سندھی ادبی بورڈ کو مذہبی گدی بننے نہیں دیں گے
کسی بھی ادارے میں یا کسی بھی دفتر میں کوئی بیورو کریٹ یا افسر جو اس شعبے سے ناواقف ہو وہ آ کر چارج سنبھالتا ہے تو اسے پریشانی ہونے لگتی ہے کہ اس کام سے وہ ناواقف ہے، آخر کار وہ ایسا کیا کرے جو ایسا محسوس ہو کی یہ بندہ کام کرنے والا آدمی ہے، اس لیے یہ ایسا کرے گا کے پہلے دفتر میں موجود کرسیاں، میزیں اور دیگر فرنیچر کو آگے پیچھے کرنے کے احکامات جاری کرے گا، یہ چیز یہاں سے لے کر یہاں رکھ دیں، اور یہ چیز یہاں ٹھیک نہیں لگتی، اس لیے اسے اس طرف رکھ دیں، پھر دفتر میں موجود عملہ آگے پیچھے کرے گا اور یہ کہے گا کہ تم یہ کام چھوڑ دو، یہ کام پھلاں لے گا، یہ کام کسی اور کو دیتے ہیں، وغیرہ۔ وغیرہ۔
سندھ کے قدیم ادارے سندھی ادبی بورڈ کے ساتھ بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے، اب وہاں کی انتظامیہ پریشان ہے کے اس ادارے کا جو لوگو ہے وہ ان کے کام میں رکاوٹ بن رہا ہے، اس لیے انھوں نے وہ لوگو ہی ہٹا دیا، اس ادارے کا وجود قیام پاکستان سے پہلے کا ہے، یعنی 1940 سے یہ ادارہ ادب کی خدمت کر رہا ہے، لیکن پچھلی دہائی سے یہ ادارہ مکمل طور پر پیچھے دھکیل دیا گیا ہے حالانکہ اس کے پاس بہت سے رسالے ہیں کتابوں کی چھپائی پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔
اب جدید دور آیا ہے، دنیا ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں داخل ہو چکی ہے، اس پر کوئی کام نہیں کیا گیا کہ موجودہ کتابوں اور ماضی کی کتابوں کو انٹرنیٹ پر کیسے لایا جائے، یا ان کتابوں اور رسالوں کی چھپائی پر جو بجٹ خرچ ہو رہی ہے وہ کیسے ریکور کر لیں؟ ان کی فروخت کو بڑھانے کے لیے، اور کتابوں کی زیادہ سے زیادہ پرنٹنگ پر توجہ کیسے دی جائے۔ ؟ اس پر آج تک کوئی کام نہیں کیا گیا، اس ادارے سے تین جریدے نکلتے ہیں، مہران، سرتیوں اور گل پھل، جن کے معیار پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، نہ ہی یہ کبھی سوچا گیا ہے کے ان کو انٹرنیٹ پر کیسے لایا جائے؟ ان سارے میگزینز کے ماضی کا رکارڈ اکٹھا کر کے کیسے انٹرنیٹ پر لایا جائے؟ یہ جو اصل کام ہے اس ادارے کا وہ سارا بھول گئے ہیں شاید؟
ادارہ اپنا بجٹ بھی وصول کر رہا ہے، اصل کام چھوڑ کر وہ لوگوں سے ناراض تھے کہ گائے کی مہر کو کیسے ہٹایا جائے جو مذہبی عقیدے کا مرکز رہی ہے۔ ایک مذہب ایک جانور کو اپنے عقیدے کا اگر مرکز بناتا ہے تو اس میں اس جانور یا اس سماج کا کیا قصور؟ اب ان کو کون سمجھائے کے عقل بڑی یا بھینس؟
یہ مہر قدیم ورثے سے ایک نشانی اور شناخت کے طور پر ملی تھی، اس شناخت کو زندہ رکھنے کے لیے اسے کسی ادارے کے لوگو کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، اس سے قبل ضیاء آمریت کے دور میں مذہبی وجوہات کی بنا پر اس مہر کو ہٹا دیا گیا تھا۔ جسے اس وقت کے ادیبوں اور باشعور لوگوں نے تحریک شروع کر کے اسے پھر سے بحال کروایا تھا، لیکن اب نہ ضیا ہے اور نہ ہی کوئی آمریت پھر پتا نہیں کس کے دباؤ پر قدیم ادارے کے قدیم لوگو کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے؟
