میثاق اخلاقیات اور پچھتر سالہ خواب

پاکستان کی سیاست میں شدید گرما گرمی کے ماحول نے آگ لگا رکھی ہے اس کی تپش سے اگر کوئی متاثر ہو رہا ہے تو وہ صرف اور صرف عوام ہیں سیاست دان تو ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ایک گرم سا بیان داغ دیتے ہیں جو ان کے مخالفین پر بجلی بن کر گرتا ہے ہر ایک نے اپنا نمبر بہتر کرنے اور قیادت کی انکھ کا تارا بننے کے لیے مخالفین پر ایسا وار کرتا ہے کہ جس کا جواب بھی خونی قسم کا آ جاتا ہے کوئی بھی سیاسی رہنما تحمل کا راستہ اپنانے کو تیار نہیں گالی کا جواب گالی سے دیا جا رہا ہے میدان میں لگا سیاسی جلسہ ہو یا پارلیمنٹ کا اجلاس ہو ایسی غیر مہذب گفتگو کی جاتی ہے کہ سن کا ہی سیاسی قیادت کی سوچ پر شرمندگی ہوتی ہے۔
میرے دوست کرنل (ر) ندیم خان نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک تحریر بھیجی جو میرے خیال میں میری اس تحریر سے مطابقت رکھتی ہے تو سوچا اسے بھی پڑھنے کے لیے اپ کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ ہماری قیادت ان الفاظ کو اپنا لے تو بہت سے مسائل جڑ سے ختم ہو جائیں اس تحریر میں کہا گیا الفاظ کی اپنی دنیا ہوتی ہے۔ ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے، کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں کچھ غلامی کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں اور کچھ وار۔ ہر لفظ کا اپنا ایک مکمل وجود ہوتا ہے جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا تو سمجھا لفظ صرف معنی نہیں رکھتے یہ تو دانت رکھتے ہیں جو کاٹ لیتے ہیں یہ ہاتھ رکھتے ہیں جو گریبان پھاڑ دیتے ہیں جو ٹھوکر لگا دیتے ہیں اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں لہجہ کا اسلحہ تھما دیا جائے تو یہ وجود کو چھلنی کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں اپنے لفظوں کے بارے میں محتاط ہو جایں انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لیں کہ یہ کسی کے وجود کو سمیٹیں گے یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے۔
کیونکہ یہ ہماری ادائیگی کے غلام ہیں اور ہم ان کے بادشاہ اور بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے بڑے بادشاہ کو جواب دہ بھی۔ میرا اس موضوع پر لکھنے کا مقصد پاکستان میں جاری گالی گلوچ کے رواج پر گفتگو کرنا ہے اس کا کچھ خلاصہ آپ نے پڑھ لیا اور مزید اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہنا چاہوں گا کہ ہمارا معاشرہ جس پستی کی جانب رواں دواں ہے وہ پاکستان کی سیاسی، معاشی تباہی کے ساتھ اخلاقی طور پر غرق ہونے کے قریب ہے۔
ایسی صورتحال کا کون ذمہ دار ہے اس میں کسی ایک کو قصور وار نہیں کہا جا سکتا گھر سے لے کر سیاست کے ایوانوں تک اخلاقی پستی کے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جن کو دیکھ کر مایوسی کے سائے گہرے سے گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا قومی تشخص بھی ان ہی اندھیروں میں گم ہو چکا ہے ہم جو کہ نظریاتی قوم کہلاتے تھے ہمارا نظریہ ہمارے قدموں تلے سسکیاں لے رہا ہے اور معاشرہ اس کی چیخیں سننے کی سکت نہیں رکھتا ہم اپنے مفادات کے لیے گونگے بہرے ہی نہیں مکمل طور پر اپاہج ہو چکے ہیں۔
