مسلم لیگ اور تحریک انصاف سوشل میڈیا کے تناظر میں
سوشل میڈیا ٹیم کی کارکردگی دیکھنی ہو تو میاں شہباز شریف کا دورہ اقوام متحدہ ہی دیکھ لیں۔ یہ ہر حوالے سے ایک کامیاب دورہ تھا جس میں پاکستان کے ساتھ ساتھ خود مسلم لیگ نون کے لیے بھی بہتری کے کئی پہلو تھے لیکن افسوس کہ مسلم لیگ نون کی سوشل میڈیا ٹیم اسے کیش نہ کرا سکی۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کو دیکھیں جس نے پورے دورے کے روشن پہلوؤں کو صرف ایک آیت اور تھوک لگا ورق پلٹنے میں دفن کر دیا حالانکہ اس جیسے کئی بلنڈر خود عمران خان صاحب بین الاقوامی فورمز پر کر چکے ہیں۔
صرف دو تین مثالیں دیتا ہوں۔ شہزادہ محمد بن سلیمان کی موجودگی میں خان صاحب اعلامیے کے وقت کھاتے اور وہ بھی لگاتار کھاتے چلے گئے، آج بھی ویڈیو دیکھیں تو ہنسی چھوٹ جاتی ہے کہ شہزادہ کیا سوچے کہ انھیں کھانے کا وقت نہیں ملتا یا کھانا نہیں ملتا؟ جبکہ عین اسی وقت عارف علوی بیٹھ کر اعلامیہ پڑھنے لگے تو کسی نے متوجہ کرایا کہ حضور کھڑے ہو کر پڑھیں، اسی طرح بشکیک میں جب پوری دنیا کی قیادت کھڑی آنے والے سربراہان کا استقبال کر رہی تھی تو خود عمران خان بیٹھ گئے اور جب سبکی کا سامنا کرنا پڑا تو یہ چال چلی کہ اسرائیل کا سربراہ آ رہا تھا اس لیے عمران خان صاحب بیٹھ گئے۔
اسی طرح سعودیہ دورے میں جب عمران احمد خان نیازی عمرے کی سعادت حاصل کر رہے تھے تو کئی لوگ دور سے حجر اسود کو استلام کر رہے تھے لیکن نیازی صاحب نے سمجھا کہ وہ انھیں سلام کر رہے ہیں لہٰذا انھوں نے جو اباً ہاتھ ہلانا شروع کر دیے، یہ حالت دیکھی تو ساتھ ڈیوٹی پر موجود سیکیورٹی گارڈ اور آفیشلز نے بتایا کہ حضور وہ آپ کو سلام نہیں بلکہ حجر اسود کو استلام کر رہے ہیں۔ کئی بلنڈر ہیں لکھنے پر آؤں تو پورا کالم لے جائیں، مقصود فقط یہ بتانا تھا کہ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم نے نیازی صاحب کے ان بلنڈرز کا رخ تبدیل کیا اور انھیں اسلامی ٹچ دینے میں کامیاب رہی جبکہ مسلم لیگ نون سوشل میڈیا کی ناکامی ہے کہ وہ اچھی بھلی باتوں کو کیش نہ کرا سکی۔
مثلاً آپ اسی دورے کو لے لیں، شہباز شریف نے دورے کے اخراجات اپنی ذاتی جیب سے ادا کیے، ہوٹل کا کھانا اور رہائش کا بل تک خود داد کیا، سہولت میسر ہونے کے باوجود لیموزین کی بجائے سفارتی گاڑیاں استعمال کیں لیکن افسوس کہ مسلم لیگ نون کی سوشل میڈیا ٹیم ان کارناموں کو کیش نہ کرا سکی۔ دوسری جانب ایک گمنام سے بندے نے مین ہٹن کے ان ہوٹلوں کے سامنے کھڑے ہو کر ایک ویڈیو بنائی کہ یہاں ہوٹلوں کا کرایہ اتنا زیادہ ہے اور شہباز شریف فلاں مہنگے ہوٹل میں رہ رہے ہیں اور یوں پاکستان کو ایک رات اتنے میں پڑ رہی ہے اس ویڈیو میں کوئی صداقت موجود نہ تھی لیکن وہ راتوں رات پھیل گئی اور یوں وہ گناہ بھی مسلم لیگ کے گلے پڑ گئے جو انھوں نے کیے بھی نہیں تھے۔
