زندگی کی شاہراہ پر


پاکستان میں بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں کو تقریباً ایک ماہ ہو چکا ہے لیکن ابھی تک ان علاقوں سے آنی والی اطلاعات کے مطابق متاثرہ علاقوں میں لوگ اپنے گھروں میں واپس نہیں جا سکے ہیں۔ یہ منظر اور حالات سوچتا ہوں تو دل مایوس اور روح اداس ہو جاتی ہے کہ ان متاثرہ لوگوں پر کیا بیتی ہو گی۔ میرے لئے ان الفاظ کو بیان کرنا اور محسوس کرنا بہت مشکل ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تباہ کاری اور نقصان کا ازالہ کرنے اور لوگوں کو دیکھ بھال کے لئے جس طرح پاکستانی اور عالمی برادری نے تعاون کیا ہے وہ بھی قابل ذکر ہے۔ اب اس بحث سے قطعہ نظر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان لوگوں کو دوبارہ زندگی کا پہیہ چلانے کے لئے کیسے متحرک کیا جائے؟

میری سوچ کے مطابق اس وقت اداروں، سماجی ورکرز اور این جی او سے بڑھ کر حکومتی سربراہان کی قائدانہ اور فیصلہ سازی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح اس صورتحال میں بہترین مینجمنٹ پالیسی اور لانگ ٹرم پلاننگ کے تحت ان علاقوں کو جدید انفرا اسٹرکچر فراہم کرتے ہیں تاکہ ان علاقوں کے لوگوں کی زندگی میں تباہی کے بعد کسی حد تک بہتری آ سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضروری امر یہ ہے کہ مستقبل میں ایسی ہنگامی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے کیا ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر حکومت کو سیاسی فیصلوں کی بجائے لیڈرشپ اور دوراندیشی پر مبنی فیصلے کرنے ہوں گے۔

بارش اور سیلاب نے متاثرہ علاقوں اور لوگوں کا تو امتحان لے لیا لیکن اب اصل امتحان حکومت اور اداروں کی منصوبہ بندی کی صلاحیتوں اور حکمت عملی کا ہو گا کیونکہ موسمی تبدیلیوں کے اثرات کا ابھی آغاز ہے اس کے لئے آنے والے وقت میں مزید مسائل سے دوچار ہونا پڑے گا۔

اس وقت مالی امداد حاصل کرنے سے کہیں زیادہ اہم اس کا استعمال ہو گا۔ سیاسی نہیں بلکہ سائنسی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہنگامی صورتحال میں وقتی اور کام چلاؤ پالیسی سے کام نہیں چلے گا۔ یعنی پانی سے پھنسے لوگوں کو سڑک پر لاکر بیٹھا دینے سے ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے بالکل لاکھوں کی تعداد میں بے گھر اور متاثر لوگوں کو واپس زندگی کی شاہراہ پر لانا ہی اصل کامیابی ہوگی۔

لوگوں کو قدرتی آفات سے بچاؤ کے لئے ٹریننگ، اپنے مالی، سماجی اور جانی نقصان کے صدمے کو برداشت کرنے، عزت نفس کو بحال کرنے اور دوبارہ زندگی شروع کرنے کے لئے ذہنی اور نفسیاتی طور پر مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں ان بچوں کے ذہنوں پر اثرات مرتبہ ہوں گے جنہوں نے سیلاب کی تباہ کاری سے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا پیارا گھر، سامان، کھلونے اور جانور ڈوبتے اور پانی میں بہتے ہوئے دیکھتے ہوں گے۔

بیشک ان کو اب نئے گھر تعمیر کر کے دیے جائیں گے لیکن اس ذہنی دباؤ اور اذیت کا ازالہ بھی کرنا ہو گا۔ لوگوں کو تسلی، حوصلہ اور ہمت دینا ہوگی کہ یہ سیلاب زندگی کا ایک نازک اور مشکل ترین مرحلہ تھا لیکن یہ زندگی کا اختتام نہیں، زندگی میں ہمیشہ وہ لوگ اور قومیں ترقی کرتی ہیں جو مضبوط اعصاب کا استعمال کر کے مشکلات سے نکلتی ہیں اور یہ یقین رکھتی ہیں کہ مشکلات زندگی کا اختتام نہیں۔ اب بھی بہت کچھ باقی ہے، زندگی کا سفر جاری رہے گا اور زندگی کی ہریالی بہت جلد لوٹ کر واپس آئے گی بالکل ایسے ہی جیسے خزاں کے موسم کے بعد بہار آتی ہے۔

بس یہ سوچتا ہوں ان متاثرہ لوگوں کو مالی اور طبی امداد تو بہت سارے لوگ دے رہیں لیکن ان کی شکستہ روحوں کو تسلی اور حوصلہ کون دیتا ہو گا! اپنے گھروں سے باہر شاہراہوں پر بیٹھے لوگوں کو دوبارہ کون زندگی کی شاہراہ پر واپس لانے کا یقین دلائے گا۔

Facebook Comments HS