کتاب۔ نجف سے کربلا مصنف۔ توقیر ساجد کھرل

تعارف بقلم۔ طاہر شیخ
اشرف المخلوقات کے روئے زمین پر قدم رنجہ فرما ہونے کے بعد تلاش اور جستجو کی لگن جاری و ساری ہے جسے ”سفر“ کا نام دیا جاتا ہے۔ کبھی یہ سفر جدت کی تلاش میں ہوتا ہے تو کبھی سائنس کی نت نئی ایجادات کا سہرا بھی اسی سفر کے سر باندھا جاتا ہے۔ زندگی سے موت تک کا فاصلہ بھی سفر کہلاتا ہے اور اولاد سے والدین بننے کا دورانیہ بھی سفر کہ کر یاد کیا جاتا ہے۔ غرض، انسانی جستجو کا ہر پہلو سفر سے وابستہ ہے جس میں عقیدت، معنویت اور مقصدیت جیسے عناصر تہ در تہ کثرت سے ملتے ہیں۔ منزل کی تلاش میں قائم کیا جانے والا سفر درحقیقت عقیدت کا اظہار ہوتا ہے جو ہر انسان اپنی حیثیت اور بندگی کے عین مطابق بسر کرتا ہے تا وقتیکہ اس کی ملاقات مقصود اور حصول سے نہ ہو جائے۔
سفر کے اظہار کا سلسلہ ازل سے مختلف ذرائع اور وسائل سے ہوتا رہا ہے جس میں اپنے سفر کی حقیقتوں کو الفاظ کے موتیوں میں پرو کر کتابی شکل میں پیش کرنا اور زبانی سنانا ہر دور میں قابل ذکر رہا ہے۔ پچھلے دنوں خاکسار کو مشہور کالم نگار، ناول نگار، شاعر اور افسانہ نگار توقیر ساجد کھرل کی تالیف ”نجف سے کربلا“ موصول ہوئی۔ صبح کا آغاز جب نماز اور تلاوت قرآن کے بعد کتاب سے ہو تو ایک انسان کی زندگی میں اس سے بہتر کوئی خوشی نہیں ہو سکتی ہے۔
ڈاکیے کا شکریہ ادا کیا اور کتاب کو کمرے میں سنبھال کر رکھ کے یونیورسٹی چلا گیا۔ واپسی پر اولین ترجیح کتاب کا مطالعہ کرنے کی تھی جو زندگی کی گوناگوں مصروفیات کی بدولت پس پشت چلی گئی اور پھر ایک ہفتہ گزر گیا۔ یوم اساتذہ کو کتاب پکڑی اور پہلا ورق پڑھتے ہی دل و دماغ سرور میں آ گئے۔ اربعین تا ظہور ایک عام سفر نہیں بلکہ عقیدتوں کی آماجگاہ ہے جہاں انسان زیست کے ان پہلوؤں سے روشناس ہوتا ہے جو اگرچہ اس کی ذات میں پوشیدہ ہوتے ہیں مگر وہ ایک انجانے ڈر کی وجہ سے انہیں ٹٹولنے سے ڈرتا رہتا ہے۔ مسلمانوں کی زندگی کا نصب العین خالق کل کے احکامات ماننے، حضور کائنات کے سنہری اصولوں کی پیروی کرنے اور صحابہ کرام و اہل بیت کی اطاعت کرنے کے گرد طواف کرتے ہوئے ملتا ہے۔
ذکر جب حضرت امام حسین علیہ السلام کا ہو تو فرقوں اور گروہوں سے بالا تر ہو کر عقیدت کا پہلو روشن ہوتا ہے جس کی تابناکی ہر مسلمان کو اس کی حقیقت سے آگاہ کرتی ہے۔ نجف سے کربلا ایک سفر ہے جو انسان کی ذات کو مقصدیت سے آگاہی بخشتا ہے۔ مصنف کی حالات و واقعات پر پختہ گرفت قاری کو لفظوں کے سمندر میں بہا لے جاتی ہے جہاں اس پر مقصدیت اور معنویت کے اسرار و رموز کھلتے ہیں۔ یہ سفر کربلا کا سفر ہے جو عصر حاضر میں ملین مارچ بن چکا ہے۔
لاکھوں لوگ اپنی ذات، شناخت، نسل، قوم اور رنگ سے ماوراء ہو کر حسینی رنگ اوڑھے عازم سفر ہوتے ہیں جہاں قدم قدم پر ان کو محبتوں اور چاہتوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں۔ مصنف نے کربلا کی یاد میں یہ سفر 2015 میں کیا اور 2022 میں اسے یوں قلمبند کیا جیسے وہ دوبارہ اسی راہ پر گامزن ہو اور لمحے لمحے کی روداد اسی لمحے صفحہ قرطاس پر منتقل کر رہا ہو۔ کربلا کے سفر کو عالمی پذیرائی حاصل ہے اور ہر انسان خواہ وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم عقیدت کی نگاہ سے ماپتا ہے۔
کل عالم کو متاثر کرنے والا یہ سفر اسی کتاب میں مختلف صحافیوں کی زبانی بھی قلمبند کیا گیا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی قربانیوں کا اقرار برملا سبھی کرتے ہیں مگر بہت کم لوگ اس نعمت کو دوسروں پر ظاہر کرنے میں تکیہ رکھتے ہیں اور توقیر کھرل انہی لوگوں میں سے ہیں جو سفر کی عقیدتیں پرت در پرت سب کو گھول کر پلا دیتے ہیں۔
رواں انداز بیان اور سادہ و سلیس زبان میں لکھی گئی یہ روداد ہر لحاظ سے کامل ہے۔ آغاز میں قاری کربلا کے سفر کے معانی سے آگہی حاصل کرتا ہے اور ہر اس زہر فشانی کا جواب پاتا ہے جو پیدا ہونے کے بعد سے اس کے ذہن میں ڈالی گئی ہوتی ہے۔ اربعین بننے کا سفر صرف منظور نظر عقیدت مندوں کو نصیب ہوتا ہے جو دل سے کربل کا راہی بننے کا عزم کرتے ہیں ورنہ دولت کے انبار رکھنے والوں کے لیے منزل کا حصول بھی خواہشات کی تکمیل کی آماجگاہ ہوتی ہے۔
اربعین کے ملین مارچ کو روکنے کے لیے مختلف حیلے بہانے بنائے جاتے ہیں جن کی پر زور مذمت کرتے ہوئے مصنف حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے۔ عام سفر کے لوازمات کے برعکس، اس سفر میں صاف نیت اور ارادے کی مضبوطی و پختگی معنی رکھتی ہے کیونکہ یہ وہ سفر ہے جس میں اربعین کو قدم قدم پر خدمت گزار ملتے ہیں جو اپنی بانہیں وا کیے کربل کے ہر راہی کے لیے دل اور گھر کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ مزار امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا شرف با سعادت انسانوں کو میسر ہوتا ہے جس کے لیے زاد راہ کی نہیں بلکہ عقیدت مند ہونے کی شرط لازم ہے۔


