خدا کا نہیں، یہ ہمارا کیا دھرا ہے!


نیب کی طرف سے تقریباً عدم پیروی کی بناء پر مریم نواز اور ان کے شوہر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں ’باعزت بری‘ کر دیا ہے۔ یاد رہے، یہ وہی مقدمہ ہے کہ جس میں محترمہ کی ضمانت پر رہائی کا حکم عام معمول سے ہٹ کر کئی صفحات پر لکھا گیا تو اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان نے پوچھا تھا، ’کیا کبھی ضمانت دیے جانے کا حکم اس قدر طویل بھی ہوا ہے؟ کیا کبھی ضمانت کے حکم نامے میں‘ میرٹس آف دی کیس ’بھی زیر بحث لائے گئے؟

‘ خود موجودہ حکومتی بندوبست کے حامی مغرب زدہ لبرلز کے ترجمان انگریزی اخبار نے حالیہ دنوں میں صفحہ اول پر ایک مفصل رپورٹ شائع کی ہے کہ جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ نیب قوانین میں حالیہ تبدیلیوں اور من پسند چیئرمین نیب کی تعیناتی کے بعد موجودہ حکمران اتحاد کے رہنماؤں کے خلاف کرپشن کیسز عملاً غیر موثر ہو گئے ہیں۔ مریم اور ان کے شوہر کی اپیلوں کی سماعت کرنے والا اسلام آباد ہائی کورٹ کا بنچ گزشتہ پے در پے سماعتوں میں نیب کے وکلاء کو ملزمان کے خلاف ثبوت پیش کرنے کے لئے کہتا رہا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر مگر ہر بار سماعت ملتوی کر دینے کی درخواست کر دیتے۔ سوال یہ ہے کہ وہ درجنوں ’بکسے‘ جو گدھوں پر لاد کر سپریم کورٹ لائے گئے تھے۔ وہ ٹنوں کے حساب سے ثبوت جو ہمیں بتایا گیا تھا ان بکسوں میں بند تھے، وہ ثبوت جو ہمیں بتایا گیا کہ جے آئی ٹی نے بڑی عرق ریزی سے اکٹھے کیے تھے، وہ والیم ٹین کہ جس کا پہلا صفحہ دیکھ کر راویوں نے بتایا کہ نواز شریف کے وکلاء کی ٹانگیں کانپ گئی تھیں۔ وہ گدھے، وہ بکسے، وہ ٹنوں ثبوت اور وہ والیم ٹین کہاں گئے؟ کیا وہ قوم کو محض گدھا بنانے کے لئے تھے؟ سوال یہ ہے کہ ہم انسانوں کو کب تک گدھے اور الو بناتے رہیں گے؟

ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں صاحبزادی کی باعزت بریت کی خبر سننے کے بعد اپنے صحافیوں کے جلو میں جناب نواز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا، ’میں نے اپنے معاملات خدا پر چھوڑ دیے تھے، آج خدا نے ہمیں سرخرو کر دیا ہے‘ ۔ پاکستانیوں کے باب میں ممتاز مؤرخ کے کے خورشید نے کہیں لکھا تھا، ’رنگے ہاتھوں پکڑیں جائیں تو شرمسار نہیں ہوتے، اپنی پاک دامنی پر اصرار کرتے ہیں‘ ۔ ہر سیاست دان کی طرح محترم میاں صاحب کو بھی اختیار حاصل ہے کہ خود اپنے اوپر اور اپنے خاندان کے دیگر افراد پر لگائے جانے والے الزامات کو جھوٹ قرار دیں۔

لیکن ان مقدمات میں بریت کی ذمہ داری کہ جن کی پیروی سے خود مدعی پیچھے ہٹ گیا ہو، براہ راست خدا کے کندھوں پر ڈال دینا کہاں کا انصاف ہے؟ سوال یہ ہے کہ عدم ثبوتوں کی بنا پر اب جن مقدموں میں ہائی پروفائل ملزمان باعزت بری ہو رہے یا ضمانتیں پا رہے ہیں، آخر یہ مقدمات قائم کیوں کر کیے گئے تھے؟ مانا کہ عمران خان شور مچاتے رہے اور ’نہیں چھوڑوں گا‘ کی گردان الاپتے رہے، لیکن کیا چھوڑنا یا نہ چھوڑنا واقعی ان کے اختیار میں تھا؟ میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی کو ملنے والی سزاؤں کے پیچھے خفیہ ہاتھ تھے۔ بہت سے لوگ یقیناً ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ کیا ان کی بریت بھی عین قرین انصاف ہے؟ باپ بیٹی پر بننے والے مقدمات مبنی بر زیادتی تھے یا اب برسوں بعد ثبوتوں کی عدم فراہمی کی بناء پر ملزمان کی بریت اس قوم کے ساتھ ظلم ہے؟

ہمیں بتایا گیا کہ شریف فیملی کے بھارت سے اچھے تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا بنیادی محرک میاں صاحب کی دور اندیش ’سٹیٹس مین شپ‘ سے کہیں بڑھ کر کاروباری ترجیحات ہیں۔ حال ہی میں لیک ہونے والی چچا بھتیجی کی گفتگو نے بظاہر اسی خیال کو تقویت بھی بخشی ہے۔ بھارت سے تعلقات بحال کرنا مگر کوئی معیوب خواہش نہیں۔ تاہم اگر تعلقات میں ذاتی اور خاندانی مفادات کا رنگ گہرا دکھائی دینے لگے تو کان کھڑے ہونا قابل فہم ہے۔

گھبرا کر درست کام بھی چوری چھپے کیا جانے لگے تو بدگمانیوں کو تقویت ملنا فطری امر ہے۔ برسوں ہمیں بتایا گیا تھا کہ شریف خاندان کے بھارتیوں سے خفیہ مراسم ہیں۔ خفیہ مقامات پر خفیہ ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ ان کی فیکٹریوں میں بھارتی چوری چھپے کام کرتے ہیں۔ لیکن اب ایسا دکھائی دیتا ہے وہ سب داغ دھل گئے ہیں۔ دوسری طرف حال ہی میں لیک ہونے والی ایک اور آڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ مریم نواز بھی اب پرویز مشرف کی واپسی کے سوال سمیت، کوئی بد گمانی نہیں چاہتیں۔

معلوم ہوا کہ مشرف صاحب کی واپسی پر نواز شریف صاحب کا ’مثبت‘ رد عمل والا ٹویٹ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ آج میاں صاحب جس مقام پر کھڑے ہیں اس کے لئے انہوں نے بہت محنت کی ہے۔ ایک کائیاں اور تجربہ کار شاطر کی طرح محلاتی راہداریوں میں بچھی شطرنج کی بساط پر اپنے مہرے خوب جمائے اور پے در پے چالیں ایک سے بڑھ کر ایک چلی ہیں۔ روز اول سے ہی میاں صاحب جانتے تھے کہ شہ مات کب اور کہاں چلنی ہے۔

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ لندن میں بیٹھے میاں صاحب نے عالمی سطح پر بھی مہارت سے اپنے پتے کھیلے ہیں۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد پانے کے لئے میاں صاحب افغانیوں کا خون چوسنے والی، امریکہ کی لے پالک افغان حکومت کے کارندوں سے لندن میں ملاقاتیں کرتے رہے تو صاحبزادی افغان سفیر کی صاحبزادی کے ’اغواء‘ کے ڈرامے میں افغانیوں کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔ مغرب زدہ لبرلز کی الیٹ لابی اور اس کے دیسی کارندے ایک منظم نیٹ ورک کی صورت میں باپ بیٹی کے ساتھ پہلے سے کھڑے تھے۔

ٹویٹر پر اہم عسکری اور سیاسی شخصیات کے خلاف ایک منظم مہم برپا رکھی گئی۔ مغربی راتب پر جو پلتے ہیں، ان کا طرز عمل تو قابل فہم ہے، لیکن وہ جو ہمیں بتاتے رہے کہ کون کون سیکیورٹی رسک ہے، فارن فنڈنگ پر پلتا ہے، اب خاموش کیوں ہیں؟ عمران خان کو حکومت بنانے میں مددگار غیر مرئی ہاتھ کسی سے چھپا نہیں تھا، بالکل جیسے ان کو ہٹائے جانے کے پس پشت محرکات اب کوئی راز کی بات نہیں۔ عمران حکومت کی غیر مقبولیت کے باب میں مستقبل کا اندازہ مگر پہاڑ جیسی غلطی نکلا۔ اندازے تو اکثر غلط ہو جاتے ہیں، سوال مگر یہ ہے کہ کیا موجودہ بندوبست سے بہتر کوئی آپشن موجود نہیں تھا؟

آج عمران خان کو خیرہ کن مقبولیت حاصل ہے، پورا سسٹم مگر بدنام ہو چکا ہے۔ اپنی بقاء کے لئے سسٹم مگر اب بھی بضد ہے۔ اس بیچ، عشروں کی کمائی ہفتوں کے اندر اجاڑ دی گئی ہے۔ اب جن گھوڑوں کو میدان میں اتارا گیا ہے، ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ کے نام پر ایک کے بعد ایک ریلیف انہیں مل رہا ہے۔ دوسری طرف درجنوں مقدمات اور نا اہلی کے ریفرنس اب عمران خان کے خلاف قائم ہیں۔ اس بیچ نواز شریف لندن میں کھڑے ہو کر فرماتے ہیں، ’اپنا معاملہ میں نے خدا پر چھوڑ دیا تھا‘ ۔ اگر خدا کو اس سب کھیل میں سے ہم باہر رکھیں تو کیا بہتر نہیں ہو گا؟

 

Facebook Comments HS