بوسنیا کی چشم دید کہانی (14)۔
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ابھی تک ہمارے ساتھ چار خواتین ترجمان کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ یہ چاروں سرب تھیں اور جمہوریہ سربسکا کے قصبوں ٹریبینیا اور لوبینیا میں مقیم تھیں۔
سیکا کا پورا نام Adzovic Stanislva تھا۔ وہ انتہائی ذہین اور حاضر جواب عورت تھی۔ عمر ڈھل چکی تھی اور اب بھدے پن کی حد تک موٹی تھی۔ اس کا والد ضلعی کمیونسٹ پارٹی کا ایک اہم عہدیدار رہا تھا۔ اس کے گھرانے کی مذہب سے رغبت ہمیشہ برائے نام رہی تھی اور اس کے بقول جنگ سے پہلے کی زندگی میں وہ کبھی ایک دفعہ بھی چرچ نہیں گئی تھی۔ اب چونکہ منقسم یوگوسلاویہ میں مذہب اور نسل کا حوالہ ہی اصل شناخت سمجھا جاتا تھا لہٰذا اب وہ بھی اپنے گلے میں صلیب لٹکاتی تھی اور مذہبی اور نسلی نسبت کے حوالے سے اتنی ہی جذباتی تھی جتنے عام عوام۔
وہ بلا کی شرارتی تھی۔ ایک دفعہ غلام نبی میمن ( آپ آج کل آئی جی سندھ ہیں ) اور نجف مرزا کو دیکھ کر ہم پہ چوٹ کی۔ یو این ہیڈ کوارٹر کی سٹولک سے کتنی بڑی زیادتی ہے کہ یہاں ایک بھی خوش شکل پاکستانی افسر نہیں بھیجا۔ میں نے کہا۔ گمان ہے یہ اس لیے کیا گیا کہ ترجمان بے چاری جو بس قد کاٹھ کی حد تک ہی سرب ہیں احساس کمتری کا شکار نہ ہوں اور مساوات برقرار رہے۔ ایسی نوک جھونک اس سے اکثر رہتی تھی۔ وہ نہ صرف چوٹ کرنے کا مذاق بلکہ اسے برداشت کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی تھی۔ اس کا لباس اور خوشبو کا اچھا ذوق تھا۔ اس حوالے سے جب بھی کوئی اس کی تعریف کرتا تو کاندھے اچکا کے کہتی
I am simply the best
وہ یوگوسلاویہ کی تقسیم کی حقیقت کو ذہنی طور پر تسلیم نہ کر سکی تھی۔ وہ اکثر سرائیوو کے ذکر پر کہ جہاں اس کے بہت گہرے دوست رہا کرتے تھے، پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی تھی۔
ہماری دوسری ترجمان lepozava Segret تھی جسے ہم لیپا کے نام سے پکارتے تھے۔ بڑھاپے کے جہاں میں کافی پہلے قدم رکھ چکی تھی۔ اس کے نقش انتہائی تیکھے اور دلکش تھے اور اس کا چہرہ و قد بت اس مصرعہ کی تصویر۔
ع۔ کھنڈرات بتاتے ہیں عمارت عظیم تھی
وہ ہماری تمام ترجمانوں میں سب سے زیادہ پڑھی لکھی خاتون تھی۔ اس نے امریکہ سے فنون لطیفہ میں ماسٹر کیا تھا اور بہت اچھی مصور تھی۔ یوگوسلاویہ کی تقسیم کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی میں اور کئی سخت مراحل بھی آئے تھے جن کے اثرات اس کی شخصیت پر بہت گہرے تھے۔ ان میں سے ایک اس کے خاوند کا عین جوانی میں اسے طلاق دینا اور دوسرے اس کا وہ معذور بیٹا تھا جو اس کے لیے بہت سے مسائل کا باعث تھا۔ وہ کم گو اور تنہائی پسند تھی اور بہت کم مانیٹروں سے زیادہ کھل کے گپ شپ لگاتی تھی۔
ایک دفعہ میں نے جب اس سے اس رویے کی وجہ پوچھی تو بولی مجھے کم آئی کیو والے لوگ اپیل نہیں کرتے اس لیے میں ان کی رفاقت کی بجھائے تنہائی کو ترجیح دیتی ہوں۔ میرے لیے سب سے حیرت کا باعث وہ قہقہہ ہوتا تھا جو وہ کبھی کسی خوشی کے موقع پر بے اختیار لگاتی تھی۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ اتنی مایوسیوں کے باوجود اس کے اندر زندہ دلی کا دم خم اب بھی موجود ہے جو اسے یہ حوصلہ دیتا ہے۔
ع۔ ہمت کرو جینے کو تو اک عمر پڑی ہے۔
ان میں تیسری ترجمان لیجا تھی۔ وہ دو نوجوان بچیوں کی ماں تھی اور ایک خوشگوار گھریلو زندگی بسر کر رہی تھی۔ وہ شکل و صورت اور ذہنی صلاحیت دونوں اعتبار سے ایک اوسط درجے کی خاتون تھی۔ اس کے طور طریقوں اور میل جول کے انداز میں دیہاتی پس منظر کی جھلک نمایاں تھی۔ مانیٹروں میں ماسوائے جی جی ( ژاں ژیک) کے اور کسی کے لیے کم ہی قابل قبول تھی۔ گوروں کا یہ رویہ تو ممکن ہے دیہاتی اور شہری مزاج کے فرق کا نتیجہ ہو لیکن نہ معلوم ہم جیسے دیہاتی بھی اس سے فاصلہ کیوں رکھتے تھے۔ لگتا ہے کہ اس کے پیچھے یہ خطرہ کار فرما تھا کہ کہیں اپنا دیہاتی پن ہمزاد کو پا کر کچھ ایسا نہ مچل جائے کہ اپنے نستعلیق ہونے کی جو اداکاری ہم کرتے رہتے ہیں اس کا بھرم کھل جائے۔
پرانی ساتھیوں میں آخری ساتھی سلاجہ تھی جس کا مکمل نام Jaunjac Saladana تھا۔ عمر تیس کے قریب ہو گی اور غیر شادی شدہ تھی۔ عمر کا بڑا حصہ موسطار میں گزرا تھا۔ جنگ نے اس سے اس کا موسطار اور پرانے دوست چھین لیے تھے اور اس کے بقول اسے ایک ایسا جسم بنا دیا تھا جس کی روح اس سے جدا ہو گئی ہو۔ وہ بہت کمزور دل تھی۔ جنگ کے نتیجے میں جن مالی پریشانیوں سے دو چار رہی تھی اس بناء پر اپنی نوکری کے حوالے سے بہت محتاط تھی۔
وہ لوبینیا کے قصبے سے چند کوس کے فاصلے پر ایک گاؤں میں اپنے والدین بہن اور اس کے کم سن بیٹے کے ہمراہ رہتی تھی۔ اس کی بہن اور اس کے مسلمان خاوند کے درمیان جنگ کی وجہ سے علیحدگی ہو گئی تھی اور پچھلے چار سالوں سے ان کے درمیان کوئی رابطہ نہ ہوا تھا۔ ماں اور بہن کھیتی باڑی کرتی تھیں اور ہفتہ وار دو چھٹیوں کے دوران سلاجہ بھی ان کا ہاتھ بٹاتی تھی۔ اس نے کچھ عرصہ ایک سکول میں جز وقتی ملازمت اختیار کی لیکن دو نوکریاں نبھانا چونکہ مشکل تھا اس لیے وہ ملازمت ترک کرنا پڑی۔ سیکا اور لیپا کو اس سے خدا واسطے کا بیر تھا اور اس کے خلاف موقع بے موقع محاذ کھولنے کو دیر نہیں کرتی تھیں۔ اس کے جواب میں سلاجہ کے رویے کی مثال بس ایسی ہی تھی۔
آپ جو کچھ کہیں ہمیں منظور
نیک بندے خدا سے ڈرتے ہیں۔
سٹولک کے لگے بندھے ماحول میں پہلی ہلچل اس سمے پیدا ہوئی جب چھ فرانسیسی پولیس افسر ایک ساتھ اس کے سٹاف میں شامل ہوئے۔ یہ ایک نیم فوجی تنظیم جنڈر میری سے تعلق رکھتے تھے جس کا ایک اعلٰی افسر کرنل کاربون ہمارے ریجن سرائیوو کا ریجنل کمانڈر تھا۔ یہ پالیسی اسی کی وضع کردہ تھی کہ فرانسیسی افسران کو سرب علاقے میں تعینات نہ کیا جائے۔ اس کی وجہ فرانسیسی فضائیہ کا وہ کردار بتایا جاتا تھا جو اس نے نیٹو کی طرف سے سربوں کے خلاف کی گئی کارروائی میں ادا کیا تھا اور یہ سب جانتے تھے کہ دشمنی کو بھلا دینا اور دشمن کو معاف کرنا سربوں کی روایت نہ تھی۔
چنانچہ جولائی کے آخر میں آنے والے فرانسیسی دستے کے تمام افسران سرائیوو ریجن میں تعینات کیے گئے اور انہیں سٹیشنوں میں تعینات کرتے ہوئے یو این مشن کے اس ضابطے کو ویسے ہی کاغذ کا ایک بے وقعت پرزہ گردانا گیا جیسے پاک سر زمین میں فوجی حکمران آئین کو اپنی صائب رائے کے مطابق تکلف بر طرف بس کاغذوں کا پلندا سمجھتے تھے۔ اس ضابطے کے مطابق یہ لازم تھا کہ کسی بھی سٹیشن پر کسی بھی ملک کے افسران اس تعداد میں تعینات نہیں کیے جائیں گے کہ انہیں دوسروں پر عددی برتری حاصل ہو جائے۔
اس پالیسی کی خلاف ورزی کا نشانہ بننے والے سٹیشبوں میں سٹولک سر فہرست تھا جہاں ابھی تک باقی ملکوں سے تو دو دو افسر تعینات تھے لیکن فرانسیسی چھ۔ ہم سب اس صورت حال پر بے حد خفا تھے لیکن ان کی ریجنل کمانڈر سے وطن داری مانع احتجاج تھی۔ ژاں ژیک، فلپ، رولانڈ، سرج، لوئی اور لیوک یہ تمام افسر ہمارے سٹیشن میں اس دھج سے آئے جیسے کسی اپنی افریقی کالونی میں داخل ہو رہے ہوں۔




