بوسنیا کی چشم دید کہانی (15)

فرانسیسی افسران کے سٹیشن میں اس شان سے داخلے کی دو وجوہات تھیں۔ اول یہ کہ پہلے سے موجود تمام مانیٹروں کا تعلق تھرڈ ورلڈ سے تھا۔ دوئم ان کی ریجنل کمانڈر کرنل کارنوں سے ہم پیشہ ہونے کی نسبت تھی، جو جنڈر میری کا پیرس میں یونٹ کمانڈر بھی تھا۔ فرانسیسی مانیٹر اپنے ہمراہ سٹیشن کے لیے دو گاڑیاں بھی لائے تھے جن پر انہوں نے سٹیشن کمانڈر کو کوئی اہمیت دیے بغیر خود ہی پہلے دن سے قبضہ کر لیا۔ اس کے علاوہ وہ پہلے سے موجود تین گاڑیوں میں سے ایک کو صبح ہی صبح قابو کر لیتے اور پھر پلامین اور بولک سارا سارا دن انتظار میں رہتے کہ کب وہ اس گاڑی کے ہمراہ واپس لوٹیں اور وہ بھی اس پہ لور لور پھرنے کی پرانی ٹھرک پوری کریں۔ لیکن پلامین اور بولک کو یہ خواہش پوری کرنے کے مواقع اب کم کم ہی میسر آتے تھے۔
ماسوائے لیوک اور لوئی کے جو گزارہ کرتے تھے باقی سب انگریزی میں بس پیدل ہی تھے۔ ہر ایک نے اپنے ساتھ کمپیوٹر نما جیبی انگریزی/ فرانسیسی لغت رکھی ہوتی تھی۔ آپ کے ہر فقرے میں سمجھ نہ آنے والے الفاظ وہ اس ڈکشنری میں فیڈ کرتے اور ان کا فرانسیسی متبادل ملنے پر بات سمجھ پاتے۔ اس کے بعد جب فرانسیسی لہجے میں حلق پر دباؤ ڈالتے ہوئے انگریزی میں جواب دیتے تو بس قیافہ سے ہی مطلب اخذ کیا جاتا۔ ابلاغ کے معاملے میں ان کی انگریزی اسی سطح پر تھی جس پر تجریدی آرٹ پایا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں سب سے پتلی حالت ژاں ژیک کی تھی، جسے اس کے ساتھی جی جی کے نام سے پکارتے تھے۔ اسے ہر دوسرے فقرے کو سمجھنے کے لیے جیبی لغت کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ یہی جی جی جو ہمارے کاغذوں میں مشن کے لیے ایک غیر موزوں افسر تھا ہمارا ڈپٹی سٹیشن کمانڈر بنا دیا گیا۔ ساتھ ہی اس کے لیے سرائیوو سے ایک لینڈ کروزر گاڑی بھی آ گئی۔ جی جی نے تکلفاً بھی کرس کو اس گاڑی کے استعمال کی پیشکش نہ کی۔ یوں سٹیشن کمانڈر کے زیر استعمال وہی پرانی ڈبل کیب رہی۔
جی جی کا ڈپٹی سٹیشن کمانڈر بننا اور پھر لینڈ کروزر گاڑی کا بلا شرکت غیرے حقدار ٹھہرنا درحقیقت یہ بہ انداز حدیث دیگراں قسم کا اعلامیہ تھا کہ فرانسیسی مانیٹرز کو شریک گروہ عام نہ سمجھا جائے۔
ماسوائے لوئی کے باقی تمام گورے تھے۔ لوئی کالا تھا اور اس کے آباء کا تعلق ویسٹ انڈیز سے تھا۔ اس کا خاندان پچھلی دو نسلوں سے فرانس میں آباد تھا۔ وہ ایک قبول صورت کالا تھا، انتہائی غصیلا اور من موجی۔ جی جی کے ڈپٹی بننے کے بعد اسے ایم۔ ٹی۔ او یعنی گاڑیوں کا منتظم بنا دیا گیا۔ تقریباً انہی دنوں مجھے ایڈمن افسر بنایا گیا۔ میرے سمیت پہلے سے موجود تمام مانیٹروں کو فرانسیسیوں کی عددی برتری بھی کھٹکتی تھی اور ان کے پاس سٹیشن کے دو عہدے ہونا بھی، لہذا ہمارے اور خاص طور پر میرے ان سے باہمی تعلقات کچھ ایسے خوشگوار نہ تھے۔ اقبال کو یہاں ایک بار پھر مجھ سے اختلاف تھا۔ وہ کہتا تھا یہ تگڑے لوگ ہیں اور ان سے بگاڑ بے فائدہ ہے۔ اپنی بات کو زیادہ پر اثر بنانے کے لیے یہ بھی کہتا تھا کہ ایسے موقع پر تمہارے جیسے بندے کو پشتو میں یہ نصیحت کی جاتی ہے۔ ”زان دا پارہ کار مہ گورا“ ( مصیبت کو آواز مت دو) ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے باہمی تعلقات میں بہر حال بہتری آتی گئی۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ فرانسیسی ساتھی فلپ سے ایسی گہری دوستی ہوئی کہ اقبال سے تو اس کا تعلق
ع۔ ہم پیشہ و ہمراز و ہم مشرب ہے میرا
والا ہو گیا۔ اس کا پورا نام Dassy Philipe تھا۔ قد چھ فٹ سے نکلتا ہوا اور جسم دبلا پتلا تھا۔ سر پر بال صرف اطراف میں رہ گئے تھے۔ عمر 45 کے قریب تھی۔ اقبال اسے فلپیتو کہا کرتا تھا اور اس نے اقبال کا نام اقبالوش رکھا ہوا تھا۔ وہ ناقابل یقین حد تک اچھا ڈرائیور تھا۔ گاڑی کو وہ ہمیشہ عقبی شیشوں کی مدد سے پارک کیا کرتا تھا۔ اس کام میں اسے اس قدر مہارت حاصل تھی کہ سٹولک کے مانیٹرز میں سے جن کی تعداد بعد میں 32 تک پہنچ گئی تھی کوئی بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔
ایشور سنگھ نے اس کا نام کانسٹیبل ڈرائیور رکھا ہوا تھا۔ اس کی انگریزی بے حد کمزور تھی اور اس کا ذخیرہ گنے چنے آسان الفاظ تک محدود تھا۔ اس کا پسندیدہ شغل ڈرائیونگ اور پسندیدہ موضوع سیکس تھا۔ وہ ہمہ وقت اپنی جیب میں کوئی نہ کوئی برہنہ تصویر ضرور رکھتا تھا اور اسے سامنے رکھ کر اقبال کو جسم کے مختلف حصوں کے فرانسیسی نام بتایا کرتا تھا۔ وہ عام سگریٹ پینے کی بجائے ازخود سگریٹ تیار کیا کرتا تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ ہر وقت اپنے ساتھ ایک سگریٹ ساز جیبی ڈبہ رکھتا تھا۔ وہ سگریٹ کے کاغذ کے دونوں کناروں کو زبان سے ہلکا تر کر کے اس میں تمباکو رکھتا اور اسے ڈبے میں بند کر دیتا۔ ڈبہ بند ہوتے ہی اس کے اوپر بنی ہوئی نالی سے ٹھک کر کے سگریٹ برآمد ہوتی جو فوراً اس کے لبوں میں جگہ پاتی۔
دوران ڈرائیونگ وہ دوسروں کی غلطیوں کا بڑی سختی سے نوٹس لیتا تھا۔ دوسرے ڈرائیور کی معمولی سی غلطی بھی اس کے نزدیک قابل معافی نہیں ہوتی تھی۔ ایسی کسی بھی غلطی پر وہ زور سے، او پوتاں، پکارتا اور اس کے بعد اپنی زبان کے جتنے بھی غیر مہذب الفاظ اسے یاد ہوتے یکے بعد دیگرے ان کی گردان شروع کر دیتا۔ یہ الفاظ ایسے ہر موقع پر بار بار دہرائے جانے کی وجہ سے اقبال کو زبانی یاد ہو گئے تھے۔ اب اگر فلپ زیادہ غصے کی وجہ سے ان میں سے کوئی لفظ بھول جاتا تو اقبال لقمہ دے دیا کرتا تھا۔ اس پر وہ پہلے اقبال کی طرف غضب ناک نظروں سے دیکھتا اور پھر ہنس دیتا۔
