استخارہ کی حقیقت


(استخارہ کا مطلب ہے خیر طلب کرنا۔استخارہ کرنے کا طریقہ حدیث پاک میں بیان فرمایا گیا: حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ”نبی پاک ﷺ ہمیں تمام (جائز اور مباح) امور میں“ استخارہ ”کی تعلیم اس اہتمام کے ساتھ فرماتے تھے جس طرح قرآن کی کسی سورت کی تعلیم ہو، (تو استخارہ یہ ہے کہ) جب کوئی اہم کام درپیش ہو تو دو رکعت نماز (نفل) پڑھو اور پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کرو:“ اے اللہ! میں خیر کو جاننے کے لیے تیرے علم سے رہنمائی چاہتا ہوں اور خیر کو حاصل کرنے کے لیے تیری ذات سے توفیق کا طلبگار ہوں اور میں تیرے فضل عظیم سے سوال کرتا ہوں، کیونکہ تو قدرت والا ہے اور میں عاجز و بے بس ہوں، تو معاملات (کے اچھے یا برے انجام) کو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، کیونکہ تو غیبی امور کو بہت جاننے والا ہے۔

اے اللہ! اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے میرے دین کے اعتبار سے، میرے معاش کے اعتبار سے، میرے انجام کار کے اعتبار سے بہتر ہو یا فوری اور دیرپا فائدے کے اعتبار سے میرے لیے بہتر ہے، تو تو اسے (اپنے فضل وکرم سے ) میرے لیے مقدر فرما اور اے اللہ! اگر تیرے علم میں یہ معاملہ (جو مجھے درپیش ہے ) ، میرے دین، میرے معاش اور میرے انجام کار کے اعتبار سے یا میرے فوری اور دیرپا فائدے کے اعتبار سے میرے لیے برا ہے، تو اس کو مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے اور (اس کے بدلے میں ) جہاں بھی خیر ہے، وہ میرے لیے مقدر فرما، پھر میرے دل میں اس کے لیے پسندیدگی پیدا فرما (یعنی مجھے قلبی اطمینان اور قرار و سکون نصیب ہو جائے کہ بس یہی میرے لیے خیر ہے ) ”اور“ ہٰذالامر ” (یعنی یہ معاملہ) کے بجائے (چاہے تو) اپنی حاجت کا نام لے کر دعا کرے“ (صحیح بخاری: 6382 )

یہ روایت پیش کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ استخارہ کی حقیقت کیا ہے۔
ہمارے ہاں جو استخارے ہوتے ہیں وہ درج ذیل ہیں

تسبیح کے ذریعے، قرآن پاک کے ذریعے، کپڑا ناپ کر، پرچیاں ڈال کر، علم رمل کے ذریعے، علم جفر کے ذریعے، علم الاعداد کے ذریعے، اور اسی طرح اور بہت طریقوں سے خیر طلب نہیں کی جاتی مستقبل یا ماضی کے حوالے سے معلوم کیا جاتا ہے اور غیب کی باتیں بتائی جاتی ہیں۔ اور یہ استخراج ہے استخارہ نہیں۔

فی الحال ہم بات کریں گے تسبیح کے ذریعے استخارہ کرنا میں ایک درگاہ کا خادم ہوں اور بہت چھوٹی عمر سے ان سارے طریقوں کو سنتا سیکھتا پڑھتا آیا ہوں اور اس کہ کئی طریقے جانتا ہوں اور کئی بزرگوں سے اجازت ہے۔

کچھ بزرگ ناد علی کے ذریعے اور کچھ آیت الکرسی کے ذریعے اور کچھ اسی طرح کے ملے جلے اذکار کے ذریعے اسے کرنا سکھاتے ہیں

دعوت اسلامی کا آن لائن استخارہ دیکھیں تو آپ کو اس کی عملی صورت نظر آ جائے گی

انگشت شہادت اور انگوٹھے سے تسبیح پکڑ کر لٹکا لیتے ہیں اور ناد علی یا اور کوئی ذکر کرنے کہ بعد سوال کرتے ہیں ایسا سوال ترتیب دیا جاتا ہے جس کا جواب ہاں یا نہ میں ہوتا ہے تسبیح اگر آگے پیچھے حرکت کرے تو جواب ہاں ہے اور دائیں بائیں حرکت کرے تو جواب نہ ہے اور سمجھا یہ جاتا ہے کہ تسبیح موکل یا جنات ہلا رہے ہیں جب میں نے قدیم یونانی طریقوں کے بارے میں پڑھا تو پتہ چلا کہ اصل بات موکل و جنات کی نہیں اصل بات تو ہمارے دماغ کی ہے جسے ہم لاشعور کہتے ہیں ہمارے لاشعور کا تعلق روح سے ہے اور روح کیوں کہ اللہ کا امر ہے اللہ کا ڈیٹا ہے تو اس میں بہت کچھ ہے جس سے ہم رہنمائی لے سکتے ہیں جب ہم سوال کرتے ہیں تو ہمارا دماغ ( بلڈ ویسلز ) خون کی نالیوں کے ذریعے پٹھوں کو ایک مائنر شاک دیتا ہے جس سے تسبیح حرکت کرتی ہے اور ہمیں جواب ملتا ہے

یہ پڑھنے کے بعد میں نے بغیر کچھ پڑھے تسبیح کے ذریعے ایک بات جاننے کی کوشش کی اور کامیاب رہا پھر بار بار اس کو دہرایا تو تصدیق ہو گئی کہ بات دماغ کی ہے یہی طریقہ مغرب میں بھی رائج ہے وہاں تسبیح کی جگہ پینڈولم ہوتا ہے پینڈولم ایک رسی جس کا ایک سرا خالی اور دوسرے سرے پر کوئی وزن لٹکایا ہوا ہو یہاں کچھ الفاظ کی چانٹنگ ہوتی ہے اور وہاں اپنے سپیرچوuل گائiڈز سے مدد طلب کی جاتی ہے اور اسے وہ پینڈولم ڈاوزنگ کہتے ہیں وہ بھی اسی طرح مستقبل و ماضی کی باتوں کے بارے میں اور زمین میں پانی اور قدرتی ذخائر کے بارے میں جاننے کہ لئے اسے استعمال کرتے ہیں۔ بات تو دماغ ہی کی ہے لیکن بہت خوبصورت بات یہ ہے کہ ہمیں اکابرین نے اگر یہ بھی بتایا تو ساتھ اللہ کی یاد اور اولیاء کی یاد سے جوڑ دیا کہ عبادت بھی ہوتی رہے اور ہم اس علم کے ذریعے رہنمائی بھی حاصل کرتے رہیں

لیکن سچ جاننا بھی چاہیے اور علم و آگاہی تقسیم بھی کرنی چاہیے بس اسی نیت سے یہ تحریر لکھی۔ آخر میں یہ عرض ہے کہ چاہے تسبیح سے ہو یا پینڈولم سے ان ٹولز سے حاصل ہونے والی معلومات حرف آخر نہیں اپنے معاملات اللہ کریم کہ سپرد کیجئے اور دعا مانگتے رہیں اللہ سے تعلق نہ توڑیں تو وہ سب ہو گا جو آپ چاہیں گے یا وہ ہو گا جو آپ کے لیے بہتر ہو گا۔

خداوند عالم میرے اور آپ کے علم میں اضافہ فرمائے

مسعود الحسن سید
Latest posts by مسعود الحسن سید (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments