تحریک انصاف کا مستقبل


پاکستان یا دنیا بھر کے ممالک میں حکومتوں کا آنا جانا ایک معمول کی بات ہے۔ ہر ملک کے اپنے اپنے منفرد یا مخصوص سیاسی حالات و معاملات ہو سکتے ہیں جن کے تناظر میں سیاسی تجزیہ کار ہمہ وقت میڈیا پر مستقبل کی سیاست کی منظر کشی کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ بین اسی طرح ہم آج کے کالم میں پاکستان کے سیاسی مستقبل کی پیش بینی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج کی دنیائے سیاست میں ہر ملک کی سیاست اور حکومت سازی میں کچھ اندرونی اور کچھ بیرونی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی حکومت، سیاست یا ملک شاید مذکورہ عوامل سے مبراء نہیں رہ سکتا۔

عمران خان یا تحریک انصاف کی حکومت جو کہ 10 اپریل 022 ء کو ختم ہو گئی یا ختم کر دی گئی۔ خان صاحب ملک کے 30 ویں جبکہ شہباز شریف 31 ویں سربراہ حکومت ہیں۔ ان منتخب حکومتوں میں اگر غیر منتخب حکومتوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ وطن عزیز میں گزشتہ 75 سالوں میں 36 حکومتیں گئیں اور اب 37 ویں چل رہی ہے۔ یہاں تعداد سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان میں نگران ٹائپ کی حکومتیں بھی شامل ہیں۔

1958ء میں جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے نفاذ تک ملک میں سات حکومتیں کو رخصت کیا گیا۔ ہماری ناقص رائے کے مطابق ان حکومتوں کے خاتمے میں خالصتاً ملکی اندرونی عوامل نے کلیدی کردار اداء کیا۔ حاکمیت عالیٰ کا حصول سول بیورو کریسی اور سیاستدانوں کے درمیان وجہ تنازع رہا۔ اس وقت تک ہمیں غیرملکی عوامل کی مداخلت کے کوئی خاص شواہد نہیں ملتے۔

جنرل ایوب خان صاحب کے دور حکومت میں غیر ملکی عوامل کی ملکی سیاست میں مداخلت بڑھتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔ 1958 ء میں پاکستان پہلی بار آئی ایم ایف کے پاس قرضہ لینے کے لیے گیا جو کہ مل بھی گیا۔ 1960 ء میں سندھ طاس معاہدے کے ذریعے ملک عالمی بینک کے چنگل میں پھنسا۔ سیٹو اور سینٹو کے فوجی معاہدات اور امریکہ کو فوجی اڈوں کی فراہمی اور بعد ازاں عوامی جمہوریہ چین سے ”برادرانہ“ تعلقات کا آغاز وغیرہ۔ ان اقدامات کی بدولت ملکی سیاست میں نا صرف غیر ملکی عوامل کی مداخلت ہوئی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔ بھٹو صاحب کے دور میں اسلامی سپر پاور یعنی سعودی عرب نے بھی باقاعدہ ملکی سیاست پر اثرانداز ہونا شروع کر دیا۔

امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کی تمام جمہوریتیں غیرملکی عوامل کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ کسی پہ کم اور کسی پر زیادہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں لیکن فیصلہ کن کردار ہمیشہ ملکی اندرونی عوامل ہی کرتے ہیں۔ اس کی سب سے بہتر مثال شاید سویت روس کے زوال کی دی جا سکتی ہے کہ دنیا جہاں کی مخالفت اپنی جگہ لیکن یونین کو توڑنے کا حتمی فیصلہ شامل ریاستوں کے سربراہان نے مشترکہ طور پر کر ایک ہی میز پر کیا تھا۔

پاکستان میں جنرل ایوب خان، بھٹو صاحب، جنرل ضیا الحق، جنرل مشرف، نواز شریف صاحب کی تیسری حکومت ( 2017 ء) اور عمران خان کی حکومت کے متعلق رائے قائم کی جا سکتی ہے کہ یہ تمام حکومتیں عالمی تضادات کے زیر اثر رخصت کی گئیں اور باقی کی تمام حکومتیں ملکی سیاسی تضادات کے زیر اثر رخصت کی گئیں۔

