امن و برابری کی متلاشی روحیں اور مجمع گیر مسیحا


اوریا صاحب، ایم ٹی جے، جملہ جید علماء کرام اور سیاسی و اشرافیائی طبقات ہمارے سماج کے وہ چند ہیں، جنہوں نے ساری زندگی ایک پر تعیش زندگی بسر کی۔ انہوں نے کبھی رات کی تاریکی میں ایک دوسرے سے چھپ کر روتے رشتوں کو محسوس نہیں کیا۔ چوکوں، چوراہوں، گلی محلوں، دفتروں، تھانوں اور کچہریوں میں کبھی تذلیل برداشت نہیں کی۔ ان کی زندگی رنگوں کا مجسم نمونہ ہے، وہ صبر کر سکتے ہیں، برداشت بھی شاید کرتے ہوں۔ لیکن ہم جو زمین کے سینے سے چمٹے لوگ ہیں ہمارے مسائل درج بالا طبقات سے مختلف ہیں۔

ہماری ہنسی فقط تبسم نہیں ہوتی بلکہ ہم جب ہنستے ہیں تو جبڑے جب تک درد نا کریں چپ نہیں ہوتے، ہمیں آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی بھر کر مہذب انداز میں رونا نہیں آتا، ہمارے رونے کو ہم ”دھاڑ“ کہتے ہیں۔ ہمیں خوشبو و تجلیات سے آراستہ ڈائننگ ہال میسر نہیں ہیں جن میں بیٹھ کر خاموش فضا میں انواع و اقسام کے کھانے نام نہاد تہذیب کو ملحوظ خاطر رکھ کر کھائے جائیں۔ ہم چوکڑی مار کر ایک تھال کے گرد قہقہوں کے شور میں مل کر کھانا کھا لیتے ہیں۔

ہمیں ایک دوسرے سے کراہت نہیں ہوتی۔ ہمارے شعر و ادب، موسیقی، ثقافتی جہتیں ہماری راہ نما ہیں۔ ہمارے ہجر و وصال کے قصے بھی ان عالی مرتبت حضرات سے مختلف ہیں۔ ہمیں رات کو بلب کے جلنے یا بجھنے سے فرق نہیں پڑتا۔ ہم پرائیویٹ گاڑی کے جھنجھٹوں سے بہت آزاد ہیں۔ انسانی ارتقاء کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئی معاشرت میں ہم نے بہت زیادہ ترقی کی معراج جو مٹی، ریت، گارے، اور پتھروں سے عالی شان گھر بنائے تھے وہ بھی حالیہ طوفان سے نہیں رہے۔ آپ جناب کی بیماری حضور آلی مقام کیلے پروپیگیشن کی سیڑھی بن جاتی ہے، بلکہ ملکوں ملکوں ڈھونڈ ڈھونڈ کر علاج چوکھٹ تک لائے جاتے ہیں۔ لیکن جناب من! ہماری آنکھوں کے سامنے معمولی بیماریوں سے ہمارے

پیاروں کو اجل لے اڑتی ہے لیکن ہمارے پاس آخری ترلہ یعنی چند روپوں کی دوائی کی عیاشی تک میسر نہیں۔

آپ میں اور ہم میں بہت فرق ہے سر، آپ پاکیزگی سے لبریز، تہذیب کے داعی، بڑے لوگ اور ہم گندگی کے ڈھیر پہ بیٹھے نجس جن کا موازنہ آپ کے نزدیک کسی جانور سے کیا جا سکتا ہے۔ آپ علم کے داعی اور ہم جہالت کے پروردہ بھٹکے ہوئے نشائی طبیعت لوگ۔ آپ کے تقوی و پرہیز گاری پر بقول آپ جیسوں کے فرشتے وضو کریں اور ہماری عبادات، اپنی عزت نفس کی بحالی، اور دو وقت کی روٹی کے گرد گھومتی ہیں۔ آپ بہت ارفع و اعلی ہیں سر! ہم کہاں آپ کی شان اقدس کے برابر آ سکتے ہیں۔

بس ایک گزارش ہے کہ ہم آپ کے جیسوں سے بہت الگ ہیں اس لیے ہماری اپنی اخلاقی اقدار ہیں اور انہی میں خوش بھی ہیں، جناب مہربانی فرما کر اپنی علمی بڑائی اور برتری کے نشہ کو ہم جیسوں پر خرچ کرنے کی بجائے اپنے طبقے کو خوبصورت بنانے میں صرف کریں، ہم گرتے پڑتے، کبھی نا کبھی ذلتوں سے پاک، انسانی برابری کا سماج تشکیل دینے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے جہاں ہم بالکل برابر ہوں گے اور کوئی اوریا، طارق، جید، حضرت، علامہ اور زور آور ہمارے بیچ کمتری اور برتری کے فلسفے نہیں بیچ پائے گا۔

ہمارے پرکھوں کی روحیں ہمارے جسموں میں گڑی ہیں، اور ہر دم ہمارے ادراک پر ضربیں لگا کر احساس دلاتی ہیں کہ یہ ملمع کاری سے مزین چہروں کے نقاب ہٹا کر دیکھو۔ ان روحوں کا اسرار ہے کہ ہم ان جید القابات سے مرعوب ہو کر بے نام و نشاں مٹی کی ڈھیریوں میں چنوائے گئے ہیں۔ ہمارے پرکھوں کی روحیں استحصال سے پاک، نفرت سے پرے، محبت کی امین برابری پر قائم سماجی و معاشی قدروں کی متلاشی ہیں۔ اور ہم اپنی ہزاروں سالوں پر محیط بے توقیری کا ڈھول اپنے گلے میں ڈالے اب تھک چکے ہیں۔

اب ہم آرام چاہتے ہیں، احترام چاہتے ہیں۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے آرام اور احترام کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ یہ صاحبان اقتدار و علم و فضل ہیں۔ روئے زمین کی نچلی پرتوں اور خلاء کی لا متناہی وسعتوں کے پردے چاک ہونے کو ہیں اور ہم بھی اپنی منزل پانے کو ہیں۔ اس لیے تو ہمارے جسموں میں پیوست ہمارے پرکھوں کی روحیں چابک لیے ہر لمحے ہمارے جسموں پہ برستی رہتی ہیں کہ اب اس لمحے ہلکی سی سستی اور کاہلی ہمیں پھر سے صدیوں کے چکر ویو میں گم کر سکتی ہے۔

ہمارے کاندھوں پہ ہزاروں سالوں کی بے چین بھٹکتی آتماؤں کا بوجھ ہے۔ اب ہمیں اس بوجھ سے صرف اس صورت مکتی مل سکتی ہے کہ ہم ان کی بے چینی کے اسباب تلاش کر کے انہیں چین فراہم کریں۔ ہمیں ذلتوں کی ناقابل بیان داستانیں وراثت میں ملی ہیں۔ اب ان داستانوں سے روایتی کرداروں کو نکال کر تہذیب کے دائیوں، روشن جبوں، اور اعلی بنگلوں، کوٹھیوں کے مکینوں کو ری پلیس کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ ہزاروں سال جس کرب میں گزار کے آئے ہیں مزید سینکڑوں میں اگر معاملات ہماری منشاء کے مطابق ہونے کی امید ہو تو ہم اس امید پر اپنی تمام توانائیاں بھرپور انداز میں خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم نسل در نسل بدلتے جسموں میں ایسی روحیں لیے پھر رہے ہیں جو امن آشتی، برابری، اور عزت کے ساتھ زندہ رہنے کے حق کے لیے سرگرداں ہیں۔

Facebook Comments HS