مخنث، ٹرانسجینڈر اور سس جینڈر
صنفی اعتبار سے انسان مرد ہوتا ہے یا اور عورت تاہم معاشرے میں تیسری صنف، مخنث، کا وجود بھی ہے جنہیں خواجہ سرا، ہیجڑا، زنخا، خنثیٰ اور انگریزی میں eunuch کہا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ الگ سے کوئی جنس نہیں ہے بلکہ پیدائشی طبی خامیوں مثلاً کروموسومزx اور y کی تعداد میں عدم مطابقت یا پیدائش کے بعد جنیاتی بیماریوں کے باعث بچہ کی جنس کا تعین نہیں ہو پاتا۔ یہ ایسی ہی بیماری ہے جیسے کسی خامی یا کمی کی وجہ سے کوئی انسان اندھے پن، بہرے پن یا لنگڑے پن کا شکار ہو سکتا ہے۔
یہ اصل میں اک جنیاتی بیماری klinefelter syndrom کے موجب ہوتا ہے۔ تاہم علامات کے لحاظ سے کسی ایک جنس کی طرف مطابقت ضرور ہوتی ہے۔ مغل دور میں انہیں نامرد ہونے کی وجہ سے حرم میں موجود عورتوں کی نگرانی اور خدمت کے لیے مامور کیا جاتا تھا اور مناسب مقام دینے کی خاطر ان کو خواجہ سرا کا نام دیا گیا۔ پیدائشی خواجہ سراؤں کی بھی تین اقسام ہیں۔ ایک وہ جن کے جسمانی اعضا مردوں سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ دوسرے کے اعضاء عورتوں کے مشابہ ہوتے ہیں جبکہ تیسری قسم کی شناخت کافی مشکل ہوتی ہے کیونکہ ان میں مرد و عورت دونوں کی علامات نہیں پائی جاتیں یا پھر دونوں اصناف کے اعضا موجود ہوتے ہیں۔ اسی لئے انہیں خنثیٰ مشکل کہا جاتا ہے۔ معاشرے میں عدم قبولیت اور روزگار کا تحفظ نہ ہونے کے باعث ناچ گانے کا دھندا اپناتے ہیں۔ ان میں کچھ شادیاں بھی کرتے ہیں اور ان کے بچے بھی ہوتے ہیں مگر یہ عورتوں کے روپ میں رہنا پسند کرتے ہیں۔
الاشباہ والنظائر ( ابن نجیم) میں حضرت علی ؓ کے دور کا اک ایسا واقعہ درج ہے کہ اک شخص نے اک خنثیٰ سے شادی کی اور بچہ بھی پیدا ہوا۔ کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے کہ اس کی شناخت معمہ بن گئی۔ معاملہ امیرالمومنین کے ہاں لایا گیا تو آپ نے اپنے غلاموں کو اس خنثیٰ کی دونوں جانب کی پسلیاں گننے کا حکم دیا۔ فرمایا کہ انسان کے دونوں طرف بارہ بارہ پسلیاں ہوتی ہیں۔ مگر حضرت آدم کی بائیں پسلی سے حضرت حوا کو پیدا کیا گیا لہٰذا مرد کے بائیں جانب اک پسلی کم ہوتی ہے۔
یعنی عورت کی کل چوبیس اور مرد کی تئیس پسلیاں ہوتی ہیں۔ اس خنثیٰ کی ایک پسلی کم نکلی اور اسے مرد قرار دیا گیا (وا اللہ اعلم) ۔ اسلامی شریعت اور قرآن و حدیث میں ان کے متعلق کوئی خاص احکام نہیں ہیں البتہ اجتہادی آراء ضرور موجود ہیں۔ مرد خواجہ سرا کو مردوں کے برابر اور عورت خواجہ سراء کو عورت کے وراثتی اصول پہ حصہ ملے گا۔ خنثیٰ مشکل کی صورت میں جو صنف غالب ہوگی، اسی کا اطلاق ہو گا۔ ہمارے معاشرے میں ان کے جنازہ پڑھنے اور قبرستان میں تدفین سے گریز دیکھا جاتا ہے حالانکہ ان کے جنازے میں شریک ہونا چاہیے اور عام قبرستان میں دفن بھی کروانا چاہیے۔ کچھ مجتہدین انہیں امامت کروانے کا اہل بھی سمجھتے ہیں۔ انڈیا میں انہیں باقاعدہ تیسری صنف تسلیم کیا گیا ہے۔ اب پاکستانی سپریم کورٹ نے بھی ان کو الگ شناخت دی ہے اور ان کے شناختی کارڈ پر خواجہ سرا لکھا جاتا ہے
ٹرانسجینڈر ؛ یہ بنیادی طور پر خواجہ سرا یا مخنث نہیں ہوتے بلکہ مکمل مرد یا عورت کے روپ میں پیدا ہوتے ہیں مگر بعد میں ہارمونز کی کمی بیشی، نفسیاتی عوارض یا ذاتی خواہشات کے باعث مخالف صنف میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ بالغ ہونے پر اپنی جنس سے نا خوش ہوتے ہیں جسے gender dysphoria کہتے ہیں۔ ٹرانسجینڈر کا مطلب ہی یہی ہے جو اپنی جنس کو آپریشن یا ہارمونز تھراپی کروا کر ٹرانسفر کر لے۔ حالیہ ٹرانسجینڈر ایکٹ کافی تنقید کا شکار رہا جس کے دونوں پہلو ہیں۔
اگر کوئی واقعی اپنی جنس میں بدلاؤ محسوس کرتا ہے تو اس کو اپنی مرضی سے جنس کے اندراج کا حق ہونا چاہیے تاکہ وہ عام لوگوں کی طرح زندگی گزار سکے مگر محض اپنی ذاتی خواہش پر ایسا کرنا غیر قانونی اور حرام ہے۔ اس کے لیے کسی کے ذاتی بیان کی بجائے اعلیٰ سطحی میڈیکل بورڈ پر انحصار کرنا درست ہو گا۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں ان کی اپنی مرضی سے صنف تسلیم کی جاتی ہے۔
سس جینڈر ؛ یہ ٹرانسجینڈر کے متضاد مستعمل ہے۔ لاطینی میں cis کے سابقے کا معنی یک طرفہ اور واضح صنف کے ہیں۔ یہ افراد پیدائشی طور پر مکمل مرد یا عورت ہوتے ہیں اور اپنی صنفی شناخت پر راضی ہوتے ہیں اور اور عام لوگوں کی طرح زندگی مذکر یا مونث کے لحاظ سے بسر کرتے ہیں۔ یہ اصطلاح 1994 میں متعارف کروائی گئی۔