پر اتنا بڑا فیصلہ ہونے کے باوجود پھر بھی ہر طرف خاموشی اور سناٹا کیوں ہے؟ شاید اس دور میں جس طرح ضیا تھا اور اس سے مزاحمت کرنے والے ادیب تھے اب جس طرح ضیا نہیں اس طرح مزاحمت کرنے والے ادیب بھی نہیں رہے اس وجہ سے یہ خاموشی ہے؟ اسی طرح جو ادیب اس وقت زندہ تھے وہ آج نہیں ہیں۔ اب کوئی بھی مزاحمت یا تحریک ہو سکتی ہے وہ وقت گزر گیا اب ہر لکھاری حکومت سے لڑنا نہیں چاہتا۔
وہ وقت گزر گیا، اب ہر ادیب حکومت سے ناتا توڑنا نہیں چاہتا، ایسا نہ ہو کہ اس کے پاس جو پناہ گاہ تھی وہ بھی ختم ہو جائے۔ ایک قدیم ادارہ جس کی شناخت اس ملک کے وجود سے بھی پہلے کی ہے اور نہ ہی اس ملک نے اس ادارے کو وجود میں لایا یہ ادارہ تو پھلے سے تھا تو اس سے آخرکار اس کی شناخت کیوں چھینی جا رہی ہے؟
آج اگر کسی تناظر میں مذہبی عقیدے کی مثال دے کر گائے کا لوگو ہٹا دیا جائے تو اس گائے کا دودھ پینا کون سی عقلمندی ہو گی؟ اگر گائے کا لوگو مذہبی بنیادوں پر نہیں ہٹایا گیا تو اسے ہٹانے کی کیا وجہ ہے؟ حال ہی میں 75 روپے کے نوٹ پر مارخور جانور کی تصویر لگائی گئی ہے، گو کہ یہ کل کی بات ہے لیکن سندھی ادبی بورڈ کے لوگو پر تو قدیم مہر لگی ہوئی ہے، آپ کو ایک جانور پسند نہیں اور آپ نے نوٹ پر دوسرا جانور چھاپ دیا ہے، کیا یہ عقلمندی ہوگی؟
اگر اس جانور کو قومی جانور کا درجہ حاصل ہے تو ”گائے“ کی بھی الگ حیثیت ہے، اس کی 5 ہزار سال قدیم ثقافتی حیثیت ہے، سندھی حروف تہجی میں گائے کو کس بنیاد پر دیا گیا؟ اگر گائے سے اتنی دشمنی تھی تو اتنے برس اس ادارے کے لوگو میں وہ کیا کر رہی تھی؟ سوال یہ بھی ہے کے گائے اتنی خراب ہے تو ادارے کے سابق سربراہان نے ضیا دور میں گائے کے لوگو کو بچانے کی تحریک میں حصہ کیوں لیا تھا؟ ادارے کے موجودہ سربراہ کی اتنی عمر بھی نہیں جتنا عرصہ اس لوگے کو ہوا ہے، تو وہ اس کو کس بنا پر ہٹانے کا اختیار رکھتا ہے؟
ایک ہی ریاست میں ایک جانور کو نشانہ بنا کر لوگو سے ہٹایا جا رہا ہے تو اسی ہی ریاست میں کرنسی نوٹ میں کسی اور جانور کا پرنٹ ہوتا ہے، اس لیے ایسے فیصلے افراد کے اختیار میں نہیں دینا چاہیے، ایسے فیصلے قوموں پر چھوڑے جاتے ہیں کہ وہ فیصلہ کریں، بہتر ہے کہ کتابیں چھاپیں اور انہیں ڈیجیٹلائز کیا جائے، اس طرف توجہ دی جائے جس سے ادارے کی ترقی ہو۔ ادارہ کسی قدیم جانور سے لڑ کر جدید دور میں کبھی داخل نہیں ہو سکتا۔ اگر ادارے کے سربراہ کی کسی مذہبی گدی سے وابستگی ہے تو اس سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں، جس طرح ہمیں اعتراض نہیں اسی طرح سربراہ کو بھی گائے کے لوگو پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے، باقی اسے ایک قدیم ادارے کو ایک مذہبی گدی بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔


