کیا حمزہ علی عباسی شوبزنس کو مذہبی ٹچ کے ساتھ پیش کر رہے ہیں؟


ہماری ملکی تاریخ مذہبی ٹچ سے بھری پڑی ہے ہماری کوئی بھی کل مذہبی ٹچ کے بغیر سیدھی نہیں ہو پاتی، ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جو ایک ہی وقت میں اسلامی بھی ہیں اور جمہوری بھی۔ حالانکہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے بالکل برعکس یا متضاد ہیں، اب جس قوم کی جڑوں یا بنیادوں میں ہی ٹیڑھا پن ہو اس کے اوپر تعمیر ہونے والا ڈھانچہ کیسے سیدھا ہو سکتا ہے؟ اب اسے المیہ کہہ لیں یا وقت کی ستم ظریفی کہ مغربی کلچر میں پلنے بڑھنے والے اچھے خاصے سیکولر اور کلین شیو سٹائل کے بانی وطن کو ہم نے خیالوں ہی خیالوں میں داڑھی، اچکن اور کیپ پہنا دی اور شاعر مشرق کو ”حضرت علامہ“ بنا دیا۔

ہمیں کھرے اور ملاوٹ سے پاک لوگ ہضم ہی نہیں ہوتے اسی لئے کھرا پن آج وطن عزیز میں ناپید ہو چکا ہے، جہاں مکس مال اور ملاوٹ کا کلچر فروغ پا جائے وہاں کچھ بھی خالص نہیں رہتا جس کا جہاں داؤ لگتا ہے مذہبی تڑکا لگا کر اپنا الو سیدھا کر کے چلتا بنتا ہے۔ مذہبی معاشروں میں مذہب سے زیادہ کامیاب بزنس کوئی نہیں ہوتا، مشاہدہ کے طور پر آپ مذہبی یوٹیوب چینلز کی رینکنگ یا فالونگ دیکھ لیں چند سیکنڈ میں حقیقت واضح ہو جائے گی کہ کیسے معمولی سطح کے لوگ مذہبی چورن بیچ کر ماہانہ کروڑوں کما رہے ہیں اور دوسری طرف آپ ان لوگوں کی لسٹ ملاحظہ فرما لیں جو عقیدہ کی بجائے لاجک اور ریشنلٹی کو فروغ دینے کی کوششیں کرتے ہیں ان کی فالونگ یا سبسکرپشن کے تناسب کو دیکھ کر آپ ہنسنے لگیں گے اور حیرت سے آپ کے منہ سے نکلے گا کہ ”اتنی کم مقبولیت“ ؟

اب اسی بات کو دوسرے اینگل سے دیکھیں کہ وہ لوگ جو سائنس یا سائنسی فکر کو ملاوٹ یا مذہبی ٹچ دے کر پیش کرتے ہیں ان کی فالونگ ان سے کہیں زیادہ ہے جو سائنس کو بغیر کسی ملاوٹ کے پیش کرتے ہیں۔ مذہبی شباہت و گفتار اختیار کر کے آپ کو معاشرتی سطح پر بہت سی سہولیات بن مانگے ہی مل جاتی ہیں کوئی زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑتی۔ وہ باتیں آپ بڑی آسانی اور مذہبی تحفظ کی چھتر چھایا میں انتہائی بے فکری سے کر سکتے ہیں جسے کوئی سیکولر یا دنیا دار قسم کا بندہ کرنے کی جرات کر بھی لے تو بھونچال آ جاتا ہے اور نجانے کتنے عجیب و غریب قسم کے القابات سے چند سیکنڈ میں نواز دیا جاتا ہے۔

مذہبی گیٹ اپ ایک طرح کا لائسنس ہوتا ہے جس کے ذریعے آپ دونوں طرف سے کھیل سکتے ہیں، اس استحقاق یا خاص حق کا استعمال کر کے آپ جیسے چاہیں مذہب کی تشریح کر لیں کوئی فرق نہیں پڑے گا بس ایک بات کا دھیان رہے کہ آپ کے کندھے پر کسی مشہور دینی شخصیت یا گدی نشین کا ہاتھ ضرور ہونا چاہیے بس پھر آپ کی موجیں ہی موجیں ہیں۔ پھر چاہے آپ کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ اپنے من کی شانتی کے لیے حسیناؤں کو ”فلائنگ کس“ کر لیں یا شوبزنس کے میدان میں ”من چاہیاں“ کر لیں کوئی فرق نہیں پڑے گا اور سائیوں کے آشیرباد کے ساتھ آپ بامراد رہیں گے کیوں کہ آپ ان کے چلتے پھرتے ”اشتہار“ ہوتے ہیں۔

