میرا سارا شہر بہہ گیا

بلخ شیر بھائی بتاتے تھے کہ ہر سال ”رود کوہی“ کا پانی ان کی فصلیں اجاڑ دیتا ہے۔ مظفر گڑھ کے لوگ تو خوش نصیب ہیں کہ ان کی زمین پہاڑوں سے دور ہے اور سونا اگلتی ہے۔ بلخ شیر نتکانی کا تعلق تونسہ شریف سے تھا اور قسمت ان کو نوکری کے لئے مظفر گڑھ کھینچ لائی۔ ہم اکثر ان کو سردار کہہ کر چھیڑتے کہ اب یہ وقت بھی دیکھنا تھا کہ سردار ہمارے ساتھ ”سردار“ چڑھے ہیں۔ نوکر بن گئے تو سر داری کیسی؟ اور وہ سچ مچ چھڑ جاتے۔ یہ ہمارا رود کوہی سے پہلا تعارف تھا۔ ہر سال کوہ سلیمان پہاڑوں پہ برسنے والی بارش کا پانی پہاڑ کی طرح تونسہ، منگڑوٹھہ، ڈیرہ غازی خان کے دیہاتوں میں ٹوٹ پڑتا تھا۔
تو آپ لوگ شہر شفٹ کیوں نہیں ہو جاتے؟ شہر میں پلنے والے ایسے سوال کر سکتے تھے۔ اور وہ ایک آہ بھر کے کہتے کہ آپ شہری لوگ کیا جانیں مٹی کی محبت کیا چیز ہے۔
اور قسمت دیکھئے کہ ہماری شادی ایسی جگہ ہوئی جہاں ہر سال رود کوہی کا پانی آتا اور بنائے گئے ریمپ سے گزر جاتا۔ لیکن ہمارے لئے اگلے کئی دن اپنی نوکری پہ آنا مسئلہ بنا رہتا۔ اس مسئلے کا حل ہم نے تو شہر شفٹ ہو کر نکال لیا کہ ہم باقی کسی کو ہجرت پہ قائل نا کر سکے۔
بلخ شیر بھائی ٹھیک کہتے تھے، مٹی سے محبت انسان کو مٹی میں ملا دیتی ہے کہ اپنی مٹی کو چھوڑ کے جانا مٹی میں مل جانے سے زیادہ جانگسل ہوتا ہے۔ یہ اپنی مٹی سے ہی محبت تھی کہ بار بار آنے والا ”رودکوہی“ بھی ان کو اپنی مٹی سے جدا نا کر سکا۔ اک عرصے سے وہ اس کے ساتھ جینے کے عادی ہو چلے تھے۔ بارشیں شروع ہوتیں تو دعائیں بڑھ جاتی تھیں کہ رب اس بار پہاڑوں پہ برسنے والی رحمت ہم پر زحمت بن کے نا ٹوٹے۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ رود کوہی تو ہمیشہ سے ہمارا مقدر ہے، دعا ہی تھی جو ہمیں بچا لیتی تھی۔ حکومت کس کی آئی، کس کی چلی گئی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فرق پڑتا ہے تو فقط ان غریب کسانوں کو کہ جن کی سال بھر کی محنت لمحوں میں اجڑ جاتی ہے۔
سیاسی جوڑ توڑ چلتے رہے مگر رود کوہی کا رستہ کوئی نا بدل سکا۔ تبدیلی کی چاہ رشتوں کی چاشنی میں زہر گھول گئی لیکن پانی اسی رفتار چلتا رہا۔ فصلیں اجڑتی رہیں اور رشتوں کی کوکھ بھی بنجر ہو گئی۔ آسمان پہ بیٹھے خدا کا قلم اتنا بے رحم نہیں کہ ساری تکلیفیں اور سختیاں غریبوں کے حصے میں لکھے۔ یہ زمینی نا خدا ہیں کہ جن کی جنبش قلم سے فقط غریبوں کے نصیب اجڑتے ہیں۔
اس بار پہاڑوں پہ باران رحمت ایسا کھل کے برسا کہ آدھی صدی سے زیادہ ”رودکوہی“ دیکھنے والوں کی آنکھیں بھی حیرت سے پھٹ پڑیں۔ اتنا پانی تو ان بوڑھی آنکھوں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ پانی جب منہ زور ہو جائے تو اس کو کچھ دکھائی نہیں دیتا، رود کوہی بستیاں اجاڑتا گیا، گھر، فصلیں، جانور، بچے بوڑھے جوان، غریب کی کل متاع پانی میں بہہ گئی۔ اتنی مہلت نا ملی کہ سنبھل سکتے اتنا اونچا منہ زور پانی کہ لاشیں بھی نا چھوڑیں اس نے۔ کچھ بدنصیب ایسے کہ دفن ہونے کے لئے دو گز خشک زمیں بھی نا پا سکے۔
یہ تو اس وقت کا نوحہ ہے جب سیلاب کا قصہ تازہ تھا۔ اس وقت بھی ہمارے ناخدا اپنی اپنی لڑائیوں میں الجھے تھے بس کچھ درد مند ایسے تھے جو مدد کو آ پہنچے تھے۔ اب تو سیلاب کا پانی دلدل میں بدل چکا ہے، کہیں کہیں زمین خشک بھی ہو رہی ہے۔ لیکن زمین کی سطح اتنی بلند ہو گئی ہے کہ آنے والی فصل اگانے کے لئے اس کو تیار کرنا لاکھوں کا کھیل ہے۔ اب پانی رخ بدلے یا نا بدلے، درد بدل گئے ہیں۔
مٹی کی محبت میں اپنی جگہ رہنے والے اب ”اپنی مدد آپ“ کے تحت آباد کاری اور بحالی میں مصروف ہیں۔ گھر میں جو کچھ بچ گیا ہے اسی کے ساتھ زندگی کی گاڑی کھینچنے میں ہلکان ہیں۔ سکول جاتے بچے اور بچیاں، نوکری پہ جاتے افراد جب جوتے ہاتھ میں پکڑے دلدل سے گزرتے ہیں تو اکثر گھٹنوں تک دھنس جاتے ہیں۔ جو دلدل سے بچنے کے لئے پانی سے گزرتے ہیں اگلے کئی دن ٹانگوں اور پیروں کی الرجی کا تحفہ لئے گھر میں محصور ہو جاتے ہیں۔
بے زبان جانور تو اس سمجھ سے بالا تر ہیں، کبھی کوئی بکری، کبھی گائے دلدل میں اتر جاتی ہے۔ ان بے زبانوں کو نکالنے کے لئے بچے، جوان سب مل کے رسہ کشی کرتے ہیں اور کیچڑ می لت پت، ادھ موئے سے گھر آتے ہیں۔ نکاسی آب ابھی مشکل ہے مائیں بچوں سے الجھتی ہیں اور حکومت کو کوستی ہیں۔ کاش کوئی ایسا آئے جو آنے والی نسلوں کا بھی سوچے اور موجودہ تباہی کی بحالی میں ساتھ دے۔ پانی فصلیں ضرور بہا گیا ہے لیکن یہ سمجھا گیا ہے کہ حکومت کسی کی بھی ہو فصلیں اجڑتی رہیں گی کہ ہمارے زمینی خدا تو ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔
برسوں کی رشتہ داریوں میں دراڑیں ڈلوا کر آپس میں رشتے داریاں گانٹھ لیتے ہیں۔ کوئی ہے جو ان ناخداؤں کو بتائے کہ اجڑی بستیاں، ان کی نظر کرم کی منتظر ہیں۔ سیلاب کے بعد کے عذاب وہی جانتے ہیں جو ان سے گزر رہے ہیں۔ آپ کے تخت سلامت رہیں ہماری تو زندگی کا سوال ہے۔ جنوبی پنجاب کے لاوارث شہر تونسہ اور ڈیرہ غازی خاں بحالی کے لئے اپنے سرداروں کے منتظر ہیں۔