فلپ کے ساتھ تعلق کی نوعیت اب دوستی کی ہو چلی تھی۔ اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے فرانسیسی ساتھیوں سے تعلقات بھی ویسے کھنچاؤ کا شکار نہی رہے جیسے وہ پہلے تھے۔ اگرچہ ان میں دن بدن بہتری آتی گئی لیکن ان کا کھٹا میٹھا پن پھر بھی کسی حد تک برقرار رہا۔ فلپ کے بعد جس ساتھی سے بے تکلفی ہوئی وہ لوئی تھا۔ وہ انتہائی گرم مزاج ہونے کے باوجود صاف دل کا یار باش بندہ تھا۔ فرانس کا شہری ہوتے ہوئے اور پولیس میں ایک بہتر عہدے پر فائز ہونے کے باوجود اسے اپنے معاشرے میں رنگت کی بنا پر جس تعصب سے صبح شام پالا پڑتا تھا وہ اس کا سب سے بڑا دکھ تھا۔
ہماری جوان ترجمانیں، جو اگست کے آخر میں ہمارے عملے میں شامل ہوئیں، اسے پر کشش مردوں میں شمار کرتی تھیں۔ لیکن لوئی کا ان لڑکیوں سے عمومی طور پر رویہ ویسا ہی ہوتا تھا جیسا ہمارے ہاں ساس کا بہو سے ہوتا ہے۔ لہٰذا لوئی کے بارے میں ان کی اچھی رائے بھی کسی ایسی مثبت ( ہمارے نکتہ نظر سے منفی) پیش رفت کا باعث نہ بن سکی۔ شاید اس بے رخی کا سبب لوئی کے تجربے کا وہ تکلیف دہ پہلو تھا جس نے گوروں کے حوالے سے اس کی رائے کو مستقل منفی رنگ دے رکھا تھا۔ چنانچہ گورا یو یا گوری وہ اسے ایک فاصلے پر رکھ اپنی انا کی تسکین کرتا تھا۔
حسینوں کے معاملے میں لوئی کے رویے کی ضد جی جی تھا۔ وہ عمر کے حوالے سے پچاس کے پیٹے میں تھا۔ جوان بچوں کا باپ تھا۔ سر کے بال کافی حد تک غائب ہو چکے تھے۔ وہ بلا کا سگریٹ نوش تھا۔ بات کرتے ہوئے بھی سگریٹ کو ہونٹوں سے جدا کرنا غیر ضروری خیال کرتا تھا اور اسے بائیں طرف کے دانتوں میں دبائے رکھتا تھا۔ اس کا چہرہ اور خاص طور پر آنکھیں بڑے اداکاروں کی طرح پر تاثیر تھیں۔ وہ اپنے اندرونی جذبات کا اظہار اپنے چہرے کے تاثرات سے گفتگو کے بغیر بھی آسانی سے کر دیا کرتا تھا۔ اس کا خواتین کی قربت کا رجحان بولک کے برخلاف اپنی ہم عصروں تک ہی محدود تھا۔ چنانچہ ترجمان خواتین میں وہ میرا یا لے جا کی رفاقت کو بوقت گشت ترجیح دیتا تھا۔
وہ موسیقی کا ازحد دلدادہ تھا اور اکثر سیٹی بجاتے ہوئے مختلف فرانسیسی دھنیں گنگناتا رہتا تھا۔ ایک رات سٹیشن میں بیٹھے ہوئے میں یونہی ایک انڈین گیت گنگنانے لگا۔
جب کوئی بات بگڑ جائے جب کوئی مشکل پڑ جائے، تم دینا ساتھ میرا او ہمنوا
جی جی بھی اس وقت قریب موجود تھا۔ گیت سنتے ہی یک دم میری طرف متوجہ ہوا اور سوال کیا کہ کیا میں فرانسیسی موسیقی اور نغمات کی جانکاری بھی رکھتا ہوں۔ میں نے کہا کیا مطلب، میں تو ایک انڈین گانا گا رہا ہوں۔ وہ بولا یہ تو ساٹھ کی دہائی کی ایک مقبول فرانسیسی دھن ہے۔ اس کے بعد اس نے وہ فرانسیسی دھن گا کر سنائی۔ مجھے اس چربہ دھن پر خفت کا سامنا اس لیے نہیں کرنا پڑا کہ یہ کارنامہ ایک انڈین موسیقار کا تھا۔ اس کے بعد وہ مجھے یہ دھن اکثر سنایا کرتا تھا اور کبھی کبھی مجھ سے بھی فرمائش کیا کرتا تھا کہ میں اسے اس دھن میں اپنے والا گیت سناؤں۔

