سیلاب زدگان کی بحالی، سیرت نبوی اور جدید سوشل سائنسز!


اگر جاپان نے دو ایٹمی دھماکوں کی مار سہی تو سیلاب زدگان کی بحالی مشکل کام نہیں لیکن میں موضوع کی طرف جانے سے پہلے آپ کو حقیقی ریاست مدینہ کی طرف لیے چلتا ہوں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو۔

جب نبی کریمﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت بھی سب سے بڑا مسئلہ مہاجرین کی آبادکاری ہی تھا، یہ لوگ اپنا سب کچھ مکہ مکرمہ میں چھوڑ کر خالی ہاتھ مدینہ منورہ پہنچے تھے لیکن ریاست مدینہ کے والی نے مہاجرین کے سماجی اور معاشی مسائل کا مستقل حل تلاش کیا، آپ ﷺ نے انہیں انصار پر مستقل بوجھ نہ بننے دیا آپ ﷺ نے ایسا بھی نہیں کیا کہ سب مہاجرین کو مسجد میں بٹھا دیتے اور صبح شام مدینہ منورہ کے لوگ کھانا دے جاتے اور یہ لوگ کھا پی کر اللہ اللہ کرنے لگ جاتے چونکہ نبی کریمﷺ ایک وژنری انسان تھے لہذا آپ ﷺ نے آنے والے سربراہان کو ایک بہترین لائحہ عمل کے ذریعے ایسے حالات سے نمٹنے کا ایک وژن عطا کیا آپ ﷺ ایک ایک مہاجر کا ہاتھ پکڑتے اور ایک ایک انصار کا بھائی بناتے جاتے، یوں مدینہ منورہ کی سوسائٹی پر بھی بوجھ نہ پڑا اور ”اب کیا ہو گا، کیا بنے گا“ والی گو مگو کی کیفیت کا بھی خاتمہ ہو گیا، ہونے کو تو یہ بھی ہو سکتا تھا، جو کہ عموماً آج کل کیا جاتا ہے کہ وہاں بھی کیمپ لگا دیے جاتے اور تمام مہاجرین کی رہائش اور خورد و نوشت کا وہیں انتظام ہوتا لیکن آپ ﷺ نے ایسا کرنے کی بجائے انہیں مدینہ منورہ میں بکھرے مختلف خاندانوں کے حوالے کر دیا جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ تمام مہاجرین پوری سوسائٹی میں گھل مل کر وہاں کی ثقافت کا حصہ بن گئے۔

مہاجرین اور انصار کے مابین جو بھائی چارہ قائم کیا گیا اس میں ایک پہلو یہ بھی پیش نظر رکھا گیا کہ جن انصاریوں کو مہاجرین کی ذمہ داری سونپی گئی، وہ صاحب ثروت انسان تھے یعنی نبی کریم ﷺ نے مہاجرین کی تعداد کے پیش نظر اتنے ہی امیر انصاری تلاش کیے اور پھر انھیں کچھ عرصے تک ایک ایک مہاجر بھائی کی ذمہ داری سونپ دی۔

