بہو کا استحصال اور طبی دیانت داری


آج میں آپریشن اور او پی ڈی ختم کر کے نکل ہی رہا تھا کہ میری سیکریٹری نے بتایا کہ ایک خاتون ابھی آئی ہیں۔ اور کل آنے سے قاصر ہے۔ میں واپس اپنے آفس کی طرف مڑ گیا۔

ثمینہ ایک نوجوان اور با اعتماد خاتون تھیں۔ انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کر دیا۔ داہنے ہاتھ کی الٹی سطح آدھی سے زیادہ جل گئی تھی۔ میرے کریدنے پر بتایا کہ وہ چند ماہ قبل کھانا پکاتے ہوئے جل گئی تھیں۔ تاہم اس تمام عرصے میں ڈرماٹالوجسٹ (ماہر امراض جلد) ان کا علاج کرتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ پڑھی لکھی ہیں؟ معلوم ہوا کہ انہوں نے ماسٹرز کیا ہوا ہے۔ تو میں نے ذرا درشت لہجے میں پوچھا کہ وہ کپڑے کس موچی سے سلواتی ہیں۔ میرا یہ کہنا تھا کہ مریضہ ہچکیاں لینے لگیں۔ میں نے ان کو ٹشو پیپر دیا۔ میری سیکریٹری نے اسے سینے سے لگا کر دلاسا دینے کی کوشش کی۔ اس کی ہچکیاں بند ہوئیں تو پھر اپنا حال سنایا۔

ماسٹرز کر کے گول روٹی چاہنے والے گھر میں بیاہی گئی۔ شوہر رزق کمانے باہر گیا ہوا ہے۔ وہ اسے کام کرنے نہیں دیتا کہ بس میرے والدین اور بھرے پرے خاندان کی خدمت کرو۔ نہ کام کرنے کی ضرورت ہے اور نہ گھر سے باہر نکلنے کی۔ پیسہ وہ کما ہی رہا ہے۔ چنانچہ ایک پڑھی لکھی لڑکی ایک شوہر کو نہیں بیاہی گئی بلکہ ایک بھرے پرے گھر کی خدمت کے لئے بے تنخواہ کی ملازمہ بن کے رہ گئی ہے۔ اب سسرال کی مرضی ہے کہ کس سے علاج کروائے۔

وہاں مقامی طور پرایک ماہر امراض جلد کے کلینک کے چکر ہی لگاتی رہی۔ کچھ دو ماہ میں زخم تھوڑا سا بھر آیا۔ اس دوران اس سپیشلسٹ فزیشن نے اس کے ہاتھ کی ”سرجری“ بھی کی۔ جب زخم ٹھیک ہونے ہی میں نہ آیا تو پشاور کے ایک مہنگے ہسپتال میں بھی ”ماہر امراض جلد“ نے دو ماہ زیر علاج رکھا۔ جب مریضہ نے ابھرتے ہوئے بھدے نشان کی طرف توجہ دلائی تو ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ”اب ان بھدے داغوں کی کیا فکر، شادی تو ویسے بھی تمہاری ہو چکی ہے“ ۔

میں نے کچھ تسلی اور کچھ دوائیاں لکھ کر دیں (صرف ایک مرہم جس کا ماہانہ خرچہ سو روپے سے زیادہ نہیں ) ۔ اور ان کی سہولت کے لئے کلینک کا وٹس ایپ نمبر دے دیا کہ ہر دو ہفتے بعد ہاتھ کی تصویر بھیج دیا کرے۔ اگر ضرورت پڑی تو معائنے کے لئے بلا لیں گے۔ ثمینہ چلی گئی اور میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔

اللہ نے عورت کے ذمے شوہر کے صرف دو حقوق رکھے ہیں۔ ایک شوہر کے عزت و عفت کی حفاظت اور دوسرے اس کے بچوں کی پروان و تربیت۔ ساس، سسر اور باقی سسرال کی عزت الگ بات ہے لیکن بہو پر ان کی خدمت کا بوجھ اللہ نے کبھی نہیں ڈالا۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی بیبیاں تھیں لیکن کپڑوں میں پیوند یا جوتی کی مرمت بھی خود کرتے رہے۔ ہمارے پختون معاشرے میں پرائے گھر کی بیٹی کو بہو کے نام سے گھریلو نوکرانی بنایا جانا اور شوہر کو بیرون ملک روزگار پہ بھجوانا ایک عام سا رواج ہے۔

یہ رواج نہیں ایک شر کی ابتدا ہے جس کے انجام کے بارے میں لکھ بھی نہیں سکتا۔ یہاں تک کہ اسے شوہر کی بھیجی ہوئی کمائی کی بھنک بھی نہیں ملتی۔ دیورانیوں اور نندوں کی زچگی اگر گھر میں ہوئی ہے تو بہو کوئی شہزادی تو نہیں کہ ہسپتال جائے، خواہ اس کی زچگی پیچیدہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے بچیوں کے والدین سے التماس ہے کہ نکاح کی شرائط میں بچی کے ذمے سسرال کی خدمت سے مکمل امن ضرور لکھوائیں اور شوہر سے زیادہ عرصہ کی دوری کا بھی مناسب سدباب کا بندوبست کریں۔

آخر میں اپنے چند جلدی امراض کے ماہرین کی اقلیت سے درخواست ہے کہ خدا را جھلسے ہوئے مریضوں کو ہاتھ نہ لگائیں۔ یہ ایک نہایت ہی شدید قسم کا حادثہ ہے۔ روز اول سے صحیح علاج نہ ہو تو بہت پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ جلنے سے موت تو المناک ہوتی ہی ہے لیکن جلنے کے داغوں کے ساتھ زندہ رہنا بھی عذاب ہے۔ آپ کو بخوبی علم ہے کہ یہ کام ہر پلاسٹک سرجن کا بھی نہیں بلکہ پلاسٹک سرجری کے بعد جھلسے ہوئے جسموں کے علاج کی الگ تربیت لینی پڑتی ہے۔ آپ کو ایک نوجوان خاتون کے چہرے کے بدنما داغ میں کوئی قباحت نظر نہ آئے لیکن یہ معاشرہ اسے جیتے جی آہستہ آہستہ مار ڈالتا ہے۔ پلیز کچھ تو پیشہ ورانہ دیانت داری کا بھرم رہے۔

(اس کالم میں مریضہ کا نام بدل دیا گیا ہے-)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments