پاکستان کرکٹ ٹیم! ناقابل پیش گوئی اور کسے کہتے ہیں؟


کراچی میں جاری ٹی 20 آئی سیریز کے دوسرے میچ میں کون جانتا تھا کہ 10 رنز فی اوور کی بلند مطلوبہ اوسط کے باوجود پاکستان 200 کے ہدف کا کامیاب تعاقب کر لے گا، وہ بھی کسی وکٹ کے نقصان کے بغیر؟ پاکستانی عوام چونکہ ٹیم کے ناقابل پیش گوئی مزاج سے واقف ہیں اس لئے اکثر پہلے ہی یہ سوچ کر بیٹھ گئے تھے کہ انگلینڈ ہی فتح یاب ہو گا۔ ظاہر ہے موجودہ مڈل آرڈر کی ناکام کارکردگی جو سب کے سامنے تھی۔

ایشیا کپ 2022 ء کے فائنل، آخری گروپ میچ، اور انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹی 20 آئی، کسی بھی میں پاکستان 161 سے آگے نہ بڑھ سکا۔ لیکن اس سیریز کے دوسرے میچ میں تو محمد رضوان اور بابر اعظم کی جارحانہ بیٹنگ نے نقشہ بدل دیا اور ناقدین کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ اس میچ میں بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 200 رنز کے ہدف کے حصول ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے جو پاکستان سے پہلے کسی ٹیم کے حصے میں نہیں آیا۔

اس شاندار اور ریکارڈ ساز بیٹنگ کارکردگی کے بعد جو ملین ڈالرز کا سوال ابھرا، وہ یہ ہے /تھا کہ یہ جارحیت، فتح کی شدید خواہش، جوش و خروش اور ولولہ، یہ والے بابر اور رضوان۔ یہ سب ایشیا کپ 2022 ء کے فائنل میں کہاں تھے؟

اگرچہ ایشیا کپ فائنل کا دوطرفہ کرکٹ سیریز کے ایک میچ سے موازنہ کچھ مناسب نہیں لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جارحیت اور مطلوبہ رن اوسط کے مطابق بیٹنگ کا تقاضا ہر میچ کے لئے لازمی ہے۔ جارحانہ اور تیز رفتار بیٹنگ ہی ٹی 20 آئی کرکٹ میں فتح کا تعین کرتی ہے، خواہ پہلے نمبر پر بیٹنگ کریں یا دوسرے۔ ایشیا کپ 2022 ء کے فائنل میں پاکستان کو صرف 23 رنز سے شکست ہوئی۔ ٹی 20 آئی کرکٹ میں 23 رنز کیا اہمیت رکھتے ہیں؟ اگر محمد رضوان اور افتخار احمد تیزی سے رنز بناتے تو وکٹیں گرنے کے باوجود پاکستان فتح یاب اور ایشین چیمپئن ہو سکتا تھا۔

خوش قسمتی اور اتفاقات کا عمل دخل بھی یقیناً ہر جگہ ہوتا ہے لیکن انہیں بھی اپنے حق میں استعمال کرنے کے فن سے آشنائی ضروری ہے۔ دوسرے میچ میں 24 یا 25 کے انفرادی سکور پر محمد رضوان کا کیچ، الیکس ہیلز سے چھوٹ گیا۔ وہ گیند کو درست جج نہ کرسکے اور وہ ان کی انگلیوں سے ٹکرا کر گر گیا۔ اور ایک موقع پر محمد رضوان سٹمپ آؤٹ سے بھی بچ گئے جب فل سالٹ سے ہاتھ سے گیند چھوٹ گئی تھی۔ رضوان نے پھر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار اننگز کھیلی اور ناٹ آؤٹ واپس گئے۔

پھر چوتھے میچ میں جب شکست آنکھیں پھاڑے ہمیں گھور رہی تھی، حارث رؤف کی صرف دو گیندوں نے بازی پلٹ دی۔ محمد حسنین نے 18 ویں اوور میں پریشر میں آ کے جو غلطی کی اور 24 رنز دے ڈالے، اس سے تقریباً میچ انگلینڈ کے ہاتھوں میں پہنچ گیا تھا۔ یہ تو شکر ہے کہ حارث رؤف کا ایک اوور باقی تھا۔ اور کس نے سوچا تھا کہ آخری دس گیندوں پر درکار پانچ رنز ایک ایسا پہاڑ بن جائیں گے جسے عبور کرنا انگلینڈ کے لئے ناممکن ہو گا۔

حارث نے 19 ویں اوور کی تیسری اور چوتھی گیند پر جس طرح سیٹ بیٹر ڈاسن اور پھر اولی سٹون کو آؤٹ کیا، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا۔ آخری اوور میں مہمان ٹیم کو صرف چار رنز کی ضرورت تھی، گویا وہ ایک سنسنی خیز فتح سے صرف ایک شاٹ کے فاصلے پر تھے لیکن۔ ریس ٹاپلی سنگل لینے کے چکر میں رن آؤٹ ہو گئے۔ اگر وہ بھی نسیم شاہ کے دو چھکوں کی طرح ایک چوکا لگانے کی کوشش کرتے تو شاید یہ میچ ان کے نام قرار پاتا۔

محمد حسنین کے اوور کے بعد لگتا تھا کہ بس، میچ پاکستان کے ہاتھ سے گیا لیکن کرکٹ میں جب تک آخری گیند نہ پھینک دی جائے یا آخری وکٹ نہ لے لی جائے، تب تک میچ کو ختم نہیں سمجھا جاسکتا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ صرف تین رنز کے فرق سے یہ میچ پاکستان کے نام رہا۔ اس وقت ڈاسن کی مایوسی اور غم یقیناً بہت بڑا ہو گا لیکن یہ کرکٹ ہے، جو بعض اوقات بہت ظالم ثابت ہوتی ہے۔

کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان اس وقت پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے بغیر ہمارا کامیابی حاصل کرنا نہایت مشکل ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کا طویل وقت کے لئے کریز پر رکنا ضروری ہے۔ ان پر انحصار ختم کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ مڈل آرڈر کو مضبوط اور ذمہ دار بنایا جائے اور ہر کھلاڑی کا مائنڈ سیٹ اور باہمی ہم آہنگی ان دونوں جیسی ہو۔ مڈل آرڈر کی مضبوطی کے لئے سکواڈ اور ٹیم کی درست سلیکشن بھی بہت ضروری ہے۔

انگلینڈ کے خلاف چوتھے میچ پر یہ بھی ایک رائے ہے کہ خوش دل شاہ سے پہلے آصف علی کو بھیج دیتے تو کچھ زیادہ رنز بن سکتے تھے کیونکہ آصف نے تین میں سے دو گیندوں پر دو چھکے لگا دیے تھے۔ بات درست ہے، اگر آصف کو کریز پر زیادہ گیندیں کھیلنے کا موقع مل جائے تو وہ اپنی ٹیم کے مجموعے میں قیمتی رنز کا اضافہ کر سکتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ قسمت بھی بہادروں کا ساتھ دیتی ہے۔ انگلینڈ کے خلاف دوسرے اور چوتھے میچ میں نظر آنے والی جارحیت، جوش و ولولہ اور کامیابی کی خواہش ٹی 20 آئی ورلڈ کپ 2022 ء کے لئے ضروری ہے۔ ورلڈ کپ 2019 ء میں عماد وسیم اور وہاب ریاض کی بہادری اور ایشیا کپ 2022 ء میں گیارہ نمبر کے نسیم شاہ کی بہادری اور کچھ کر گزرنے کے یقین نے ہمیں افغانستان کے خلاف فتح سے ہمکنار کیا۔ آخری گیند تک کھیلنے اور لڑنے کا جذبہ ہی میدان میں کامیابی دلاتا ہے۔

بلکہ جہاں کامیابی کا امکان نہ ہو، وہاں بھی ہر حد تک کوشش کر کے شکست کے مارجن کو کم ازکم کرنا تو ضرور ممکن ہے۔ تیسرے ٹی 20 آئی میں پاکستان کو کامیابی ملنا ممکن نہ تھا لیکن شان مسعود نے پھر بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شاندار بیٹنگ کی اور 60 +رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ واپس گئے۔ ٹی 20 آئی ورلڈ کپ ہو یا کوئی بھی موقع، ذمہ داری، بہادری، اور ہر ممکن کوشش ہی انسان کو فتح کے قریب لاتی ہے۔

ایشیا کپ میں شکست کے بعد بھی زیادہ تر انہی کھلاڑیوں کو ٹی 20 آئی ورلڈ کپ 2022 ء کے سکواڈ میں شامل کیا گیا جس پر تنقید ہوئی۔ البتہ انگلینڈ کے خلاف سیریز سے پاکستان کو اپنی خامیوں کا درست ادراک ہو گا اور وہ ورلڈ کپ سے قبل انہیں درست کر سکیں گے۔ اب ہمیں وہ مائنڈ سیٹ اختیار کرنا ہو گا جو ورلڈ کپ 2022 ء کے لئے ضروری ہے یعنی صورت حال جتنی بھی نازک اور تشویش ناک ہو، حوصلہ اور حواس قائم رکھیں۔ بقول ناصر حسین:

”One minute down, next minute up.“
کیونکہ کسی بھی لمحے کچھ ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS