رچڈ گینگ اور تین وکٹیں


 دنیا گول ہے اور پاکستان میں تو سب کچھ ہی گول ہے، اسے گول کرنے میں ہر کسی کا کوئی نہ کوئی رول ہے جس کی وجہ سے یہاں سب کچھ ڈانواں ڈول ہے۔ چند برسوں میں اس گالم گول کے چکر میں بہت کچھ بگڑ گیا یا بگاڑ دیا گیا، اصلی حالت میں تو پہلے بھی کچھ نہیں تھا اور اصل کی طرف واپسی کا عمل شروع ہونے میں شاید ابھی بھی کافی وقت باقی ہے۔ واپس جانا بھی کس کو ہے؟ سب کو آ گے بڑھنا ہے، قدم بڑھاؤ! اور ہم نے تیز قدم بڑھا دیے اور پھر دوڑ لگا دی۔

خود رک کر سانس کیا لیتے اردگرد والوں کا بھی سانس لینا دوبھر کر دیا۔ اس دوڑا دوڑی میں کچھ لوگ امیر اور کچھ امیر تر ہو گئے اور بہت سے اتنا پیچھے رہ گئے کہ کسمپرسی کی حالت میں چلے گئے، غربت کے ان بلیک ہولز سے ان کا نکلنا اب ممکن نظر نہیں آتا، معجزے بہرحال ہوتے ہیں مگر اتنے زیادہ بھی نہیں ہوتے کہ سب کی حالت اور حالات ٹھیک کر جائیں۔ پکانے، کھانے اور پینے کو پہلے ہی بہت کم تھا مگر اب تو نہ نہانے کو کچھ ہے اور نہ نچوڑنے کو ، حالات کے مارے گنجے اور گنجیاں! گنجے اور گنجیوں کے ذکر پر اس کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہ جوڑا جائے، ان حالات کے ذمہ دار زلفوں والے بھی ہوسکتے ہیں۔ برابر کے شریک جرم تو ہم بھی ہیں!

شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی

بیتے ہوئے چند برسوں میں اعلیٰ پائے کی حقیقی تبدیلیاں ضرور رونما ہوئیں یعنی ڈیجیٹل قسم کی عدم برداشت، الیکٹرانک قسم کی نفسانفسی، آن لائن قسم کی بدتمیزی اور لائیو قسم کی گالم گلوچ، سائنس کی ترقی نے تعلیم و تربیت اور گفتار و کردار کی سائنس بھی بدل کر رکھ دی، سب کے پاس اب اپنی اپنی دینیات ہے، اپنا اپنا ریاضی اور اپنا اپنا معاشرتی علوم۔ صرف یہی وہ حقیقی سائنسی تبدیلیاں ہیں جنہوں نے پہلی بار امیر و غریب کا فرق مٹا دیا اور سب گفتار کے غازی بن گئے کیونکہ ان میں سے کوئی ایک بھی کسی دوسرے کی گفتار کی بمباری سے شہید نہیں کیا جاسکتا۔

سب کو خود کے لئے تو عزت چاہیے مگر کسی دوسرے کو عزت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اب اس سوال کا جواب کہاں تلاش کیا جائے؟ اس معاملے میں دانشور تو خاموش ہیں ہی، اشرف المخلوقات کی بنائی فیروز اللغات بھی جواب دینے سے قاصر ہیں، ہمیں کیا اور تمہیں بھی کیا والا معاملہ ہے بیچ ان تبدیلیوں کے! ان سائنسی تبدیلیوں کے نتیجے میں بہت سے لوگ فہم و ادراک اور شعور و آگاہی کی معراج تک بائی روڈ یا بائی ائر، شوٹ و شوٹ اور ٹاپ و ٹاپ پہنچ چکے ہیں، یعنی سب کو سب کچھ پتا ہے اور ہر کوئی سب جانتا ہے، وہ چاہے مچھر کی پیدائش و افزائش کا عمل ہو یا منجی ٹھوکنے کا طریقہ، چاند پر بیل گاڑی بھیجنے کا کوئی ممکنہ جگاڑ ہو یا ٹخنوں سے عقل کشید کرنے کا کوئی آئیڈیا، اور ایسی ہی بے شمار و لاتعداد وغیرہ وغیرہ کے زمرے میں آنے والی باتیں او ر چیزیں ہیں۔ آپ کسی سے کوئی سوال کر کے تو دیکھیں امید ہے آپ دیکھتے ہی رہ جائیں گے وہ جواب دینے کی بجائے آپ کو لاجواب کردے گا اور شاید ہو سکتا ہے ٹھنڈا ہی کردے۔

گول اور ڈانواں ڈول ٹائپ کا فہم و ادراک اور شعور رکھنے والے لوگوں کی اکثریت کا ایک عامل کی اس بات پر کامل یقین ہے کہ ایک گیند پر تین وکٹیں گرائی جا سکتی ہیں اگر اس بات سے مراد آف سٹمپ، مڈل سٹمپ اور لیگ سٹمپ ہے تو ایک گیند پر ان تمام کلیوں کو اڑانے کا کسی باؤلر کا ایسا کارنامہ مجھے تو یاد نہیں ہاں اگر آپ کو علم ہو تو مجھے بھی آگاہ کیجئے گا تاکہ مجھے بھی فہم و ادراک اور شعور و آگاہی کی معراج تک پہنچنے کے لئے لفٹ مل سکے۔

