مفت مشورے
دنیا میں کوئی قوم پاکستانیوں سے بڑھ کر خارشی طبیعیت کی واقع نہیں ہوئی۔ سفر زمینی ہو یا ہوائی، ان کی کجھلی طبیعیت میں ہر وقت ایک ہی سوچ پنپتی رہتی ہے کہ کب کوئی ہمیں پھنسے اور نصیحت کی زنبیل کھولوں یا کم از کم اس کو حکمت کے ہی دو چار مشورے دے ڈالوں۔
حالیہ واقعہ قومی ائرلائن کا ہے جس میں چند مسافروں نے شکایات کی ہیں کہ ہوسٹس کا لباس ٹھیک کروائیں۔ ان میں اکثر بندے وہ ہوتے ہیں جنہیں اگر یورپین یا فلپائنی ہوسٹس مل جائیں تو اس کے کندھے سے کندھا ملا کر تصویر بنوانے کی درخواست ضرور کرتے ہیں جو وہ پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ اکثر قبول بھی کر لیتی ہیں اور وہ حضرت بعد میں سالہا سال اس طرح کا اگلا موقع میسر آنے تک دوستوں کی ہر محفل میں اپنی مردانہ وجاہت کے اس کمال کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔ پی آئی اے نے ان شکایات کے بعد خواتین فضائی میزبانوں پر یونیفارم مناسب طریقے سے پہننے کی ہدایات جاری کر دی ہے۔
میں خود بھی فضائی سفر کرتا رہا ہوں اور تمام ایسے لوگ، جنہیں زندگی میں کم از کم ایک بار بھی ایسا موقع میسر آیا ہے وہ میری اس بات کی تائید ضرور کریں گے کہ پوری دنیا کی ائر لائنز میں جتنا باوقار یونیفارم پی آئی اے کا ہے شاید ہی کسی اور ائر لائن کے سٹاف کا ہو۔ لیکن ہمارے ”مولوی بظاہر خان“ ہر گلی محلے میں بکھرے پڑے ہیں۔ ان کے اپنے کرتوت ایسے ہوتے ہیں کہ شیاطین ان کو اپنا اتالیق مان لیں اور یہ صاحب دوسروں کے لباس، کردار، دنیا اور آخرت پر ایسے دھیان رکھتے ہیں جیسے تمام امت کی صحت، تعلیم، کردار، قبر اور آخرت کی ساری ذمہ داری تن تنہا ان کے ناتواں کاندھوں پر ہے۔
مسئلہ سارا یہ ہے کہ ہم جب بھی سفر کرتے ہیں یا اپنے شہر میں مقیم ہوں ہم اپنے کام سے کام نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں ایک ایسا انسان چاہیے ہوتا ہے جسے ہم ”مفت مشورہ“ عطا کر سکیں۔ کیونکہ طبیعیت میں ایسا اختلاج پیدا ہوتا ہے اور اتنی شدید تکلیف ہوتی ہے کہ اگر ہم ایسی حماقت کرنے سے گریز کریں تو شاید دل کا دورہ پڑ جائے یا دماغ کی شریانیں ایک دھماکے سے پھٹ جائیں۔ اس ”مفت مشورہ“ کے کار خیر میں اکثر اوقات اس بات کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا کہ سامنے والا بالکل اجنبی ہے۔ اس کا مذہب یا خیالات مختلف ہوئے تو اس کو کہیں ناگوار ہی نہ گزر جائے۔ گفتگو اس طرح شروع کی جاتی ہے۔
” بیٹا ایسے نہیں کرتے، آپ کا لباس مغربی ہے نماز نہیں ہوگی، دوپٹہ صحیح لے لو، بال کٹوا لو بیٹا، آپ نماز جمعہ میں نظر نہیں آئے، ہرڑ کا مربع کھا لو جگر کے افعال درست کردے گا، پپیتا کھا لو کینسر ٹھیک ہو جائے گا، ان کا تو مسلک ٹھیک نہیں بھائی“
دراصل یہ لوگ اس طرح کے سارے کام نیک نیتی سے کرتے ہیں لیکن ان کو احساس نہیں ہوتا کہ ہر بندہ ان کے زریں مشوروں کا محتاج نہیں ہوتا۔ اگر آپ کے نزدیک کوئی اس طرح کی نابغہ روزگار ہستی ہے تو ان حضرت سے فاصلہ رکھیں اور اگر آپ خود اتنی شاندار شخصیت کے مالک ہیں تو درخواست ہے کہ باز آجائیں۔ اتنی باتوں میں پتہ ہی نہیں چلا کہ میں بھی ”مفت مشورہ“ دے بیٹھا ہوں۔