دوسری جانب شہباز شریف نے جنرل اسمبلی میں پاکستان کا مقدمہ بہترین انداز میں لڑا، کشمیر پر کھل کر بات کی، انڈین اور اسرائیلی جارحیت پر بات کی، اسلام کا مقدمہ لڑا، دہشت گردی میں پاکستان کی قربانیوں کی بات کی، جس جو بائیڈن کی ایک کال کی خاطر عمران خان نے نہ جانے کیا کیا پاپڑ بیلے تھے، اسی بائیڈن نے شہباز شریف کو ملاقات کا وقت دیا لیکن مسلم لیگ نون کی سوشل میڈیا ٹیم ان باتوں کو کیش کرا سکی، نہ میڈیا کو انگیج کر سکی اور نہ ہی ایک موثر بیانیہ بنا سکی، یہ ناکامی نہیں تو کیا ہے؟
دوسری طرف تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کو دیکھیں جس نے قرآن مجید کی آیت اور تھوک لگا کر صفحہ پلٹنے کے معاملے پر طوفان کھڑا کر دیا حالانکہ خود عمران خان کی ویڈیوز موجود ہیں جن میں موصوف تھوک لگا کر صفحات پلٹتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ حالانکہ اس بات کو یوں بھی ٹیکل کیا جا سکتا تھا کہ شہباز شریف نے ایک آیت پڑھی اور بھول گئے اور بڑے بڑے علما تقاریر کے دوران آیات بھول جاتے ہیں جن کی ویڈیوز بھی موجود ہیں لیکن اس سے سنگین بات تو یہ ہے کہ ایک انسان اردو زبان کا حلف نامہ ایک ایک دو دو لفظ کر کے آگے آگے پڑھ رہا ہو لیکن دوسرا انسان پھر بھی تین چار بار دہرانے کے باوجود بھی لفظ ”خاتم النبیین“ نہ پڑھ سکے۔
تھوک لگا کر صفحات پلٹنا بھی غلط لیکن اس سے کہیں زیادہ شرمندگی کی بات تو یہ ہے کہ آپ پوری دنیا کے سامنے جاپان اور جرمنی کی سرحد ملا دیں۔ لیکن یہاں سارا قصور دونوں جماعتوں کی سوشل میڈیا ٹیموں کا ہے۔ ایک طرف وہ ٹیم ہے جو عمران احمد خان نیازی کی قمیض میں ”موریوں“ کو لے کر اتنی گرد اڑاتی ہے کہ لوگوں کو سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرتا نیازی بھول جاتا ہے لیکن اس کی قمیض کی موریاں یاد رہ جاتی ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ نون کی سوشل میڈیا ٹیم ہے جو اس بات کو کیش نہیں کرا سکتی کہ شہباز شریف نے سرکاری دورے کے اخراجات ذاتی جیب سے ادا کیے ہیں اور نہ ہی اس بات پر کوئی ٹاک شوز کرا سکتی ہے جبکہ دوسری جانب مخالف ہیں جو ایک گمنام لڑکے سے جھوٹی ویڈیوز بنوا کر انھیں بدنام کر جاتے ہیں۔
مسلم لیگ نون کی سوشل میڈیا ٹیم کو ایک قدم آگے آنا ہو گا۔ ذرا یاد کریں جب الیکشن کمیشن نے فیصلہ دینا تھا تو نیازی کو بھی پتا تھا کہ کیا فیصلہ آنا ہے لیکن انھوں نے پریشان ہونے کی بجائے الٹا الیکشن کمیشن کے خلاف ایک محاذ کھڑا کر دیا اور اپنے ماننے والوں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو گئے کہ فیصلہ ناحق آیا ہے اور الیکشن کمیشن کو ان سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے، مقصود یہ بتانا تھا اگر جینا ہے اور پی ٹی آئی کا مقابلہ کرنا ہے تو اخلاقیات کو ایک طرف رکھ کر فرنٹ فٹ پر کھیلنا ہو گا۔


