سازشی تھیوریوں کے موجد


سازشی نظریات جلد کیوں مقبول ہو جاتے ہیں، اس سوال کا جواب ہمیں با آسانی اس وقت مل جاتا ہے، جب ہم اس امر کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ مخالف کے خلاف کوئی ایسی تھیوری آئے جو پسندیدہ ہو۔ گروہوں کے درمیان سازشی تھیوریوں کی اس جنگ میں دو نوں جانب سے سچ، جھوٹ کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے اور بالآخر سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے تمام پلیٹ فارمز کو مینیج کر کے با آسانی معاشرے میں پھیلا دیا جاتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ امر سامنے آیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے، سازشی تصورات کا انتخاب کر کے، گروہ بندیوں کا فائدہ اٹھا کر سازشی نظریات پھیلا دیے جاتے ہیں جس پر مطالعہ بھی نہیں کیا جاتا ہے کہ اس کے منفی نتائج کس قدر ہولناک ہوسکتے ہیں۔

سازشی تھیوری کو پھیلانے کے لیے میڈیا میں نظریات کے معیار کی درجہ بندی کی جاتی ہے، جس میں سامعین، ناظرین کے لیے کوریج، نشر ہونے کا وقت، پرنٹ صفحہ وغیرہ کا باریکی سے استعمال کیے جانا اہمیت رکھتا ہے۔ ایک ہی موضوع کا بیک وقت مختلف ذرائع سے پھیلانے کے لیے مقبولیت کا تخمینہ اور طاقت کا اشاریہ کہ سامعین، ناظرین اور قارئین پر کس حد تک اثر انداز ہوا جاسکتا ہے۔ پرائم ٹائم ایک انتہائی طاقت ور بم ہے جس میں سازشی نظریات کو لفظوں کے پر فریب جال میں پھنسانے کے لیے پوری قوت سے معاشرے پر گرا دیتا جاتا ہے۔ اس طرح کے نظریات کی ترقی کی مقبولیت میں کم ازکم متنازع جذبات کے درجہ حرارت میں عدم برداشت اور جذباتیت کو بڑھاوا دینا شامل ہوتا ہے۔

مملکت میں اس وقت متعدد سازشی تھیوریاں زیر گردش ہیں، ان میں عالمی واقعات، مظاہر، اعداد و شمار اور اندرونی نظریات ایک دوسرے سے جڑے نظر آتے ہیں۔ لیڈر نام نہاد سازشی نظریات کو عوامی جلسوں میں پھیلا کر پہلے اپنے کارکنان کی برین واشنگ کرتے ہیں، پھر وہ اپنے علاقوں میں پھیل کر اسے عام افراد کے ساتھ گفتگو کا حصہ بنا لیتے ہیں، بڑی تعداد حقیقت کی آگاہی کے لیے جب میڈیا کا رخ کرتی ہے تو ان کی درجہ بندیوں میں اپنے نظریات کے موافق چینل کا انتخاب کرتے ہیں، جس میں ان سازشی تھیوریوں کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیلیں، بحث مباحثے اور تنقید و تعریف کے خصوصی سکرپٹ کو عوام یا کارکنان میں راسخ کر دیا جاتا ہے، اس عمل کو پختہ کرنے کے لیے پریس کانفرنسیں، انٹرویو، ٹاک شوز اور پھر سوشل میڈیا میں خود ساختہ ٹرینڈ، لیڈر سمیت ان کے حواریوں کو بھی بند گلی میں لے جاتے ہیں، جس سے نکلنے کے لیے ایک نئی سازشی تھیوری تیار کی جاتی ہے اور اس کے بعد ماضی کی طرح سب پرانے ٹرک کی نئی سرخ بتی کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔

اگر میڈیا میں سازشی تھیوریوں کی موجودگی بڑھ رہی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں ایسے جذبات بھی پروان چڑھ رہے ہیں۔ سخت الفاظ میں ہم اسے رد نہیں کر سکتے، بلکہ یہ انفرادی میڈیا آؤٹ لیٹس کی سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی خواہش اور سیاست دانوں اور عہدیداروں کے سوچنے کے طریقے، انتخابی مہم میں دوسروں کی خامیوں کو نشاندہی کرنے لگ جاتا ہے اور یہاں تک کہ متنازع تقاریر اور بیانات کو نمک مرچ لگا کر باقاعدگی سے دوبارہ نشر کرتا رہتا ہے۔

ایسے ٹی وی چینلز ہیں جو برسوں سے عالمی سازشی نظریات (غیر ملکی، نفسیات، تاریخ کے راز) پر کما رہے ہیں تاہم ریاستی مالی اعانت سے چلنے والے چینلز سیاسی سازشی تھیوریوں سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن کتنے قارئین یا ناظرین نے سنجیدگی سے اس بارے میں سوچا کہ کون کس لیے اور کن مقاصد کے لیے سازشی نظریات کو اپنے ایجنڈے میں سر فہرست رکھتا رہتا

تو شاید ہم یہ سوچتے ہی نہیں؟ ”میڈیالوجیا“ کی درجہ بندی میں یہ سازشی تھیوری کس نمبر پر سامنے آتی اور کتنے ریٹنگ بڑھتی ہے، بس یہی ایک مقصد رہ گیا ہے (میڈیا اکثر ایسے احتجاجی بیانیہ کو گانے میں ”تبدیلی“ کو مقبولیت کے عروج پر یاد کرتا ہے ) ۔ عوام بتدریج اس امر پر یقین کرنے لگی ہے کہ وہ ہمیں سچ نہیں بتاتے، جو کچھ وہ نشر کرتے ہیں وہ کسی کے مفادات کا عکاس ہوتا ہے۔ ٹیلی ویژن میں حالات حاضرہ کے پروگراموں پر پاکستانیوں کا عدم اعتماد بھی ایک لحاظ سے سازشی تھیوری ہے، اس لیے سازشی ذہن رکھنے والے عناصر سازشی ٹیلی ویژن کو عدم اعتماد کے ساتھ دیکھتے ہیں، لیکن ٹی وی پر سازشی تھیوری کو ذاتی سازشی تھیوری کی مدد سے ختم نہیں کیا جا سکتا، اور پتا چلتا ہے کہ جنرل میڈیا اور ناظرین کا مزاج ایک جیسا ہے۔ وہ صرف ایک دوسرے کو اکساتے ہیں۔ سنسنی پیدا کرتے ہیں، پروفیشنل ازم پر فروعی مفادات غالب آ جاتے ہیں اور ان سب کا ایک ہی مطمح نظر ہوتا ہے اور وہ سازشی نظریات کا زیادہ سے زیادہ پھیلاؤ۔

دنیا میں سازشی نظریات کے پھیلاؤ کی وضاحت عالمی اور ملکی دونوں عوامل سے ہوتی ہے جن میں تاریخی، سماجی، سیاسی وغیرہ شامل ہیں۔ ماضی قریب میں لوگوں کی پھانسیاں، جیل میں اذیت و دباؤ کو بڑھانا، جلاوطنی اور ملک بدری مکمل طور پر رد انقلابی سازش، غیر ملکی مداخلت، بیرونی و اندرونی ایجنٹ، غداری کے فتوؤں کو ایک تھیوری بنا کر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اس کا نقصان ان کا زیادہ ہوتا ہے کہ اگر وہ مکمل طور پر ہر چیز پر منحصر ہوتے ہیں، مثلاً جدید نظریاتی تھیوریاں، تو سازشی خیالات سے ہی جنم لیتے ہیں۔

اگر یہ احساس ہے کہ آپ اپنی زندگی کے مالک ہیں اور آپ کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے، تو آپ کو بیرونی قوتوں کا آلہ کار بننے پر کوئی مجبور نہیں کر سکتا، سازشی نظریات ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ پھر سب آپ کے قابو میں ہوتا ہے۔ کسی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اس کی وضاحت کرنے کی کلید خود ایک تھیوری میں پوشیدہ ہے۔ ملک کے شدید دشمنوں کے نام بدل سکتے ہیں، اور دیگر نظریات آسانی سے بیکار کے احساس کے تحت فٹ ہو جاتے ہیں۔

درحقیقت یہ کسی کی اپنی شرمساری کا اظہار ہے۔ اس طرح کی لائی جانے والی سازشی تھیوریوں سے تبدیلی لاکھوں لوگوں کے لیے روحانی میدان میں ایک بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے، بہت سوں کو ریاست کی ضرورت نہیں تھی، وہ صرف اپنے آپ کی ضرورت کے تابع رہے اور یہ اب زندگی نہیں ہے، ریاست آج بھی بہت سے لوگوں کو محسوس نہیں کرتی کیونکہ ان کی سازشی تھیوریوں کے معاملات نے ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ وہ ریاست سے مخلص ہیں یا پھر ذاتی انا اور خود ساختہ سازشی نظریات سے۔

Facebook Comments HS