معیشت اور نظم و ضبط


تاریخ کی شاخوں سے مرجھائے پتے جھڑ کر خوش رنگ شگوفے کھلنے کی نوبت نہیں آتی کہ خزاں کا تازہ حملہ آن دبوچتا ہے، نئی سازش کے تانے بانے زندگیوں میں زہر گھولتے رہتے ہیں، خزاں کی یہ رت پچھلے 75 برسوں سے یونہی قائم ہے، تقسیم سے پہلے اور قیام پاکستان کے بعد سے تشدد کے پاؤں گاڑنے کے لیے زمین ہموار کی گئی، اقتدار کا راستہ صاف کرنے کے لیے بھرے مجمعوں میں رہنما موت کی نیند سلائے گئے۔ سیاسی منظر نامے سے رہنماؤں کو ہٹانے کے لیے الزامات گھڑنے کا سلسلہ شروع کر کے وزرائے اعظم کے خارج از دفتر کیے جانے کا کبھی نہ تھمنے والا سلسلہ شروع کیا گیا جس نے بالآخر اکثریت کو اقلیت سے جان چھڑانے پر مجبور کر دیا۔ اکثریت کو معاشی بوجھ بتایا گیا، موسمی طوفانوں کی یلغار سے پہنچنے والی اذیت کو دبے لفظوں میں ملکی معیشت کا کبھی نہ بھرنے والا زخم بتایا گیا۔

اونچی فصیلوں کے پیچھے بند کمروں میں کسی عوامی خواہش کا لحاظ کیے بغیر ملک توڑنے کی شدید خواہش کو عملی جامہ پہنانے پر کام شروع کر دیا گیا۔ اکثریت کو بوجھ سمجھنے اور رائے عامہ کی تذلیل کی جانے لگی، اکثریت کو بوجھ سمجھنے کی صورت میں علیحدگی کا مہذب طریقہ اختیار کرنے کے بجائے رگوں میں دوڑتی حیوانیت نے جبر و تشدد کی خواہش پوری کرنے میں ہر ممکن کردار ادا کیا۔ خزاں کی پیلی رت سبزے میں ڈھلنے کے بجائے خون کی سرخی سے تر ہو گئی۔ ظلم اور زیادتی اپنے منطقی انجام کو پہنچی، ملک دو لخت ہوا، راستے جدا ہو گئے۔

علیحدگی کے صدمہ سے نکلنے کی جدوجہد دکھوں کی انجمن میرے دیس کے لیے شروع ہی ہوئی تھی کہ ایک نئی سازش نے جنم لے کر ایک مقبول عام وزیراعظم کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

خود کو سرخرو جاننے سمجھنے والے نفرت انگیز چہرے اور ان کی متعفن سوچ مسلسل مسلط رہی، ملک کے علیحدہ ہونے والے مشرقی حصے نے ترقی کے مدارج طے کرنے شروع کرتے ہوئے سابق مغربی پاکستان کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا جو بھیک میں ملنے والے ڈالرز پر خوب گلچھڑے اڑاتا رہا معیشت ایک روز بھی اپنے پاؤں پر مضبوطی سے جم کر کھڑی نہ ہو سکی۔ سازشوں کے نا تھمنے والے اس گندے کھیل میں عدلیہ نے کوئی بند باندھنے کے بجائے خوب ہاتھ رنگے اور معیشت کی بربادی میں اپنا گندا کردار ادا کیا کہ اب لگتا ہے سرنگ کے آخری سرے پر موجود روشنی مدھم ہوتے ہوتے بھڑک کر بجھنے والی ہے۔

سازشوں کی اس کھلواڑ میں معیشت براہ راست نشانے پر رہی، ملک میں نظم و ضبط اور معاشی زبوں حالی کے زیر اثر اپنے مضمون میں مہارت رکھنے والوں کی معیشت پر تحریر بلا ناغہ ہم سب کی نظر سے گزر رہی ہیں۔ موجودہ دگرگوں حالات پر ماہرین معاشیات اور نظم و ضبط کے ذمہ داران سمیت ہر خاص و عام عالم اضطراب میں ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جس طرح طب کے موضوع نے اپنی شاخیں پھیلا کر ذیلی مضامین کی شکل اختیار کی اسی طرح معیشت بھی سیاسی معیشت، سماجی معیشت، ترقیاتی معیشت وغیرہ جیسے ذیلی مضامین میں بٹ چکی ہے۔

ان تمام ذیلی معیشت کے ماہرین کی قابل قدر رائے اپنی اپنی جگہ تذبذب، انتشار اور پریشانی سے پر ہے لیکن حیران کن طور پر کوئی بھی ماہر معیشت ملک کی بنیاد میں چھپی بارودی سرنگ کی واشگاف الفاظ میں نشاندہی کے لیے تیار نظر نہیں آتا، البتہ، چند تحریروں سے گمان گزرتا ہے کہ مضمون میں مہارت رکھنے کا دعویدار سرنگ بچھانے والے ماہرین کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کھڑا کسی نفع بخش پیش کش کا منتظر ہے اور اپنی مہارت کو بارود میں شدت پیدا کرنے کی خاطر خدمات پیش کرنے کو بے چین ہے۔

نچلے اور درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والا شہری 27 فیصد سے زائد مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے، مہنگائی کی یہ انتہا 1975 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ افسوسناک صورتحال معاشی اعداد و شمار شائع کرنے والوں کی ہے جو ملکی معیشت کی سالانہ نشو و نما کی شرح بتاتے وقت آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح کو منہا کر کے اصل شرح نمو بتاتے ہوئے شرم کے بجائے فخر محسوس کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کوئی بھی ساختی اصلاحات یا اسٹرکچرل ریفارمز کسی مثبت تبدیلی کا موجب بن سکتی ہیں؟ کیا موجودہ نظام گورننس یا نظم و ضبط، معیشت اور عدلیہ کو پہنچنے والے شدید نقصان کی تلافی کر سکتا ہے؟ محترم معاشی ماہرین اور اسٹیبلشمنٹ کے اکثر حامی ماہر معاشیات بنیادی وجہ کو چھوئے بغیر میڈیا کے متعدد ذرائع استعمال کرتے ہوئے مسلسل مخصوص طبقے کی خدمت میں ذہن سازی کے فرائض ادا کرتے ہوئے لکھتے اور بولتے ملتے ہیں۔

معیشت ایک پیچیدہ موضوع ضرور ہے، لیکن اتنا پیچیدہ بھی نہیں جتنا 75 سالوں میں گورننس کی زبوں حالی نے اسے بنا دیا ہے۔ اخبارات اور سوشل میڈیا میں اکثر مضامین اور تجاویز پڑھتے ہوئے اکثر سر ابھارتا سوال یہ ہوتا ہے کہ ”کیا ان عارضی اقدامات سے تصحیح ممکن ہے“ ؟ خاص طور پر ایک ایسی ریاست میں جہاں وزیر اعظم اپنے ہی مقرر کردہ ملازم کا ماتحت ہو، جہاں ملک کے قیام سے لے کر آج تک تمام وزرائے اعظم اپنے عہدے یا زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہوں، جہاں معاشی، عدالتی اور روز مرہ کے معمولات میں نظم و ضبط کو معیاری بنانے کے بجائے ہر وقت نظم و ضبط کا باقاعدہ مذاق اڑایا جاتا ہو۔

نظم و ضبط پر ایک طائرانہ نظر ڈال لیجے جہاں کسی محکمے کے چیف کا ایک ماتحت افسر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تیار کیے گئے ”ڈان لیکس“ کے بارے میں ملک کے اعلی ’ترین دفتر سے موصول ایک رپورٹ پر ”مسترد“ لکھ سکتا ہو، یہ ملک کے مفاد میں وزیراعظم کو غور و فکر اور گہرے مشاہدے کے بعد نتائج کے بارے میں تبصرے کے ساتھ بھیجی گئی ایک اہم رپورٹ تھی۔

