انڈیا: پاکستان سے تجارت بحال کرنے کے مطالبے پر ریاست پنجاب کے رہنما تنقید کی زد میں، ’پاکستان پرست` قرار


انڈیا پاکستان تجارت
انڈیا کی ریاست پنجاب نے حال ہی میں مرکز کے زیر انتظام ایک کانفرنس میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان سے تجارت دوبارہ شروع کی جائے کیونکہ تجارت بند ہونے سے پنجاب کے کسانوں اور تاجروں کا بہت نقصان ہو رہا ہے۔حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن دونوں نے پنجاب حکومت کے اس مطالبے پر شدید نکتہ چینی کی ہے اور ریاست کی ‏عام آدمی پارٹی کی حکومت کو 'پاکستان پرست قرار دیا ' ہے۔

پاکستان سے تجارت بحال کرنے کا مطالبہ پنجاب کے زراعت اور کسانوں کی بہبود کےوزیر کلدیپ سنگھ دھالیوال نے مرکز کے زیر اہتمام ریاستی وزراء زراعت کی ایک کانفرنس میں کیا تھا۔ اس میٹنگ کی تفصیلات حال میں جاری کی گئیں جس سے پنجاب کے مطالبے کے بارے میں پتہ چلا۔

دھالیوال نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان سے تجارت دوبارہ کھول دی جائے۔ اطلاعات کے مطابق اس میٹنگ کے بعد جن معاملات پر قدم اٹھانے یا مزید غور کرنے کافیصلہ کیا گیا تھا اس میں پنجاب سے تجارت کی بحالی کا سوال بھی شامل تھا۔

لیکن اس خبر کے میڈیا میں آتے ہی بی جے پی اور کانگریس نے پنجاب کی عام آدمی پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

بی جے پی کے سینئر ترجمان شہزاد پونے والا نے ‏عام آدمی پارٹی کو ’پی پی پی یعنی پاک پرست پارٹی‘ قرار دیا۔ ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ‘آپ پارٹی کی پاکستان پرستی کانگریس کے پاک پریم کے مترادف ہے۔ کانگریس کی ہی طرح آپ پارٹی نے بھی سرجیکل سٹرائیک کے بارے سوالات اٹھائے تھے۔ بالاکوٹ کے بارے میں ثبوت مانگا تھا اور پلوامہ کے لیے انڈیا کوہی مورد الزام قرار دیا تھا۔‘

پاکستان نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو ختم کیے جانے کے دو روز بعد 7 اگست 2019 کو انڈیا سے تجارتی تعلقات معطل کر دیے تھے۔

کانگریس کے سینیئر رہنما منیش تیواری نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے ’کیا پنجاب کے وزیر کلدیپ سنگھ دھالیوال کو پاکستان کے سرکاری موقف کے بارے میں پتہ ہے۔ انڈیا سے تب تک کوئی بات چیت نہیں ہوگی جب تک کشمیر سے متعلق قانونی ترامیم کو واپس نہیں لیا جاتا۔ ابھی تک ہم نے ہائی کمشنر کا عہدہ بھی بحال نہیں کیا ہے۔ ان حالات میں تجارت؟‘

انڈیا پاکستان تجارت

2017 میں انڈیا نے پاکستان سے 48 کروڑ 88 لاکھ ڈالر کی درآمدات کی اور دو ارب کی برآمدات کی

یہ بھی پڑھیے

انڈیا سے کپاس کی درآمد پاکستانی ٹیکسٹائل شعبے کی مشکلات کم کر سکتی ہے؟

کیا انڈین پیاز اور ٹماٹر ہی پاکستان میں سیلاب کے بعد قیمتیں کم کرنے کا واحد حل ہے؟

’تجارت پر پابندی کی خبر اتنی تباہ کن تھی کہ لوگوں نے کئی دنوں تک کھانا نہیں کھایا‘

پاکستان کے ’پسندیدہ ترین ملک‘ نہ رہنے سے نقصان کس کا؟

قلیوں، ڈھابے والوں اور ڈرائیوروں کے روزگار چھن گئے

’کشمیر کی تحریک پہلی ترجیح، تجارت دوسرے نمبر پر‘

انڈیا پاک تجارت تعلقات کی طرح پیچیدہ

پاکستان، انڈیا تجارت

بی جے پی ایک اور رہنما منجندر سنگھ سیرسہ نے بھی پنجاب حکومت پر نکتہ چینی کتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان سے آنے والی غیر قانونی منشیات نے پنجاب کے نوجوانوں کو تباہ کر دیا ہے۔ لیکن پنجاب کی آپ پارٹی کی حکومت پاکستان سے تعلقات بحال کرنے کے لیے بے چین ہے۔‘

انڈیا اور پاکستان کے درمیان 2017- 18 میں باہمی تجارت کا حجم 2 ارب 41 کروڑ ڈالر تھا جو 2021 -22 میں گھٹ کر 516 ملین ڈالر پر آ گیا ہے۔ یہ تجارت بھی بیشتر دوسرے ملکوں کے توسط سے ہو رہی ہے۔

حال ہی میں ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے جموں میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔

دونوں ملکوں نے رابطے بحال کرنے کے سلسلے میں بہت سخت موقف اختیار کر رکھا ہے اور مستقبل قریب میں حالات معمول پر آتے ہوئے نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp