کشمیر میں بڑھتی ہوئی سیاسی عدم برداشت
آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں جہاں بہت سے مثبت پہلو ہیں، ان میں سیاسی کارکنان میں برداشت و بھائی چارے کی فضاء قابل مثال ہے۔ یہاں پر تقریباً ہر گھر میں سیاست کو سمجھنے والے لوگ موجود ہیں۔ انتخابات میں ہر ایک اپنے سیاسی نظریات کا پرچار کرتا ہے اور ووٹ بھی مانگے جاتے ہیں پر سیاست کی بنیاد پر بہت کم دشمنیاں پروان چڑھائی جاتی ہیں۔
لیکن، گزشتہ تین چار سال سے سیاسی ماحول میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ پاکستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں نے آزاد کشمیر کے پرامن خطے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ کہاں وہ دور جب آزاد کشمیر میں سیاسی جماعتوں سے بالاتر لوگوں کے آپس کے تعلقات ہوا کرتے تھے اور کہاں یہ دور جب کہ مظفرآباد شہر کے اندر پاکستان تحریک انصاف کا ایک کارکن، اپنے قائدین کی خوشنودی و رضا کے لیے نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے کارکن کو سر عام نہ صرف تھپڑ مارتا ہے بلکہ ویڈیو بھی بنائی جاتی ہے تا کہ سوشل میڈیا پر پھیلا کر مزید شاباشی وصول کی جائے۔ شاید آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں یہ انوکھا اور پہلا واقع ہے پر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر مظفرآباد کی جانب سے اگر اس فعل کی حمایت کی جاتی ہے تو شاید مستقبل میں اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ حکومتیں تو آنی جانی ہیں۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کو اس عمل کی مذمت کرنی چاہیے اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو یہ بات سمجھنا پو گی کہ سردار تنویر الیاس، پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے ہی نہیں بلکہ ہر کشمیری کے وزیراعظم ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے کارکنان کو یہ بات سمجھانا ہو گی کہ سیاسی قائدین کے خلاف بات کرتے ہوئے یہ بات ذہن نشین رکھنا ہو گی کہ ہر سیاسی شخصیت کے پیروکار ہوتے ہیں اور ان کے اپنے جذبات ہوتے ہیں۔ آج پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے ایک نیا محاذ شروع کیا، سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کے خلاف نعرے بازی کی گئی، اس نعرے بازی میں پریشان کن بات یہ تھی کہ اخلاقیات کا بھاشن دینے والے سابق صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر خود اخلاقیات سے عاری نعرے لگاتے نظر آئے۔
باقی اس لڑائی کو سیاسی میدان میں ہی لڑنا چاہیے، نا کہ اپنے ذاتی عزائم کے لیے برادریوں کا ٹکراؤ ہونا چاہیے۔