اس حد درجہ بے ضابطگی ایک بے بنیاد پروپیگنڈا مہم کے ذریعے منتخب وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹانے کا بہانہ بنا جو بالآخر ذمہ دار اور ذہین حکومتی عہدیداروں کے خدشات مطابق ”ایف اے ٹی ایف“ کی پابندیوں پر منتج ہوا، لیکن کیا کھیل ترتیب دینے والوں نے پرواہ کی؟ کیا انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں آئی؟ یا سزا دینے کے لیے کوئی لب کشائی کی جرات کر پایا؟ اس صورتحال میں معیشت سدھارنے کے خواب دکھانے والے بلا تکان اپنی مہارت کے اظہار میں مصروف ہیں، جہاں بدانتظامی کا اتنا برا حال ہو کہ ایک صوبے کے آئی جی پولیس کو اپنی رعونت کی دھاک بٹھانے کے لیے اٹھا لیا جائے۔

دوسری جانب نظر کیجے، وسائل کا ایک بڑا حصہ سیکیورٹی کے لیے مختص ہے، ایک ایسے دور میں جبکہ دنیا سیکیورٹی اسٹیٹس سے باہمی مفادات کی دنیا میں بدل چکی ہو، طاقت کا جبری استعمال کرنے والوں کا اپنی روش بدلنے کو تیار نہ ہونا بلکہ ملک کے تقریباً ہر منافع بخش کاروبار میں ٹیکس فری کمرشل ایمپائر کو نشو و نما دے کر عام کاروباری طبقے کے لیے مسابقت کے دروازے دانستہ بند کر دینے کی سعی اور معیشت کو درست ڈگر پر ڈالنے میں رکاوٹ بن رہی ہے، FWO اس صورتحال کی ایک مثال ہے۔

ملک کی موجودہ خستہ معاشی اور انتظامی صورتحال سارے ملکی ڈھانچے کو گرانے کے در پہ ہے، ایندھن اور خوراک کے ذخائر کے بارے میں وقتاً فوقتاً تشویش اور برامدات کی ادائیگی کے لیے خالی جیب صرف ایک انتہائی دیمک زدہ منظر پیش کرتی نظر آئے گی۔ حالیہ شدید بارشوں سے ہونے والی تباہی انسانی بداعمالیوں کا نتیجہ ہیں، چہار جانب پھیلی تباہی، غریب اور متوسط طبقہ جو اس کی لپیٹ میں آیا اپنا سب کچھ لٹا چکا ہے، یہ سب اس کے باوجود ہوا ہے کہ موسم سے باخبر رکھنے والے محکمے بہت پہلے سے شدید بارشوں کی پیش گوئی کر رہے تھے لیکن تیاری کے لیے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے سمیت ذمہ داران نے کان پر رینگتی جوں کو ہاتھ کی ایک جنبش سے جھاڑ پھینکا۔ انفراسٹرکچر یا بنیادی ڈھانچے کی ایسی تباہی ہوئی کہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ملک سے کٹ گیا، ریلوے سسٹم دھڑام سے زمین بوس ہو گیا، جبکہ ٹرینیں اب تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکیں۔

صوبہ سندھ نے انتہا درجہ کی تباہی کا سامنا کیا جہاں خیر پور ناتھن شاہ جیسا ہنستا بستا شہر دس فٹ پانی میں ڈوب گیا، دیگر علاقے ابھی تک زیر آب ہیں اور شہری اپنی فصلیں، مال مویشی اور زندگی بھر کی پونجی گنوا چکے ہیں۔ گندم، چاول، کپاس، گنے، اور کھجور کے فارمز جیسی اہم فصلیں برباد ہو چکی ہیں۔ اس تباہی سے پہنچنے والے نقصان کا اگلا مرحلہ چہار جانب گندگی، غلاظت اور مچھروں کی یلغار ہے، ڈائیریا اور ملیریا کی وبا پھیلی ہوئی ہے، درجنوں اموات ہو چکی ہیں اور ہسپتالوں میں بیماروں کے لیے بستر کم پڑ گئے ہیں، متاثرہ شہری اب تک سڑکوں کے کنارے جہاں جگہ ملی پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

اکثر سرحدوں کے پار ہمارے حریفوں کے لیے کیا یہ بہترین وقت نہیں تھا کہ وہ اپنے کسی بھی مذموم لائحہ عمل کو عملی جامہ پہناتے، خطرات کی دن رات تشہیر کے برعکس، دشمنی کا رویہ اپنانے کے بجائے ہر سرحد کے پار سے مدد کی پیشکش ہوتی نظر آئی۔

ملکی سلامتی کے لیے وسائل اور انتظام یقینی طور پر انتہائی اہم ہیں لیکن سرحدوں کے لیے خطرہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جانا، جنگی جنون قائم رکھنے کی خاطر تعلقات معمول پر رکھنے کے بجائے معاندانہ رویہ درحقیقت خارجہ امور کے معاملات میں بھی ناکام گورننس کے علاوہ اور کچھ نہیں رہے، سفارت کاری کا استعمال کرنے کے بجائے ہمارا بندوق کے استعمال کو ترجیح دینا کس فائدے کا حامل ہے اس کے جواب سے شاید خارجہ امور کو سول انتظامیہ کے تحت کام نہ کرنے دینے والے بیشتر ذمہ داران بھی لاعلم ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بارشوں سے اجناس کی تباہی اور روزمرہ کے استعمال کی سبزیاں کمیاب ہو جانے پر ملک کے دروازے پر موجود اجناس کا درآمد کیا جانا ممکن نہیں ہے، نقل و حمل سے لے کر اشیاء کی قیمتوں کے سستا ہونے کے قوی امکانات کے باوجود عوام کو مہیا کیا جانا ممکن نہیں۔

ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اگلے سال مون سون زیادہ شدت کا ہو گا اور معیشت موجودہ مالی سال سے زیادہ نازک ہوگی، آبادی میں 2.5 فیصد سے زائد معمول کا اضافہ شدت میں اضافے کا باعث ہو سکتا ہے، ایک بہت بڑا درآمدی بل اور برآمدات کا قلیل ہونا ہمیں ایک زیادہ بڑی مصیبت اور تاریکی میں دھکیل سکتا ہے جس کا تصور بھی مشکل ہے۔ روپے کی قدر میں گراوٹ رکی ضرور ہے، لیکن ڈالر کی قدر میں کسی بڑی کمی کے آثار ہیں، نہ ہی یہ کلیتا ”دوائے درد ہے۔

عدلیہ بھی غریبوں اور کمزوروں کے ساتھ رہنے کی بجائے طاقت کے مرکز کے ساتھ چپکی ہوئی ہے، عدلیہ، چند باکردار لوگوں کے سوا، ملک کو صحیح راستے پر ڈالنے کے بجائے رکاوٹ ہے، یہ غاصبوں کو دن کی روشنی میں غیر قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے، بصد اطمینان آئین کا غلط استعمال اور کھلے عام سیاسی رشوت لینے میں کوئی پچھتاوا محسوس نہیں کرتی۔ لہٰذا، سول حکمرانی، معاشی استحکام، نظام عدل، ساختی یا اسٹرکچرل اصلاحات کے با معنی نتائج اس وقت تک ایک خواب ہی رہیں گے جب تک کہ طاقتور نظم و ضبط کے دائرے میں نہیں آتا، پسپائی اختیار نہیں کرتا اور حکومتی احکامات کو ماننا نہیں سیکھتا، اس طاقتور کے لیے یہ جاننا ہی سب کچھ ہے کہ پارلیمنٹ اور اس کی خودمختاری سب سے اعلیٰ ہے جو وزیراعظم کا انتخاب کرتی ہے۔

پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہی بہترین حکمرانی نافذ کرنے کا واحد طریقہ اور معاشی خوشحالی کا ضامن بن سکتا ہے بلکہ طویل مدت میں طاقتور کی اپنی اور عمومی، ملکی اور عوامی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ اس دیس کو درد کی انجمن بنے رہنے سے روک لیجے، زرد پتوں کے اس بن کو گلزار بنا لیجے، بہت زیادہ وقت گزر چکا ہے، صرف سرا ہاتھ میں رہ گیا ہے، اسے بھی چھوٹ جانے سے بچا لیجے۔

ہمارا جی تو کہتا ہے کہ
دونوں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے
انا کا بے جان وجود
ایک ہارے ہوئے لشکر کے سپاہی کی طرح
میں چپ چاپ کھڑا، دیکھ رہا ہوں
پھیلے ہوئے ہر سمت تباہی کے مناظر۔

Facebook Comments HS