پاکستان کے روایتی مذہبی حلقے میں ایم ٹی جے بزنس ایمپائر کے سربراہ مولانا طارق جمیل کا طوطی بولتا ہے اور ان کے ”اشتہارات“ ہر طبقہ زندگی میں موجود رہتے ہیں جنھیں ان کے بیانات کی صورت میں تبلیغی فیڈ ملتی رہتی ہے، دنیا بھی جگمگاتی رہتی ہے اور آخرت تو خیر ان کے گھر کی بات ہے وہاں ان کے علاوہ کوئی اور مہان بننے کی بھلا جسارت کیسے کر سکتا ہے۔ دوسری طرف جاوید احمد غامدی ہیں جو پاکستانی ہیں مگر اپنوں کے ڈر کی وجہ سے یورپ کی چھتر چھایا میں مذہبی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ان کا شمار مذہب یا علم الکلام کی جدید انداز میں تشریح کرنے والوں میں ہوتا ہے اور ان کا مخاطب وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں جدیدیت محض شوق کی حد تک اچھی لگتی ہے اور اپنی کلاس کو مینٹین رکھنے کے لئے فلسفیاتی اصطلاحات کا کھیل کھیلتے رہتے ہیں ان میں زیادہ تر کلین شیو، ممی ڈیڈی یا برگر کلاس کے لوگ ہوتے ہیں جن کا واحد کام ”امپریس“ ہونا ہوتا ہے کوئی بھی متاثر کر لے اسی کے ہو جاتے ہیں، مطلب اپنا کوئی بھی گراؤنڈڈ پوائنٹ آف ویو نہیں ہوتا۔

آج کل انہی کے ایک اشتہار یا تربیت یافتہ شاگرد کا ایک طویل عرصہ کے بعد فلمی دنیا میں ظہور ہوا ہے اس فلم کا نام مولاجٹ ہے۔ ہمیں اچھے سے یاد ہے جب انہیں طارق جمیل یا انہی کے کسی بھائی بندے کے ہاتھ لگے تھے تو وہ ہمیشہ کے لئے شوبزنس کو خیرآباد کہہ گئے تھے مگر ایک طویل عرصہ کے ذہنی ٹرانسفارمیشن کے بعد سرکار پھر جلوے کی دنیا میں آ دھمکے مگر اس بار تبدیلی یہ ہے کہ مذہبی لباس زیب تن کر کے اور فکر غامدی کی کیپ سر پر سجا کر فلمی دنیا میں تشریف لائے ہیں۔

اور ان کی کوشش ہے کہ اسلامی بینکاری کے نظام کی طرح فلمی دنیا میں بھی اسلامی ورژن کا انقلاب برپا کریں مگر کڑوی حقیقت سامنے ہے کہ جس طرح سے فکر غامدی کو دنیا کی غالب اکثریت میں پذیرائی نہیں مل سکی تو اس بات کا کتنے فیصد امکان ہو گا کہ ان کے تربیت یافتہ حمزہ علی عباسی فلمی دنیا میں مذہبی ورژن کو کوئی مقبولیت دلا پائیں گے؟ ہاں اتنا ضرور ہو جائے گا کہ حمزہ کی وجہ سے فکر غامدی کو مقبولیت مل جائے۔ اب آتے ہیں حمزہ کے موجودہ فلمی نقطہ نظر کی طرف ان کا فرمانا ہے کہ

میری فائنڈنگ کے حساب سے آرٹ بالکل حرام نہیں ہے۔
آرٹ حرام اس وقت بنے گا جب ہم آرٹ کا غلط استعمال کریں گے۔

موسیقی یا آ لات موسیقی بالکل بھی حرام نہیں ہیں بلکہ ان کے غلط استعمال کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
میرا ماننا ہے کہ کسی بھی قسم کا آرٹ جائز ہوتا ہے اگر مذہبی کوڈ آف کنڈکٹ کے عین مطابق ہو۔

آگے کی زندگی میں بطور فلم سٹار یا ڈرامہ اسٹار جو بھی پرفارم کروں گا مذہبی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کروں گا۔

ایک مخصوص اخلاقی دائرہ میں رہتے ہوئے آپ ہر چیز دکھا سکتے ہیں۔
میں فی الحال بطور ایکٹر ڈراموں میں کام کروں گا مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ڈرامے کافی حد تک ڈیسنٹ ہیں۔
فلموں میں کام نہیں کروں گا کیونکہ آپ کو پتہ ہے کہ ہم گلیمر کے نام پر تھوڑا آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔

میرے خیال میں اگر ڈراموں میں گھریلو تشدد یا خاتون کو مظلوم دکھانا بھی ہے تو کم از کم بال نوچنا یا ٹھڈے مارنے جیسے مناظر دکھائے بغیر بھی کام چل سکتا ہے۔

پپی جپھی کے بغیر بھی ایک ڈیسنٹ قسم کا رومانس دکھایا جاسکتا ہے مطلب رومانس اشاروں میں بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں اچھا کانٹینٹ دکھانا چاہیے وہ بالی وڈ کا ہو یا لالی وڈ کا۔ ہمیں اپنی سوسائٹی کو اوپن رکھنا چاہیے اور چیزوں بین نہیں کرنا چاہیے۔

ہائے یہ روزی روٹی یا دنیاوی چمک دھمک ایک معصوم سے بندے کو مجبور کر کے کیا کچھ کروانے پر مجبور کر دیتی ہے، نا چاہتے ہوئے بھی وہ سب کرنا پڑ جاتا ہے جسے گناہ سمجھ کر کسی وقت رد کر چکے ہوتے ہیں۔ ہاں دنیا حرام ہے اور مومن کے لیے قید خانہ مگر مذہبی ٹچ کے ساتھ گنجائش نکل آتی ہے، جی بالکل شوبزنس حرام ہے اگر اس فیلڈ کو اور اس کے آلات پر اسلامی اسٹیکر چپکا دیا جائے تو بالکل گنجائش نکل آتی ہے دنیا دار خبیثوں کو تو ان حقائق کا فہم ہی نہیں ہوتا بلکہ ان کے دلوں اور دماغوں پر قفل پڑے ہوتے ہیں۔

حمزہ علی عباسی صاحب شوبزنس کو تبلیغ کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں حالانکہ وہ بڑے اچھے سے جانتے ہیں کہ تفریح اور تبلیغ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے مگر کیا کریں جناب کو چپڑی بھی چاہیں اور وہ بھی چار چار۔ دوسری طرف موصوف کی ایک تصویر وائرل ہے جس میں سرکار ماہرہ خان کے ساتھ گلے مل رہے ہیں، ضرور ملیں ہمیں بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے مگر ہمیں مسئلہ تضاد بیانی سے ہے جو بھی کرنا ہے کم ازکم چہرہ تو ایک رکھیں دوہرے چہرے منافقت یا کنفیوژن کا سبب بنتے ہیں۔

کہیں یہ گول مول باتیں ”پبلسٹی اسسٹنٹ یا پرسنل ٹریکشن“ تو نہیں ہیں؟ ذرا وضاحت فرما دیں کہ مذہب کی رو سے کسی غیر عورت کے ساتھ جپھی چل سکتی ہے؟ دوسری طرف آپ معاشرے کو کھولنے اور چیزوں کو بین نا کرنے کا کہہ رہے ہیں ذرا وضاحت فرما دیں اگر معاشرہ کو اوپن رکھنا ہے تو پھر اس کے اثرات سے محفوظ کیسے رہا جا سکتا ہے؟ ڈیسنٹ رومانس کی بھی وضاحت فرما دیں کہ کیا پپی جپھی ناپاک یا ممنوعہ عمل ہوتے ہیں؟ اگر آرٹ، موسیقی یا آ لات موسیقی جائز ہیں تو ان کی مدد سے جو آ رٹ جنم لے گا اس کے غلط یا صحیح ہونے کا پیمانہ کیا ہو گا؟

جن دائروں کی آپ بات کر رہے ہیں وہ کتنے فیصد درست ہوسکتے ہیں کیا آپ کے پاس ان کی جانچ کا کوئی پریکٹیکل پیمانہ موجود ہے؟ کہیں آپ یہ تو نہیں کہنا چاہ رہے کہ شوبزنس میں خواتین شٹل کاک برقع پہن کر رومانس کیا کریں گی؟ کیونکہ شوبزنس کا تو مطلب ہی گلیمر یا دکھاوا کرنا ہوتا ہے چھپ چھپا کر کون سا گلیمر یا رومانس ہوتا ہے؟ مطلب یہ کھلا تضاد نہیں ہو گا کہ لوگوں کو پپی جپھی، رومانس یا گلیمر بھی دکھانا ہے مگر چھپ چھپا کے؟ ہماری نظر میں تو آپ کی باتیں تضاد بیانیوں کا پلندا ہیں اور منافقت کی شرح میں اضافے کا سبب تو بن سکتی ہیں اصلاح کا بالکل نہیں۔

 

Facebook Comments HS