عدالت کا اعتبار خطرے میں ہے


غیر مصدقہ خبر ہے کہ اسحاق ڈار کو چار سال کی سینیٹ ممبری کی تنخواہ بھی ادا کی گئی۔ بظاہر یہ بہت ہی معیوب بات ہے۔ لیکن اس کا ایک پہلو یوں بھی ہے :

2017 مین ملک کے تحقیقاتی ادارے اور عدلیہ اچانک نون لیگ کے رہنماؤں کے خلاف تحقیقات کرنے لگے۔ جلد ہی اکثر پر بدعنوانی کے مقدمات قائم ہوئے۔ نواز شریف، ان کے بیٹوں، بیٹی، بھائی، ًبھانجے اور دیگر پارٹی والے جلد ہی شدید قسم کے مقدمات میں پھنس گئے اور ایک ایک کر کے سزا پانے لگے۔ انہی دنوں اسحاق ڈار بھاگ کر لندن چلے گئے۔ باقی بہت سے جیلوں میں رہے۔ ان کے کیسوں کی سماعت کے دوران تحقیقاتی اداروں اور عدالت کے ججوں نے ان لوگوں پر شدید قسم کے الزامات لگائے اور برسر عدالت ان کو قسم قسم کے ناموں سے پکارا گیا (سسلین مافیا، گاڈ فادر وغیرہ) ۔

2019 کے بعد اچانک صورت حال تبدیل ہونے لگی اور ایک ایک کر کے ان کو ریلیف ملنے لگا۔ نواز شریف جیل سے نکل کر باہر چلے گئے۔ ان کی بیٹی اور ان کا بھانجا بھی باہر آ گئے۔ اب عدالتیں ایک ایک کر کے ان لوگوں کو بے گناہ قرار دے رہی ہیں، وہی عدالتیں جو ان کو سزا دینا نہ صرف قانون بلکہ اپنی ضمیر کے مطابق اولیں فرض سمجھتے تھے۔ سب سے بڑے ملزم (بلکہ مجرم) اسحاق ڈار کو بلا کر ملک کا وزیر خزانہ بنا دیا گیا ہے۔

اب صورت حال دو امکانات سے خالی نہیں۔ اول یہ کہ یہ سارے لوگ بے گناہ تھے اور عدالتیں کسی نامعلوم وجہ سے ان کے خلاف ہو گئی تھیں۔ ایسا ہے تو ان لوگوں کو نہ صرف اپنے بقایا جات واپس لینے کا حق ہے بلکہ وہ ہتک عزت کا دعویٰ بھی کر سکتے ہیں جس سے ان کو مزید تاوان مل سکتا ہے۔ یاد رہے کہ بیرون ملک عدالتوں میں وہ اس قسم کے کیس جیت کر تاوان وصول کر چکے ہیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ یہ لوگ مجرم ہیں اور عدالتیں کسی نامعلوم وجہ سے اچانک ان کے حق میں ہو گئی ہیں۔ ایسا ہے تو عدالتی فیصلوں کی کوئی وقعت باقی نہیں رہتی، نہ صرف موجودہ فیصلوں بلکہ ان سابقہ فیصلوں کی بھی جن کے تحت ان کو سزائیں دی گئی تھیں۔

یہاں آپ یہ مت کہیے گا کہ یہ لوگ حکومت میں آ کر ریلیف لے رہے ہیں۔ ان کو سزائیں اس وقت دی گئی تھیں جب ان کی اپنی حکومت تھی اور ریلیف پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران ملنا شروع ہو گیا تھا۔ یعنی یہ بات تقریباً طے ہے کہ عدالتوں اور تحقیقاتی اداروں پر اثر انداز نہ نون لیگ ہو سکی ہے اور نہ پی ٹی آئی۔

ان میں سے جو بھی صورت ہو، عدلیہ کا اعتبار شدید طور پر مجروح ہوا ہے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ان لوگوں کو سزا دینے اور ان کو بری کرنے کے فیصلے ایک ساتھ درست ہوں۔

ایسی صورت میں سب سے ضروری کام یہ رہ جاتا ہے کہ عدالتوں کا اعتبار بحال کرنے کی کوئی صورت نکالی جائے مثلاً ایک اعلیٰ سطحی کمیشن مقرر کیا جائے جو 2017 سے اب تک سیاستدانوں پر قائم ہونے والے مقدمات کی چھان بین کرے کہ غلطی کہاں ہوئی۔ یاد رہے جس معاشرے میں عدالت کا اعتبار اور وقار باقی نہیں رہتا، وہاں انصاف اور قانون کی حکمرانی بے معنی ہو جاتی ہے۔

ایک بات پیش نظر رکھیں کہ یہاں بات خالصتاً عدالتوں کی ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی اور نون لیگ یا پی پی پی ایک دوسرے پر جو الزامات لگاتے آئے ہیں وہ زیر بحث نہیں۔ سیاسی لوگ ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہتے ہیں اور یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ لیکن ایک الزام عدالت میں آتا ہے تو پھر یہ سیاسی معاملہ نہیں رہتا۔ پھر عدالت اور قانون کا اعتبار خطرے میں ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS

ممتاز حسین، چترال

ممتاز حسین پاکستان کی علاقائی ثقافتوں اور زبانوں پر لکھتے ہیں ۔ پاکستان کے شمالی خطے کی تاریخ، ثقافت اور زبانوں پر ایک ویب سائٹ کا اہتمام کیے ہوئے ہے جس کا نام makraka.com ہے۔

mumtaz-hussain has 11 posts and counting.See all posts by mumtaz-hussain