ول جیکس کی 40 رنز کی اننگز میں آٹھ چوکے شامل تھے۔ پاور پلے کے بعد عثمان قادر نے آتے ہی ڈاوڈ ملان کی ایک انتہائی شارٹ گیند پر وکٹ حاصل کی اور پھر اپنے اگلے ہی اوور میں ول جیکس کو بھی چلتا کیا تو ایسے محسوس ہوا کہ شاید پاکستانی سپنرز اب میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے۔
لیکن پھر کریز پر بین ڈکٹ اور ہیری بروک کی جوڑی نے پوزیشن سنبھالی اور ایسی سنبھالی کے آخری اوور تک پاکستانی بولرز دونوں کو جدا کرنے میں ناکام رہے۔
نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق دونوں نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں 139 رنز کا اضافہ کیا جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں انگلینڈ کی چوتھی وکٹ کی سب سے بڑی شراکت ہے۔
ادھر پاکستان کی جانب سے شاہنواز دھانی نے آج اپنے چار اوورز میں 62 رنز دیے جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کسی بھی پاکستانی بولر کی دوسری سب سے مہنگی بولنگ ہے۔
سب سے مہنگی بولنگ کا پاکستان کا ریکارڈ عثمان شنواری کا ہے جنھوں نے سنہ 2019 میں جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ میں چار اوورز میں 63 رنز دیے تھے۔
دونوں کی جوڑی میں سے ہیری بروک گذشتہ دونوں میچوں کی طرح آج بھی بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیے اور 230 سے زیادہ کے سٹرائیک سے 35 گیندوں پر 81 رنز کی یادگار اننگز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
ان کی اننگز میں پانچ چھکے اور آٹھ چوکے شامل تھے۔ دوسری جانب بین ڈکٹ نے جدید شاٹس کھیلتے ہوئے 42 گیندوں پر 70 رنز کی اننگز کھیلی۔
یوں انگلینڈ نے مقررہ 20 اوورز میں 221 رنز بنائے جو پاکستان کے خلاف کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا سکور ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ سری لنکا کا تین وکٹوں پر 211 رنز کا تھا۔


