کائنات کے تخلیق کار تک رسائی


شعوری حیات کی ابتدا گر سوال سے ہو تو جستجو، تبادلہ خیال، علم میں اضافے کی خواہش اور دیگر انسانوں کی رائے کا احترام وہ خواص ہیں جو سوال کرنے والوں کو ہی ودیعت ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جن کے شعور کو ابتدا سے ہی حتمی جواب کی اینٹوں سے چن کر جستجو کے مزید مدارج سر کرنے سے خائف کر دیا جائے، تو ایسے کسل مند، ملفوف و مقید شعور کو محض اوپر جانے والوں کے تمسخر، اہانت اور حسد سے ہی مصروف و مطمئن رکھا جا سکتا ہے۔

سائنسی اور تخلیقی ذہن ہمیشہ کیوں اور کیسے کی کھوج میں رہتے ہیں۔ سائنس، ادب، فلسفہ اور دیگر علوم کے ضخیم ذخائر بنی نوع انسانی کی جستجو کے متنوع زاویہ نظر کے ہی مرہون منت ہیں۔ اس کے برعکس روایتی مذہبی بیانیے کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقا انسانی شعور اجاگر کرنے اور ہر انسان کے اندر ودیعت کردہ منفرد صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے بجائے محدود علم سے ہر سوال اور مسئلے کا حتمی یا تشفی جواب فراہم کرنے میں دیکھتا ہے۔

وہ انسانوں کے گونا گون مسائل کے محرکات اور ان کے حل کو بھی ایک محدود زاویے سے پرکھتا ہے۔ اور پھر متنوع انسانوں کی فلاح کو ایک یکساں نظام کے تحت زندگی بسر کرنے میں مضمر سمجھتا ہے۔ یوں وہ اپنے پیروکاروں کے لیے دنیا میں موجود دیگر مذاہب اور علوم کو شعوری طور پر جاننے اور سمجھنے کے تخم کو بے فائدہ یا نقصان دہ گردان کر خوف کی دلدل میں دفن کر دیتا ہیں۔

جس کی شعوری زندگی کا آغاز ہی اس سوچ سے ہو کہ ہر سوال کا جواب موجود ہے، وہاں ترقی، جستجو اور تبدیلی کے محرکات پھر کیا رہ جاتے ہیں۔ اگر زندگی کے سوال نامے کی مماثلت کسی دنیاوی امتحانی پرچے سے کی جا سکتی ہے تو وہ فلسفے یا ادب کا ہی ہو سکتا ہے۔ اور ان علوم سے نابلد اشخاص بھی جانتے ہیں کہ چند رٹے رٹائے الفاظ کسی بھی سوال کا جواب نہیں ہو سکتے۔ اور نہ ہی کوئی جواب صریح غلط یا صحیح ہوتا ہے کیونکہ ہر جواب لکھنے والے کی حقیقی زندگی، زمان و مکاں کے تجربات، سوچ اور زاویہ پر منحصر ہوتا ہے۔

اصل میں روایتی مذہبی فکر کے پیروکار خالق کو ’ماننے‘ کو نہ صرف خالق کی فیاضی کے واحد حقدار بننے سے، بلکہ کائنات کے پس پردہ تخلیقی ذہن تک رسائی سے بھی ممثل کر دیتے ہیں۔ اور یہی محدود سوچ عبادت کے ذریعے خود احتسابی اور انسانی ہمدردی کو پروان چڑھانے کے بجائے چند حرکات و تسبیحات کے ذریعے خدا کو محض راضی رکھنے پر اکتفا کرتی ہے۔ نتیجتاً ہر طوفان کو عذاب اور ہر بیماری کو قدرت کا انتقام پڑھا جاتا ہے۔ اور محرکات اور علاج پر غور کرنے کے بجائے چند سطحی عناصر اور عبادات کی کمی کو قصور وار ٹھہرا کر باقی ہر ذمہ داری سے ہاتھ جھاڑ لئے جاتے ہیں۔

جہاں ماحولیاتی تباہی یا کوئی وبا باشعور کی توجہ اس جانب مبذول کرتی ہے کہ ایسا کیوں ہوا اور اس سے مستقبل میں کیسے بچا جا سکتا ہے، سطحی سوچ کی خود غرضی انھیں پہلے تو اپنے بچ جانے کا شکر ادا کرنے پر قائل کرتی ہے اور پھر یہ دیکھنے پر اکساتی ہے کہ علاقے کے مکین ایسے کس گناہ میں مبتلا تھے جس کی بدولت وہ پکڑ میں آئے اور یہ بچ گئے۔ کہ ان کا محفوظ رہنا بے شک ان کی کثرت عبادات کی بدولت ہی ممکن ہوا اور یوں وہ بے حسی کے ساتھ توبہ استغفار کر کے سو جاتے ہیں۔

مشکل وقت میں انسانوں کو جواب سے کہیں زیادہ میں ہمدردی، مدد اور احساس کرنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ محض توبہ و استغفار کی تلقین کرنے والوں کی۔ تکلیف میں مبتلا انسان کو اپنی تکلیف کی وجہ جاننے سے زیادہ اس سے غرض ہوتی ہے کہ کون اس کی مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑا ہے اور اسے اس سے نکالنے کی سعی کرے گا۔

اگر ایک پاس بیٹھے انسان، یا تمام زندگی کسی شخص کے ساتھ گزارنے والے کے ذہن تک بھی رسائی محض اس کی ظاہری حرکات کے ذریعے ناممکنات میں سے ہے تو کائنات کے پس پردہ ذہن تک رسائی کیسے ممکن ہے۔ ماحولیاتی تغیرات، جنگلی حیاتیات، انسان، چرند پرند، نباتات سب متنوع اور مختلف اصولوں کے پابند ہیں، اور سب کا مقصد حیات مختلف ہے، پھر اس کے پیچھے کارفرما ذہن یا سوچ کتنی گہری یا لامحدود ہو سکتی ہے اس کا احاطہ ایک انسانی محدود ذہن کسی صورت نہیں کر سکتا۔

ہاں ان کے بارے میں علم ضرور حاصل کر سکتا ہے اور صرف علم کے ذریعے ہی اس خالق کے بارے میں حقیقی تدبر کے مواقع بھی میسر آ سکتے ہیں۔ علم سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ کوئی ایک اصول یا مقصد اس کائنات کی لامتناہی حیات اور اشیا پر لاگو نہیں ہوتا۔ ولیم جیمز انسانی حیات کے مختلف مذہبی تجربات کے بارے میں لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ سدا کا اپنے وجود اور حیات کے معنی تلاش کرتا انسان جب بھی کوئی نئی دریافت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ کائنات کے تخلیقی ذہن تک رسائی حاصل کرنے کے قریب ہو گیا ہے۔ جبکہ اگلی نسلیں اس وقتی خوشی کو یا تو محض سراب یا پھر آنے والی دریافت کے لئے صرف سیڑھی طور پر دیکھتی ہیں، نہ کہ کسی حتمی نتیجے کے طور پہ۔

ہر شخص کائنات کو صرف اپنے ذہن اور شعور سے سمجھ سکتا ہے اور قدرت بھی کسی حساس شخص سے ذاتی حیثیت میں ہی مخاطب ہوتی ہے نہ کے صرف بیرونی ماحول کے ذریعے۔ دوسرے کی عینک سے وقتی طور پر منظر تو دیکھا جا سکتا ہے مگر اصل آگہی اپنی بینائی اور عقل کے استعمال سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ جو جواب جاننے کی خوش فہمی سے زندگی شروع کرتے ہیں ان کی حیثیت اس مسکاتے ہوئے نکمے طالب علم سے زیادہ نہیں ہوتی جو کسی کہ بتائے ہوئے جواب کے بل پر خود کو علامہ تصور کر کے پھولا نہیں سما رہا، اور محض اپنے رٹے ہوئے چند الفاظ کو کامیابی کی واحد کنجی سمجھ کر دوسرے طالب علموں کی جدوجہد کو وقت کا زیاں سمجھتا ہے۔ وہ طالب علم جن کے علم کا ماخذ تجربہ، تبادلہ خیال اور کتب بینی ہے۔

جواب معلوم ہونا اور تحقیقی علم کے ذریعے اسی معلوم جواب تک خود پہنچنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوہ پیمائی کے مقابلے میں کوئی شخص خود پہاڑ چڑھنے کے بجائے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سے پہلے ہی پہنچ جائے اور اپنی بے ایمانی کو عقلمندی اور ہوشیاری سے تعبیر کرے۔ اور محنت سے چوٹی سر کرنے والوں کو احمق سمجھے۔ کیونکہ اس کا ناپختہ، کسل مند ذہن یہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ ’منزل‘ علم اور تجربہ کے ذریعے ادراک اور آگہی ہے نہ کہ پہلے پہنچ کر جھنڈا گاڑ کر دوسروں کو نیچا دکھا کر احساس برتری حاصل کرنا۔ خالق کے ہاں بھی اعمال کا احتساب نیت و سعی پر ہے نہ کہ نتائج پر! جو شخص اپنا سچ تلاش کرنے کے بجائے مستعار کے سچ کو اپنا بتا کر معتبر دکھائی دینا چاہتا ہے وہ عزت کے ساتھ ساتھ حکمت اور دانائی سے بھی محروم رہتا ہے۔

ساترے کا وجودیت کا فلسفہ بھی ذاتی کوشش کے ذریعے مقصد حیات کو جاننے پر استدلال کرتا ہے۔ اس فلسفے کے مطابق انسان جو بھی تخلیق کرتا ہے ایک متعین مقصد ذہن میں رکھ کر کرتا ہے جیسے کاٹنے کی ضرورت محسوس ہونے پر اس مقصد کے لیے اوزار ایجاد کرنا، جبکہ انسان کی تخلیق کا معاملہ اس کے برعکس ہے، اس کے بقول انسان کی تخلیق پہلے ہوتی ہے اور پھر ہر انسان کو خود اپنا انفرادی مقصد حیات تلاش کرنا ہے۔

ساترے کے بقول مقصد حیات کا حصول اور پھر اس کے مطابق جینے کی آزادی اور اختیار انسان کے لئے کٹھن بوجھ ہے اور تمام مذاہب اور اخلاقی نظام اصل میں اس آزادی اور اختیار کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ مگر کسی بھی ایک سوچ کا پیروکار ہو کے انسان اپنے اخلاقی اختیار اور آزادی کے جائز اور ناجائز استعمال کی جوابدہی سے بچ نہیں سکتا کہ بہرحال ہر عمل آخر میں انسان کے اپنے انتخاب کا ہی نتیجہ ہے۔

کامیاب معاشرہ وہی ہے جہاں ایک مہذب قانونی دائرے میں ہر شخص کے مقصد حیات، بندگی یا عبودیت کے انفرادی اظہار کو اس کی سوچ، وسائل اور علم کا نتیجہ سمجھ کر اسے قبول کرنے کی وسعت قلبی موجود ہو۔

آج کے دور میں فون نے ہر شخص کو آواز اور تشخص دے دیا ہے، انسان کا دور، قریب اور مختلف سوچ رکھنے والوں سے ہر جگہ سامنا ہے۔ اب کسوٹی صرف جواب جاننے کی خوش فہمی نہیں بلکہ بہتر دلیل ہے، اور بہتر دلیل صرف علم سے دی جا سکتی ہے یا ثبوت آپ کا اعلی اخلاقی معیار زندگی ہو سکتا ہے۔ اب مذہبی بیانیہ صرف جواب فراہم کر کے زندہ نہیں رہ سکتا اس کی بقا اور اس کو مستند ثابت کرنے کے لئے اس کے پیروکاروں کو حقیقی طور پر جی کر اس کی برتری یا بہتری ثابت کرنی پڑے گی۔ کہ اب دنیا محض کھوکھلے الفاظ سے مرعوب نہیں ہوتی۔

Facebook Comments HS