عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کرکے انقلاب لانا چاہتے ہیں یا معیشت ڈبونا؟


عمران خان اندھوں میں کانے راجا ضرور ہیں۔ مگر دودھ کے دھلے ہرگز نہیں۔ حقیقی آزادی کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کا یہ درست وقت ہے بھی کہ نہیں؟ معیشت پہلے کہاں کھڑی ہے؟ یہ سوچیے ذرا۔ کیا خان صاحب کو نہیں پتہ کہ اس وقت سیلاب متاثرین اور مہنگائی اس ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے؟ یقیناً جانتے ہوں گے ۔ ان کے علم میں یہ بھی ہو گا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں شدت پسندی پھر سے زور پکڑ رہی ہے۔ مگر پوری تحریک انصاف، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومتی لیول پر لانگ مارچ کی تیاریوں میں جتی ہوئی ہے۔ اور مسائل کے لیے اندھا حافظ جی بنی ہوئی ہے۔

خان صاحب صوبہ آپ کا مالی طور پر ڈیفالٹ کے کنارے کھڑا ہے۔ تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں۔ مان لیا کہ انقلاب کے لیے ایسی قربانی دینا پڑتی ہیں۔ اور یہ سچ بھی ہے۔ مگر کیا آپ کو شدت پسند عناصر کا دوبارہ منظم اور متحرک ہونا نظر نہیں آ رہا؟ معیشت کی قربانی تو انقلاب کے نام پر قبول ہے۔ مگر انقلاب کے نام پر شدت پسندی میں شدت سے جانوں کی قربانی کیسے قبول کر لیں۔ آپ کو تو چاہیے تھا کہ اس وقت شدت پسندی کے خلاف آواز بلند کرتے۔ مگر آپ انقلاب کے چکر میں اسلام آباد بند کرنے کے چکروں میں ہیں۔

”ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے، وطن ہے“

یہ قوم آپ سے توقع کیے بیٹھی ہے کہ آپ ہی مسیحا ہیں۔ پلیز! اس قوم اور اس وطن کا سوچیے خان صاحب۔ اس وطن کا کہ جو

ہر مومن کا رکھوالا ہمارا وطن
امت کا ہے سہارا پیارا وطن
نہ تھا امت کا ہمدرد کوئی
دے کے قوت رب نے ابھارا وطن
دریا دیے، بحر و بر دیے، دیے حسین گلشن
خدا نے نعمتوں سے ہے سنوارا وطن
ان کے آنگن میں بھی سدا بہار رہے
جان دے کے جنہوں نے نکھارا وطن
ہو گا اسلام کا غلبہ جہاں میں عامر
وسیلہ بن کے آئے گا تمھارا وطن

احتجاج ہر پاکستانی اور ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔ تو پھر وفاقی حکومت کیوں اس احتجاج کو روکنے کے لیے حربے، حلیے استعمال کر رہی ہے۔ نون لیگی حکومت یہ احتجاج روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے کو تیار بیٹھی ہے۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے تو کھلے لفظوں میں کہا کہ اگر پی ٹی آئی احتجاج کرے گی تو ہر قیمت پر روکیں گے۔

خان صاحب! احتجاج آپ کا جمہوری حق ہے۔ مگر پہلے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی عوام کو تو اس کا حق دیں، جس کے عوض آپ نے ووٹ لے رکھے ہیں۔

Facebook Comments HS