ویسے بھی تین کِلیاں بیک جنبش واحد بال وہی گرا سکتا ہے جس نے چھرے والی بندوق سے خان صاحب کے پھٹے پر لگے غباروں میں سے تین یا تین سے زیادہ غبارے ایک ہی چھرے سے اڑائے ہوں ورنہ بھائی مشکل ہے، اور اتنا تاک کر نشانہ لگانے کے لئے بچپن میں کنچے کھیلنے کا ریکارڈ بھی موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر اس تین وکٹ والی بات سے مراد یہ ہے کہ ایک بہتر سال کا تیز گیند باز اپنی ایک بال پر تین کھلاڑی آؤٹ کر سکتا ہے تو چھپ کر بیٹھا ہوا تھرڈ امپائر بھی ساتھ مل جائے تو یہ ممکن نہیں۔ ہاں اگر کھیل میں بھی کوئی حقیقی تبدیلی لائی جائے تو ایسا ہو سکتا ہے ورنہ آن لائن اور لائیو قسم کا سائنسی طریقہ تو موجود ہی ہے۔

فہم و ادراک اور شعور کی معراج سے بھی آگے نکل جانے والا سپر سانک قسم کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جن کو یہ سیسہ پلایا یقین ہے کہ راہزن، چور یا ڈکیت معیشت کو بہتر کر سکتا ہے، عام لوگوں کی زندگیوں میں خوشحالی کے بیس، پچیس چاند منور کر سکتا ہے اور لوٹ کا مال غریبوں میں بھی تقسیم کر سکتا ہے، ایسا تاریخ میں ہوتا تو رہا ہے جب نیک سیرت اور سخی قسم کے ڈاکو لوٹ کے مال کا ایک تگڑا حصہ غریبوں میں بانٹ دیا کرتے تھے۔

رابن ہڈ فرنگی تھا مگر سخی تھا لوٹ کا مال بانٹ کر ہی دم لیتا تھا، برصغیر پاک و ہند میں لوٹ کے مال کی تقسیم سے غریبوں اور ساہوکاروں کے ستائے ہوئے ضرورت مندوں کی دعائیں لینے والوں میں سلطانہ ڈاکو سر فہرست تھا، بھارتی ریاست جونا گڑھ میں لوٹ کے مال سے غریبوں میں نیک نامی کمانے والے تین ڈاکو جھینا، ہیرا اور بھوپت سنگھ تھے، تقسیم کے بعد انتہائی مطلوب بھوپت بھارتی پولیس کو چکمہ دے کر سرحد پار کر کے پاکستان آ گیا اور یہاں کچھ عرصے بعد دھر لیا گیا، جواہر لعل نہرو نے محمد علی بوگرہ سے بھوپت کو مانگا مگر ان دونوں وزرائے اعظم کی گٹ مٹ پریس تک پہنچ گئی اور عوامی دباؤ کے پیش نظر بھوپت کو بھارت کے حوالے نہ کیا جا سکا، اسے کہتے ہیں کسی ڈاکو کی عوامی مقبولیت۔ بھوپت معمولی سزا کاٹنے کے بعد مسلمان ہو گیا اور پھر امین یوسف بن کر کراچی میں دودھ دہی والا مشہور ہوا، وہ بھی سعودی عرب گیا مگر حج کر کے واپس آ گیا۔

محمد خان ڈاکو بھی ایک تاریخی کردار ہے، خدارا اس کو ق لیگ کے محمد خان بھٹی سے ملانے کی سازش نہ کی جائے، تو یہ بھی خوب ظالم مگر سخی تھا۔ اپنا ذاتی پیسہ تو نہیں مگر لوٹ کے مال سے اپنے لئے کچھ رکھ کر باقی ضرورت مندوں کے گھروں تک پہنچا آیا کرتا تھا، گورنر امیر محمد خان سے تعلق کی بنیاد پر بچا رہا، نواب صاحب کی گورنری ختم ہونے پر پکڑا گیا اور پھانسی کی سزائیں ہوئیں مگر کمال کا سیاسی تعلق والا تھا، سزائے موت عمر قید میں بدلوائی اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت میں محترمہ کے کسی قریبی نے ساٹھ سال سے زائد عمر کے قیدیوں کی سزا معاف کرنے کا آرڈر کروا دیا اور محمد خان آزاد ہو گیا۔ اور یہیں سے ڈاکوؤں سے یاری نبھانے کی مثال قائم کی گئی۔

فہم و ادراک والے سپر سانک قسم کے طبقے کا یہ گمان بھی یقین کی حد تک ہے کہ راہزن، چور اور ڈکیت مل کر بہتر نتائج دے سکتے ہیں حالانکہ ہر راہزن، چور اور ڈکیت کا اپنا اپنا علاقہ ہوتا ہے جہاں لوٹ مار کی انتہائی قابلیت اور صلاحیت رکھنے والا کوئی دوسرا ہاتھ مار سکتا ہے نہ ہاتھ دکھا سکتا ہے، ویسے تو کوئی بھیک منگتا یا فقیر بھی اپنی سڑک، چوراہا، سگنل یا علاقہ کسی دوسرے بھکاری سے شیئر نہیں کرتا۔ لیکن پھر بھی وسیع تر قومی مفاد میں یہ۔

”رچڈ گینگ“ تشکیل پا گیا۔ رچڈ سے مراد راہزن، چور اور ڈکیت ہے۔ یقینی طور پر اس گینگ نے ایسے کام بھی اپنے ذمے لے رکھے ہوں گے جو کسی کا دادا بھی نہ کر سکے، دادا اس لئے کہ اب کی بار گیم باپ سے اوپر کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار لوٹ کے مال سے یہ گینگ غریبوں اور ضرورت مندوں میں بھی کچھ بانٹے گا یا نہیں؟ ہمارے فہم اور ادراک کے مطابق اس کا جواب نہیں ہی ہے کیونکہ اس بار راہزن، چور اور ڈکیت خود بہت زیادہ بھوکے ہیں اور چودہ قسم کے ایکسپرٹس کا پیٹ بھرنا کوئی آسان کام نہیں!

Facebook Comments HS