گزشتہ 75 سالوں کی سیاسی تاریخ کے مطالعہ سے ایک طالب علم کے طور پر ہم یہی نتیجہ اخذ کر پائے ہیں ”جو حکومتیں ملکی سیاسی تضادات کے نتیجہ میں رخصت ہوئیں ان کے دوبارہ سے آنے کا امکان رہا اور وہ آئیں بھی مثال کے طور پر بینظیر حکومت اور جو حکومتیں عالمی تضادات کے اثرات سے رخصت کی گئیں وہ دوبارہ لوٹ کے کبھی نہیں آئیں“ ۔

ٓآج ملکی سیاست کا سب سے اہم سوال یہی کہ عمران خان کی حکومت دوبارہ سے برسراقتدار آ پائے گی۔ تو جواب سے پہلے یہ طے کرنا ہو گا کہ یا کہ حکومت کون سے تضادات کے تحت ملکی یا عالمی رخصت ہوئی۔ یہ حقیقت ہے کہ عمران حکومت کے جانے سے پہلے تک حکومت مخالف کوئی سیاسی تحریک دور دور تک نہ تھی۔ فوج اور حکومت مزے سے ایک ہی صفحہ پر تھے، اپوزیشن بکھری ہوئی اور بے سمت۔ یہاں ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ اس ضمن میں ملکی تضادات کارفرماء نظر نہیں آتے۔

اب ہم یہاں پر عالمی تضادات کو شبہ کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں۔ واضح رہے ہم ”سفارتی مراسلہ عرف سائفر“ کو کوئی اہمیت نہیں دینے جا رہے۔ ہماری دانست میں اپنے عالمی اثرات میں روس یوکرائن جنگ 9 / 11 سے بھی بڑا واقع ہے اور اس کے بد اثرات سے پوری دنیا متاثر ہونے جا رہی ہے۔ کمزور انواع تو پہلے جھٹکے میں ہی فارغ ہو جایا کرتی ہیں۔

اب جاتے جاتے ہم عمران خان کی سیاست کے مثبت پہلووں کا ایک نظر جائزہ بھی لے لیتے ہیں۔ ماضی کے اشاریے بتاتے ہیں کہ ملکی 50 % ووٹر سرے سے ووٹ ڈالنے ہی نہیں جاتے۔ باقی کے آدھے ووٹوں میں سے عمران خان کے حصہ میں صرف 32 % جب کہ اس وقت کی اپوزیشن اور موجودہ حکومت کے پاس 68 % ووٹ ہیں۔ خان صاحب کی بڑی کوشش اور خواہش رہی کہ کسی طرح سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ حاصل کر لیے جائیں لیکن اس میں بھی وہ بری طرح ناکام رہے۔ خان صاحب کے لانگ مارچ، دھرنے اور احتجاج کے دعوے تو عرض ہے اگر لاکھوں لوگ اسلام آباد پہنچ بھی جائیں تو کیا خان صاحب کی پارٹی بالشویک پارٹی ہے جو انقلاب لے آئے گی۔ زیادہ سے زیادہ جلدی الیکشن کا وعدہ۔ تو حکومت وقت اور باقی کے شریک حکومت بھی یہی چاہتے ہیں۔

سیاست کے ادنیٰ طالب علم طور پر ہم خان صاحب کو اگلے سیاسی منظر نامے میں نہیں دیکھ رہے البتہ تحریک انصاف ایک بڑی پارٹی کے سیاسی افق پر رہے گی۔ یہ علیحدہ سے ایک اور بحث ہے کہ اگر پارٹی سربراہ آگے پیچھے ہو جائے تو پارٹی بھی دھڑے بندیوں کا شکار ہو کر تقسیم در تقسیم ہو جاتی ہے۔ لیاقت علی خاں سے لے کر آج کے دن تک کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے۔

Facebook Comments HS