With great power comes great responsibility


میں ایک اینڈوکرنالوجسٹ ہوں۔ میں بچپن سے ایک اینڈوکرنالوجسٹ بننا نہیں چاہتی تھی۔ اصل میں مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ اینڈوکرنالوجسٹ کیا ہوتا ہے؟ وہ زندگی کے سفر کے دھارے نے بنایا۔ لیکن جس دن میری امی مجھے اسکول کا یونیفارم پہنا کر سکھر کے سینٹ سیوئر اسکول میں داخل کروانے لے گئی تھیں اور وہاں میں نے مس ذاکرہ کو پڑھاتے دیکھا تب سے میں بھی بڑی ہو کر مس ذاکرہ بن جانا چاہتی تھی۔ جب 2010 میں میں نے اینڈوکرنالوجی میں فیلو شپ مکمل کی تو اس سال امریکہ کی اکانومی بہت بگڑ گئی تھی اور اوکلاہوما کے تقریباً تمام ہسپتالوں میں نئے افراد کو نوکری دینے پر پابندی ہو گئی تھی۔

وہ ایک مشکل وقت تھا۔ میں اس بات پر یقین نہیں کر سکتی تھی کہ تمام زندگی کے اتنے سارے سال خرچ کرنے کے بعد اپنے شعبے میں کام کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ تین مہینے کے بعد مجھے نارمن ہسپتال میں کام مل گیا اور تب سے میں یہیں ہوں۔ نارمن ہسپتال ایک ٹیچنگ ہسپتال نہیں تھا۔ لیکن چند سال پہلے اس میں ایمرجنسی میڈیسن کی ریزیڈنسی شروع ہوئی اور میں نے اس کی سرگرمیوں میں کچھ حصہ لیا۔ خود ہی ہاتھ پیر مار کر پڑھانے کے لیے مواقع بنانے کی کوشش کی۔

کومانچی میموریل میں بھی رضاکارانہ پڑھانا شروع کیا۔ پچھلے دس سالوں میں بہت سارے اسٹوڈنٹس کو پڑھایا۔ دنیا میں کچھ بھی ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا ہے اور ہمیں اس بدلتی ہوئی دنیا میں مستقل سیکھتے رہنا ہوتا ہے۔ جو وقت کے ساتھ چلتے ہیں وہی چلتے رہتے ہیں۔ جو نہیں چلتے وہ جمود کا شکار ہوتے ہیں اور گم ہو جاتے ہیں۔

کوئی پانچ سال پہلے میں نے فیس بک پر ایف ایم جی (فارن میڈیکل گریجوئیٹ ) پورٹل کمپنی کا ایک اشتہار دیکھا جس میں انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ کو انٹرنیشنل میڈیکل گریجوئیٹس کو پڑھانے میں دلچسپی ہے؟ میں نے ان کو اپنی انفارمیشن بھیجی اور انہوں نے مجھے اپنی فیکلٹی کی لسٹ میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد ایف ایم جی پورٹل کمپنی نے کچھ اسٹوڈنٹس کو اینڈوکرنالوجی میں ایک مہینے کی انٹرن شپ کے لیے بھیجا۔ یہ اسٹوڈنٹ دبئی، کینیڈا، چین اور کریبین علاقوں سے آئے تھے۔

جب مارچ 2020 میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کورونا کی وبا کا اعلان کیا تو ایف ایم جی پورٹل سے مجھے ایک ای میل وصول ہوا جس میں انہوں نے پوچھا کہ کیا میں آن لائن روٹیشن کر سکتی ہوں؟ میرا زندگی میں ایک اصول ہے کہ اگر کوئی ایک نیا موقع سامنے آئے تو اس کی کوشش ضرور کرنی چاہیے کیونکہ اس سے ہمیں تجربہ حاصل ہوتا ہے اور تجربوں سے ہی ہم سیکھتے ہیں۔ میں نے اس اسٹوڈنٹ کو آن لائن پڑھانے کی حامی بھر لی۔ حالانکہ وہ انٹرن شپ صرف ایک مہینے کی تھی لیکن ہم تین مہینے تک روزانہ پڑھائی کرتے تھے اور اس دوران میں نے اپنے پہلے آن لائن اسٹوڈنٹ کی مدد کے ساتھ ایک پورا اینڈوکرنالوجی کا کورس مرتب کیا۔

کورونا کی وبا کے دوران ہارورڈ میڈیکل کالج، بیلر کالج اور اوکلاہوما کی یونیورسٹی کے مختلف ڈپارٹمنٹس کے ساتھ ان کی کانفرنسوں میں شرکت کی اجازت حاصل کی۔ اور ان کانفرنسوں کو بھی اپنے کورس کا حصہ بنایا۔ میں نے ایک ایسا پروگرام ترتیب دیا جس میں وہ تمام چیزیں شامل تھیں جن کو جاننے کی مجھے خود اپنی ریذیڈنسی شروع کرنے سے پہلے ضرورت تھی۔ جب ہم نے انٹرنل میڈیسن ریزیڈنسی شروع کی تو وہ اس طرح تھی کہ کسی کو تیرنا نہ آتا ہو اور اس کو سوئمنگ پول میں دکھا دے دیا جائے اور وہ خود ہی ہاتھ پیر مار کر سیکھ جائے۔ ایک انٹرنیشنل میڈیکل گریجوئیٹ ہونے کے لحاظ سے میں نے امریکی سسٹم میں اکثر ایسا محسوس کیا جیسے ہم ایک معمے کا ایک ایسا ٹکڑا ہوں جو کہیں اس میں فٹ نہ ہوتا ہو۔ ایک مکمل تصویر کے معمے میں فٹ ہونے کے لیے ہمیں خود کو اس طرح تراشنا ہو گا جو موجود خلا میں سما سکتا ہو۔

لوگ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ میرے اسٹوڈنٹس نے ایک دوسرے سے بات کی اور ان کے ذریعے مجھے معلوم ہوا کہ جو اسٹوڈنٹس کمپنیاں بھیج رہی تھیں، وہ دوسرے ملکوں کے ڈاکٹرز سے بہت زیادہ فیس لیتی ہیں اور اس کا محض 25 فیصد ان کو پڑھانے والے ڈاکٹرز کو دیتی ہیں۔ میں نے یہ سوچا کہ مجھے براہ راست ان ڈاکٹرز کو پڑھانا چاہیے تاکہ وہ ایک معمولی فیس دیں جس کو میں ان تمام مقاصد پر خرچ کرواؤں جو میرے لیے اہم ہیں۔ ان اسٹوڈنٹس نے کئی مقاصد کو مالی امداد دینے میں حصہ بٹایا جن میں میرے بچپن کے اسکول سینٹ میریز کے بچے اور سیلاب سے متاثر افراد شامل ہیں۔ معلومات ایک طاقت ہیں، ہمارے اندر طاقت ہے اور پیسے میں بہت طاقت ہے۔ امیزنگ اسپائڈر مین کے مطابق ”عظیم طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ “

چونکہ میرا اپنا کلینک ہفتے میں پانچ دن صبح سے شام ہوتا ہے اس لیے میرے پاس اتنا وقت نہیں بچتا تھا کہ میں کوئی کیس رپورٹ کسی جرنل میں چھپنے کے لیے لکھ سکوں یا اینڈوکرائن کی سوسائٹی کی میٹنگ میں پوسٹر پیش کروں یا کسی بھی طرح کی کلینکل ریسرچ کر سکوں۔ ان سب کاموں کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔ بہت سارے ایسے ادھورے پراجیکٹ میری درازوں میں دھول جمع کر رہے تھے۔ میں نے اپنے انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کے سامنے یہ مواقع رکھے اور انہوں نے میرے ساتھ مل کر ان کیسوں پر کام کیا۔

پچھلے پانچ سالوں میں ہماری اینڈوکرائن ٹیم نے پاکستانی میڈیکل جرنل، اینڈوکرائن جرنل، جرنل پینکریاز اور دیگر جرنلوں میں اینڈوکرائن بیماریوں سے متعلق آرٹیکل چھاپے۔ اس کے علاوہ کئی اسٹوڈنٹس نے پوسٹر بنائے۔ ایک اسٹوڈنٹ کو امریکن ایسوسی ایشن آف انڈین فزیشن سے تیسرا انعام ملا۔ جو اردو میں لکھ سکتے تھے انہوں نے میری آنے والی ذیابیطس کی کتاب کے باب لکھنے میں مدد کی۔ ان حصوں میں ان ڈاکٹروں کے نام شامل ہیں۔ کچھ نے ہم سب میگزین کے لیے مضمون لکھے۔

دو نیپالی ڈاکٹرز نے خواتین میں بانجھ پن پر نیپالی زبان میں مضمون کا ترجمہ کیا جو نیپال میں ایک اخبار میں چھپا جس کو وہاں ہزاروں افراد پڑھتے ہیں۔ آج کی مستقل بدلتی ہوئی دنیا میں یہ اہم ہے کہ میڈیکل سائنس کی مشکل معلومات کو مقامی زبانوں میں ترجمے کے ساتھ دنیا کے مختلف علاقوں تک پہنچایا جائے۔ یہ تمام انٹرنیشنل ڈاکٹرز اپنی اپنی جگہ ناقابل یقین افراد ہیں۔ ڈاکٹر راکیش کمار کی کہانی میں نے پچھلے سال لکھی تھی۔ آج وہ پینسلوانیا میں فیملی پریکٹس میں ریزیڈنسی کر رہے ہیں اور ان کی اپنی من پسند لڑکی سے شادی ہو چکی ہے۔ ان کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے۔ ہر فرد کے پیچھے ایک کہانی ہے، ایک جدوجہد ہے جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔

یہ ایک سائڈ پراجیکٹ جو میں نے اپنے شوق سے اور دلچسپی سے شروع کیا تھا، اس کے نتیجے میں مجھے غیر متوقع کامیابی حاصل ہوئی۔ صرف پروفیشنل ترقی نہیں بلکہ ان تمام ڈاکٹرز سے دوستانہ جان پہچان ہو گئی۔ 2010 سے آج تک اینڈوکرائن ڈپارٹمنٹ میں انٹرنشپ کرنے والے تمام اسٹوڈنٹس آج مختلف جگہوں پر ہیں۔ پچھلے سال کینیڈا سے آنے والے ایک ڈاکٹر نے مجھے فون کیا اور کہا کہ میری ریزیڈنسی ختم ہو گئی ہے اور اب میری شادی ہو رہی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ میری شادی میں شرکت کریں۔

جب ہم شادی میں گئے تو ہر کسی کی میز پر ایک کرسی طے تھی۔ انہوں نے مجھے دو چابیاں دیں۔ ایک پر لکھا تھا ڈاکٹر مرزا اور دوسری پر ڈاکٹر مرزا۔ 2۔ یعنی ایک میرے لیے اور دوسری اس کے لیے جو بھی میرے ساتھ ہو۔ وہ دو چابیاں اپنے ہاتھ میں دیکھ کر میں نے سمجھا کہ اپنی کہانی اور اپنی زندگی کا مرکزی کردار ہونے کا کیا مطلب ہے۔

2022 میں جب یہ مضمون لکھا جا رہا ہے، آج تک پچھلے سال کے 20 اسٹوڈنٹس نے مجھے یہ پیغام بھیجا ہے کہ ان کو ریزیڈنسی مل گئی ہے۔ میں اپنے تمام اسٹوڈنٹس کے لیے خوش ہوں۔ 2017 میں جب ڈاکٹر سہیل نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میرا کیا خواب ہے؟ اس وقت میں نے ان سے کہا تھا کہ میں چاہتی ہوں کہ کچھ ایسا ہو جو میں نے خود اپنے دماغ کو استعمال کر کے بنایا ہو۔ میں ان تمام اسٹوڈنٹس کی شکر گزار ہوں جن کی وجہ سے مجھے بہت کچھ نیا سیکھنے کا موقع ملا، میرے چھوٹے اور بڑے خواب پورے ہوئے، نئے تعلقات بنے اور ہم سب کا آسمان وسیع ہوا۔

Facebook Comments HS