ہمارے رہنماؤں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے میثاق جمہوریت تشکیل دیا حالانکہ یہ دونوں فریق ایک دوسرے کی جان کے دشمن تھے پھر بھی مفاد کے لیے بھائی بھائی بن گئے ان کا اقتدار تو طویل سے طویل ہوتا گیا لیکن ملک کا وقار اتنا ہی کم سے کم ہوتا گیا۔ قوم کو اخلاقی پستی سے نکالنے کے لیے تمام طاقت ور حلقوں کو ملک میں عوام کے ساتھ مل کر میثاق اخلاقیات نافذ کرنا چاہیے۔ اگر سیاست دان اپنے الفاظ کا چناؤ بہتر کر لیں ایک دوسرے پر ذاتی حملے ختم کر دیں گالی زدہ الفاظ بولنا ترک کر دیں سیاست ضرور کریں لیکن بازاری زبان سے توبہ کر لیں تو ان کے چاہنے والوں کے درمیان بھی تلخی ختم ہو جائے گی سیاست دان اگر میثاق اخلاقیات پر معاہدہ کرنے پر راضی نہیں تو اتنی ہی مہربانی فرما دیں کہ اپنی زبان سے کوئی غیر اخلاقی الفاظ کا استعمال نہ کریں تو پھر بھی ماحول میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
عوام خود ہی میثاق اخلاقیات کے لیے تحریک کا آغاز کر دیں تاکہ پاکستان کی طاقت ور قوتوں کو احساس دلایا جا سکے امید ہے مثبت انداز اپناتے ہوئے اللہ ہمیں ضرور کامیاب کرے گا۔ اسی موضوع سے جڑی دوسری بات نوجوان صحافی وقاص اعوان جو کہ کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں بس نوجوان خون ہے اس کے باعث خون میں جوش اور تیزی کا عنصر ہے لیکن محنتی ہیں وقت اور تجربے کے ساتھ ٹھہراؤ آ ہی جائے گا ان سے بات کرتے ہوئے ایک فقرہ زبان پر آیا کہ قوم کے پچھتر سالہ خواب تو اسی کو تحریر کا موضوع بنا دیا ویسے تو میری عمر ساٹھ سال ہو چکی تو جاننے والے سوچیں گے کہ باقی پندرہ سال کے خواب میں نے کیسے دیکھ لیے تو عرض ہے کہ ان پندرہ سالوں کے خواب بزرگوں نے میرے حوالے کیے کہ لو اب تمہارا وقت آ گیا ہے تم ان خوابوں کی تعبیر پوری کرو ان خوابوں کی امانت کو پورا کرنے کی کوشش میں ہوں۔
قوم کے خواب کیا تھے ایک بات صاف ہے کہ قوم کے خوابوں اور سیاست دانوں کے خوابوں میں بہت فرق ہے ایک پاکستانی آج بھی امن چاہتا ہے روزگار چاہتا ہے عزت چاہتا ہے اپنے گھر کی چار دیواری میں محفوظ زندگی چاہتا ہے آئین کی کتاب میں دیے گئے حقوق چاہتا ہے جو کہ اس کا حق ہے اسے اس بات سے غرض نہیں کہ ستمبر میں کیا ہونا ہے اور اکتوبر مین کیا ہو گا وہ نہ نومبر کو جاتا دیکھ رہا ہے اور نہ دسمبر کے سرد موسم سے متاثر ہے بس دسمبر کے حوالے سے کچھ خاص اشعار کہہ کر اپنے دل کو تسلی دیتا ہے کون اقتدار کے ایوانوں میں آ رہا ہے کون سازش کر رہا ہے اور کون مداخلت کس نے سائفر نما مراسلہ غائب کیا کس نے تعینات ہونا ہے اور کس نے جانا ہے یہ سب کچھ عوام کی پہنچ سے دور ہے ان کے خواب کا خانہ خراب کرنے والے ماضی کا حصہ بنتے گئے اور آنے والے دور میں بھی ایسا ہی ہو گا اقتدار کے کھلاڑی اپنے خوابوں کی تکمیل کی بجائے عوام کے پچھتر سالہ خواب کو اہمیت دیں یہ پچھتر سالہ خواب ابھی زندہ ہے اس میں بہت ہمت ہے اسے کئی بار روندا گیا یہ پھر بھی زندہ ہے اور اسی زندہ خواب کا نام پاکستان کی خوشحالی ہے جسے ؑعوام نے مسلسل زندہ رکھا ہوا ہے کیونکہ وہ اسے رات کو ہی نہیں دن کو بھی دیکھتے ہیں۔ اس خواب کو توڑنے والے خود لقمہ اجل بن گئے اور عوام پھر سے وطن کی ترقی کے خواب کو لے کر چل رہے ہیں

