استاد کا عالمی دن
پتہ نہیں کیوں جب سے اکتوبر کے مہینے کا آغاز ہوا ہے لگتا ہے ذمہ داریوں کا انبار ہے۔ جیسے یہ لکھنا ہے، یہ کرنا ہے، یہاں جانا ہے، یہ پڑھنا ہے، اور بہت کچھ لیکن اس سارے سلسلے میں جس چیز نے مجھے پر جوش رکھا ہے وہ
*استاد کا عالمی دن*۔
پچھلے دس سال مختلف شعبوں سے وابستہ ہونے کے بعد اب مجھے لگتا ہے کہ یہ میری منزل ہے، یہ میرا شعبہ ہے، یہ میرا پیشہ ہے، او فخر ہے کہ میں ”استاد“ ہوں۔ لیکن یہ انتخاب میرے لئے پہلے دن سے نہیں تھا۔ جب سے ہوش سنبھالa تو کبھی بھی اس جملے پہ زور نہیں دیا،
” میں بڑی ہو کر۔ بنوں گی۔“
بہرحال کہاں سے کہاں پہنچ گئے لیکن اس کہاں سے کہاں تک کا سفر اتنا آسان نہیں تھا، بلکہ شاید اس انتخاب کی وجہ میری خود غرضی تھی، غرض یہ کہ میں لوگوں کے ذہنوں پہ اپنی چھاپ چھوڑ جانا چاہتی ہوں، لیکن وہ یہ ہی شعبہ کیوں؟
اچھا چلے غرض شاید یہ کے میں کچھ لوگوں کی زندگی کو بہتر ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتی تھی۔ افففف! اب یہ بہت ہو گیا! وہ تو دور رہ کر بھی دیکھ سکتی تھی!
نہیں!
میں کسی بچے کی زندگی کا حصہ بن کر اس کی زندگی کو بہتر دیکھنا چاہتی تھی بالکل ویسی ہی جیسے میری ماں کی تربیت سے سیکھا، ماموں کے خطوط کو پڑھ کر میں نے لیا، اور آپا نبیلہ کی شفقت اور محبت نے مجھ میں پڑھنے اور آگے بڑھنے کا جذبہ دیا، یا بالکل ویسی ہی جیسے سر خرم ناصر نے مشکل سے مشکل ذمہ داری کو تخلیقی اور منفرد انداز میں نبھانا سکھایا۔ میں یہ ساری خوبیاں، زندگی کو جینے کی، لڑنے کی، اور ہمت کی، ایک سبق کے توسط سے اپنے طالبعلموں کو دینا چاہتی تھی۔
کیونکہ مجھے یہ لگتا ہے کہ اگر آپ کسی کے ذہن کو متاثر کر سکتے ہے تو وہ تبلیغ کے علاوہ اور کچھ نہیں اور استاد کا پیشہ بھی تبلیغ سے منسلک ہے۔ وہ تبلیغ جسے انبیاء کرام نے انسانیت کی بھلائی کے لئے انجام دیا اور اب استاد اس پیغمبرانہ پیشے کو اپنا کر بہت سارے ذہنوں میں امید کی روشنی کو اجاگر کر سکتا ہے، ان میں جو اندھیرے کے ختم ہونے کی امید کھو بیٹھتے ہیں۔
میری ایک دوست کومل شمیم مجھے ہمیشہ یہ پوچھتی ہے کہ: ”تم میں یہ سوچ کہاں سے آئی؟“ تو میری پیاری دوست آج میں آپ کو بتاتی ہوں، جہاں کمی ہوتی ہے وہی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ جیسے اگر پیسہ نہیں تو کمانا ضروری اور اگر سماج میں بہتری نہیں تو اس بہتری کو لانا ضروری ہے۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصہ ہو گیا شاید میں پڑھانے کے عمل سے منسلک ہوں اور مجھے فخر ہے کہ جن بچوں کو میں نے تیسری جماعت میں پڑھایا آج وہ جامعات کا حصہ ہے اور سب سے خوبصورت لمحہ پتہ ہے کیا ہے! جب وہ مجھے کسی محفل میں، مجلس میں دیکھتے ہیں تو مسکراتے ہیں اس مسکراہٹ میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ اس چہرے کو کہیں دیکھا ہے؟ لیکن جب وہ اپنا تعارف کراتے ہیں تو خوشی کی انتہاء! میں یہاں شاید بیان نہ کر سکو۔
لیکن ہر شاگرد مجھے اتنی محبت اپنائیت سے تسلیم نہیں کرتا اس کی وجہ شاید میں خود ہوں کیونکہ میں سب سے ایک جیسا سلوک ہی اختیار کرتی ہوں اور کچھ طالبعلموں کو یہ پسند نہیں اس کی وجہ وہ نہیں طالب علم نہیں بلکہ میرے کچھ چند معزز محترم اساتذہ کرام ہے جنہوں نے درس و تدریس کے معاملات میں ذاتیات، پسندیدگی اور مفادات کو ترجیح دیں ہیں۔
صبح ایک ساتھی کی طرف سے بھیجے گئے پیغام کو پڑھ کر ہی اس تحریر کو لکھنے کا تہیہ کر لیا۔ اس تحریر کا موضوع پاکستان میں استاد کا احترام اور عزت ہے، اب بھلا کیسے معاشرہ ہمیں احترام دیں جب ہم نے خود اپنے کام سے عزت سے پیش نہیں آتے۔ عزت کا مطلب اپنے شعبہ کو وقت دینا جس کام کے لئے ہمیں مختص کیا ہے اسے دل و جان سے کرنا۔
میڈم زرتاشیہ کے الفاظ مجھے آج بھی یاد ہے انہوں نے کہاں استاد روحانی والدین کی مانند ہے جب ہم اپنے ذاتی بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں تو کیسے اپنے ان بچوں کے مستقبل سے کھیل لیتے ہیں۔ اتنی لمبی تحریر کو لکھنے کا مطلب آج کے دن صرف تعریف بٹورنا نہیں بلکہ خود کی اصلاح کرنا بھی ہے کچھ سوالات کے ذریعے اور ان سوالات کو دہرانے کی تعداد کا تعین بھی کریں۔ یہاں میں نے اپنے تجربات کے تحت اپنے لئے یہ سوالات اور ان کو دہرانے کی تعداد لکھی ہے۔ آپ اپنے سوالات کا انتخاب اپنے تجزیہ کے مطابق کر لیں۔
1۔ ”کیا میرے رویہ میں بہتری کی ضرورت ہے؟“ ۔ ہر کلاس کے بعد
2۔ ”کیسے میں اپنے تدریسی عمل کو بہتر کر سکتی ہوں؟“ ۔ ہر کلاس کے بعد
3۔ ”کیوں طالبعلم کا رویہ تلخ رہا؟“ ۔ ہر طالب علم کے تلخ اور دل شکن رویہ کے بعد تجزیہ اور اس رویہ کو کم کرنے کی ممکن کوشش ہے۔
آج اساتذہ کے عالمی دن میں اپنی اس تحریر کو اپنے تمام اساتذہ کرام کو وقف کرنا چاہتی ہوں اور میں یہ کہنا چاہتی ہوں ”*آج میں جو کچھ بھی ہوں آپ کی وجہ سے ہی ہوں *“