اگر میں نبی کریم ﷺ کی آبادکاری کے اس منصوبے کی جزئیات پر بات کروں تو یہ مضمون کئی صفحات میں سما سکتا ہے لیکن بتانا فقط یہی مقصود ہے کہ یہ مقامی یا بین الاقوامی مہاجرین کی آبادکاری کا ایک کامل منصوبہ ہے اور اگر آپ دنیا کی تاریخ کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ جن جن ممالک نے اس طریقہ کار کو اختیار کیا وہاں معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے لیکن جن ممالک نے کیمپوں والا طریقہ اختیار کیا وہاں آج بھی مہاجرین کیمپوں میں لاچاری کی زندگی بسر کر رہے ہیں یا ان ممالک کی معیشت کے لیے بوجھ بنے ہوئے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ترکی نے اسی نبوی طریق کو اختیار کیا اور وہاں اس قسم کے حالات پیدا نہ ہوئے جس طرح کے حالات کا ان دیگر ممالک کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں مہاجرین موجود ہیں کیونکہ وہ مہاجرین کی آبادکاری کے نبوی ماڈل کی بجائے ان کی کیمپنگ کرتے ہیں اور پھر باوجود اقوام متحدہ کی مالی مدد کے، انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے قابل نہیں بنا پاتے، تقریباً نصف کروڑ کے قریب شامی مہاجرین ترکی در آئے لیکن طیب اردگان نے انھیں ریاست پر بوجھ بنانے کی بجائے آبادی کاری کا نبوی طریقہ اختیار کرتے ہوئے ان کا مستقل حل یوں تلاش کیا کہ نصف کروڑ کے قریب ہی صاحبان ثروت تلاش کیے اور ایک ایک (مہاجر) شامی خاندان ایک ایک امیر ترکی (انصاری) خاندان کے حوالے کر دیا، یوں ترکی کی معیشت متاثر ہوئی، سیکیورٹی کا مسئلہ بنا اور نہ ہی ثقافتی تغیر کا معاملہ درپیش آیا۔

موجودہ سیلاب میں ایک محتاط اندازے کے مطابق دس لاکھ گھر جبکہ ساڑھے تین کروڑ کے لگ بھگ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ اگرچہ الخدمت فاؤنڈیشن، تحریک لبیک اور عبدالرزاق ساجد صاحب کی المصطفیٰ پوری تندہی سے ان کے دکھ درد میں شریک ہیں لیکن یہ اس مسئلے کا مستقل حل نہیں، حکومت کو بھی چاہیے کہ بائیس کروڑ کی آبادی میں سے تین کروڑ کے لگ بھگ ایسے انسان تلاش کرے جو ایک ایک خاندان کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکیں۔ یوں وہ کسی ایک کیمپ میں نہ تو خود کو قیدی اور بھکاری محسوس کریں گے اور نہ ہی وہ ہمیشہ کے لیے بوجھ بنے رہیں گے۔

جب ان کی دیکھ بھال اور ان پر نظر رکھنا صاحب خانہ کی ذمہ داری ہو گی تو سیلاب زدگان کے روپ میں کوئی تخریب کار بھی نہ گھس پائے گا یوں سیکیورٹی ایجنسیاں اپنے اصل فرائض کی جانب متوجہ رہیں گی اور اخراجات کی بچت بھی ہو پائے گی۔ دس لاکھ گھر بنانا کوئی مشکل کام نہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن اور تحریک لبیک پہلے ہی اس جانب قدم بڑھا چکی ہیں۔ حکومت اس سلسلے میں سیلانی ویلفیئر، رضا ثاقب مصطفائی اور عبدالرزاق ساجد جیسے صاحبان درد کو بھی انگیج کر سکتی ہے، یہ لوگ اپنے رضاکاروں سے کام لیں گے، ترسیل، تعمیر اور مزدوری کی بھی بچت ہو گی بس حکومت انھیں تشہیری اور ٹیکنیکل سپورٹ مہیا کرے، گھر بنانے سے پہلے جگہ کا سروے کرنا انتہائی ضروری ہے کہ پانی کا راستہ روکنا ممکن نہیں۔

اسلام کا یہ سنہری اصول کہ ”پانی کے راستے میں کبھی گھر مت بناؤ کیونکہ پانی اپنا راستہ کبھی نہیں چھوڑتا چاہے سو سال بعد ہی آئے مگر آتا ضرور ہے“ بچے بچے کو یاد ہے بس کمی ہے تو اس اصول پر سختی سے کاربند ہونے کی۔ حکومت کو اسی ماڈل کو اختیار کرنا ہو گا کیونکہ مسئلہ صرف ان کا نہیں بلکہ ان کے خداوں کا بھی ہے اور کیا ہم چاہیں گے کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی انھیں حالات میں زندہ رہیں جن حالات میں ان کے والدین رہ رہے ہیں؟

Facebook Comments HS