عدم برداشت اور میڈیا کا کردار


پاکستانی معاشرے میں بڑھتا ہوا عدم برداشت کا رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے ہاں سماجی اور معاشرتی رویے کس قدر پر تشدد ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست میں چوتھے ستون کی حیثیت رکھنے والے روایتی میڈیا کو اگر دیکھا جائے تو روزانہ کی بنیاد پر ہمارے اخبار قتل و غارت گری، دہشتگردی، ڈکیتی، ریپ سمیت مختلف قسم کے جرائم کی خبروں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ خبروں میں سنسنی لانے کے لیے میڈیا کا پر تشدد طرز بیاں اور جس طرح سے ہر ایک دن میڈیا پر ہونے والے مختلف ٹاک شوز میں سیاسی نمائندے ایک دوسرے کی کردار کشی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اس سے ہمارے دماغ کبھی بھی حالت سکوں میں نہیں رہ پاتے۔

دوسری جانب ہماری ڈرامہ اور فلم انڈسٹری میں ایک خطر ناک قسم کا جزو بیہودگی اور پر تشدد مواد کی صورت میں شامل ہو گیا ہے۔ مقدس رشتوں پر بیہودہ قسم کی کہانیوں پر ڈرامے بنائے جا رہے ہیں جنہیں آپ اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے حالانکہ کچھ عرصہ قبل معزز عدلیہ کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں مختلف مقدس رشتوں پر منفی کہانیاں لکھنے اور ان پر ڈرامے بنانے پر پابندی عائد کی گئی ہے امید ہے اس فہرست میں مزید اضافہ ہو گا۔

اگر ہم ماضی میں دیکھیں تو پی ٹی وی کے دور میں مثبت کہانیوں پر بہت ہی خوبصورت ڈرامے بنائے جاتے رہے ہیں۔ روایتی میڈیا سے ہٹ کر سوشل میڈیا کو دیکھا جائے تو یہ ایک بے لگام پلیٹ فارم کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ مختلف اینڈرائڈ ایپلیکیشنز استعمال کرنے والے براہ راست پرتشدد مواد سے متاثر ہو رہے ہیں۔ بغیر عمر کے لحاظ کے ٹک ٹاک جیسی ایپلیکیشنز استعمال کرتے ہوئے پتا نہیں چلتا کب پندرہ پندرہ بیس بیس سیکنڈز کی ویڈیوز دیکھتے ہوئے گھنٹوں گزر جاتے ہیں ماضی میں ایسی ایپلیکیشنز پر اس کے بیہودہ اور پرتشدد مواد کی وجہ سے پاکستان میں پابندی بھی رہی ہے۔

اس کے علاوہ نو جوانوں کا پرتشدد گیمز کی جانب بڑھتا ہوا رجحان بھی خطرے کی علامت ہے۔ بہت سی ہونے والی تحقیقات کے مطابق جو نوجوان پرتشدد ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں ان کے دماغوں میں خون خرابہ اور تشدد نارمل ہو جاتا ہے۔ جب یہ نوجوان معاشرے میں نکلتے ہیں تو بہت سے پر تشدد ایکٹس کی پریکٹس کر جاتے ہیں جو ان کو نارمل لگ رہے ہوتے ہیں آئے روز ایسے واقعات کی خبریں سامنے آنے کا معمول بن چکا ہے۔ روزمرہ زندگی میں میڈیا کے وساطت سے ہم تک پہنچنے والی چیزیں جو ہمیں نارمل لگ رہی ہوتی ہیں لیکن بار بار ان کا دہرائے جانا ہمارے دماغ اور سوچنے کی صلاحیت کو تبدیل کر دیتا ہے کیونکہ میڈیا کی طاقت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ نہ صرف ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح سے سوچنا ہے بلکہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ کیا سوچنا ہے۔

ایک خالی گلاس اگر آپ ہاتھ میں اٹھا کر رکھیں اور اس کو گھنٹوں اسی حالت میں اٹھائے رکھیں گے تو گزرتے وقت کے ساتھ اس کا بوجھ بڑھتا جائے گا اور آپ تنگ پڑنے لگیں گے۔ بالکل اس طرح ہی آپ کے دماغ کو پرتشدد مواد عدم برداشت کی طرف لے جاتا ہے۔ عدم برداشت کے رجحان کو پروان چڑھنے سے روکنے کے لئے میڈیا کو اپنا مواد بناتے ہوئے ان چیزوں کو خیال رکھنا ہو گا جو معاشرے میں ڈپریشن، عدم برداشت اور عدم استحکام کا سبب بنیں

Facebook Comments HS