پاکستان شاید ’دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے‘: جو بائیڈن
انھوں نے پاکستان سے متعلق یہ تبصرہ ڈیموکریٹک کانگریشنل کیمپین کمیٹی کے استقبالیے میں کی گئی اپنی تقریر کے دوران کیا۔ یہ تقریب جمعرات کے روز منعقد ہوئی تھی۔
اُن کی جانب سے اس موقع پر کیا گیا خطاب وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر شائع ہوا ہے۔ جس میں بائیڈن کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ’۔۔۔ اور میرے نزدیک شاید دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک، پاکستان۔ اس کے پاس موجود جوہری ہتھیار غیر منظم ہیں۔‘
امریکی صدر کے یہ ریمارکس بدلتے عالمی سیاسی منظرنامے کے تناظر میں دیے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کے سیاسی منظرنامے میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے اور متعدد ممالک اپنے اتحاد کے بارے میں نظرثانی کر رہے ہیں۔
بی بی سی کی جانب سے اس بارے میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے ردِعمل حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ تاہم اب سے کچھ دیر قبل پاکستان کے وفاقی وزیرِ توانائی خرم دستگیر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے ’پاکستان سے متعلق جن شکوک و شبہات کا ذکر کیا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہیں۔ پاکستان کا جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بالکل محفوظ ہے۔‘
خیال رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پاکستان جو ایک عرصے تک امریکہ کا اہم شراکت دار رہا تھا اس کے بارے میں امریکہ کی نیشنل سکیورٹی سٹریٹیجی 2022 کی رپورٹ میں کوئی تذکرہ تک نہیں تھا جبکہ اس رپورٹ میں چین کو ’امریکہ کا سب سے اہم جیو پولیٹیکل چیلنج‘ قرار دیا گیا ہے۔
اس 48 صفحات پر مشتمل دستاویز میں جنوبی اور وسطی ایشیائی خطے میں دہشتگردی اور دیگر جیو سٹریٹیجک خطرات کا ذکر تو موجود ہے لیکن گذشتہ برسوں کے برعکس اس میں پاکستان کو ان خطرات سے نمٹنے کے لیے بطور اتحادی نہیں لکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کا نام سنہ 2021 کے سٹریٹجی پیپر میں بھی موجود نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستانی ایٹمی پروگرام کی کہانی
پاکستان کا ایٹمی پروگرام بند کروانے کے لیے امریکی دباؤ کی کہانی خفیہ دستاویزات کی زبانی
بائیڈن کی جانب سے اس تقریر میں کہا گیا کہ ’اور سچ بات یہ ہے اور میں اس پر یقین رکھتا ہوں کہ دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔ یہ مذاق ہرگز نہیں۔ ہمارے دشمن بھی ہماری جانب دیکھ رہے ہیں اور یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں، معاملات کا حل کیسے نکالتے ہیں۔‘
بائیڈن کا کہنا تھا کہ اس وقت بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے پاس دنیا کو ایک ایسی جگہ لے جانے کی صلاحیت جہاں وہ اس سے پہلے نہیں تھی۔
انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’کیا آپ میں سے کسی نے کبھی یہ سوچا تھا کہ کیوبا میزائل بحران کے بعد سے کوئی ایسا روسی رہنما آئے گا جو ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں دھمکی دے گا۔ (ٹیکٹیکل ہتھیار) جو تین سے چار ہزار افراد کو ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھنے والا محدود ہتھیار ہے۔‘
کیا کسی نے کبھی یہ سوچا تھا کہ ’چین ایک ایسی صورتحال میں ہو گا جہاں وہ روس، انڈیا اور پاکستان سے اپنے تعلقات کے حوالے سے نظرِ ثانی کر رہا ہو گا۔‘
بائیڈن نے اپنی تقریر میں اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کی اور کہا کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جنھیں معلوم ہے کہ انھیں کیا چاہیے لیکن انھیں ’غیرمعمولی‘ مشکلات کا سامنا ہے۔
تقریر جاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہا ’تو ہم ان کے ساتھ کیا معاملہ کریں؟ جو ہو رہا ہے ہم اسے روس کے تناظر میں کیسے دیکھیں؟ اور جو میرے خیال میں دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے، پاکستان۔ (جن کے پاس) جوہری ہتھیار غیر منظم ہیں۔‘
حالیہ دنوں میں پاکستان اور امریکہ کے حکام کی جانب سے پاکستان امریکہ تعلقات کو افغانستان اور انڈیا کے تناظر سے ہٹ کر ایک علیحدہ شناخت دینے کی بات کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کی جانب سے منگل کو کہا گیا تھا کہ امریکہ ’پاکستان سے طویل مدتی روابط کی قدر کرتا ہے‘ اور اس طرح کے متعدد شعبے ایسے میں جن میں دونوں ممالک کے مفاد یکساں ہیں۔


