نندیا ری نندیا ” تختہ صلیب، جون ایلیا، گلزار، پنچھم، امرتا اور ممتا“


                                   

دنیا کی مختلف تہذیبوں اور زبان و ادب میں بچے اور بڑے کی حالت نیند کے لئے ایک ہی لفظ اور معنی کو مخصوص رکھا گیا جیسے انگریزی میں

(sleeping baby and sleeping person , man or woman etc)

لیکن قدیم ہندوستان اور ہندی میں بچے کی حالت نیند کو بڑے کی حالت نیند سے بالکل الگ ایک پیارا نام ”نندیا“ دیا گیا۔ لفظ ”نندیا“ کے ساتھ ہی شیر خوارگی اور کم عمری کے دلکش ٹمٹماتے ستاروں کی مانند یادوں کے تصور اور مناظر ذہن میں ابھر کر سامنے آتے ہے۔

انسان ہو یا جانور حالت نیند کا جو دلکش، خوش نما مسحور کن لطافت کا حسین احساس کم عمر چھوٹے بچے کو حالت نیند میں محو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے بڑی عمر کے انسانوں اور جانوروں میں اس کا تصور محال ہے۔

عمر جتنی کم ہوتی ہے حالت نیند کی دلکشی انتہا پر ہوتی ہے عمر جیسے جیسے بڑھتی ہے حالت نیند کی دلکشی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ کہاں ایک شیر خوار بچے کی مسحور کن خوش نما مہکتی ہوئی سانسوں کی حالت نیند اور کہاں ایک خراٹے مارتا ہوا لمبی لمبی بے ترتیب بد نما سانسیں بھرتا ہوا نوجوان۔ مطلب واضح ہے کہ انسانوں اور جانوروں میں حالت نیند اور عمر کے درمیان ایک بالکل معکوس تعلق پایا جاتا ہے۔ اور انسانی زندگی سے نیند کے تعلق کی گہرائی اور قدر و قیمت کو جس خوبصورتی سے اہل ہند نے سمجھا اور محسوس کیا ہے یورپ کی کسی تہذیب میں اس کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔

لیکن مجموعی طور پر بنی نوع انسان کی زندگی کی ابتدا ہی سے نیند کی خصوصیت اور اہمیت کو بڑی شدت سے محسوس ضرور کیا گیا ہے۔

ایک مدت سے نیند کو ترسی تھکی آنکھوں کی بوجھل پلکیں جب دیے کی ٹمٹماتی ہوئی لو کی طرح پھڑپھڑاتے ہوئے ایک ہچکی لے کر پرسکون ہوتی ہیں تو پھر پلکوں پہ نیند کی تتلیوں کا رقص تب تک رہتا ہے جب تک سبز و شاداب پہاڑوں کی گہری گھاٹیوں میں برفیلی اوس کی چادر تلے آرام کرتی کلیوں کی پنکھڑیاں سورج نکلنے تک سمٹی رہتی ہیں۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جب تھکن کا پہاڑ آنکھوں پہ سوار ہو اور نیند کی تمنا شدید ہو تو نیند آنے کی کوئی کوشش کارگر نہیں ہوتی۔ تب نیند پلکوں کے آس پاس پروانے کی طرح منڈلاتی ہے اور گلی کے شرارتی بچے کی طرح دروازے پہ بیل بجا کر گم ہوجاتی ہے۔

اور کبھی یہ برسوں کے بچھڑے بے تکلف دوست کی طرح بن بلائے مہمان کی طرح بنا دستک دیے دروازے سے اندر آ دھمکتی ہے اور طویل مسافتوں سے تھکے ماندے پرندے کی طرح پلکوں پر اپنے سفید پر پھیلا کر گھنٹوں پہروں ایسے بیٹھی رہتی ہے کہ اڑنے کا خیال تک بھول جاتی ہے۔

حالت نیند جو موت سے اس قدر مشابہ ہے کہ انسان ہو یا جانور گہری نیند میں پہنچا ہوا ہو تو اس کے بے جان ہونے کا گمان بھی لاحق ہوتا ہے۔ نیند سے خود زندگی کا رشتہ کتنا گہرا اور وسیع ہے، اس کی اہمیت پر مختلف زاویوں سے کافی گفتگو کے بعد بھی یقیناً بہت کچھ کہنا اور سننا باقی رہ جائے گا۔

تاریخ کے ایک غیر منصفانہ منظر میں جابر اور سفاک حاکم وقت کے سپاہی کسی معصوم بے گناہ بھوکے پیاسے کو بالوں سے گھسیٹتے ہوئے لکڑی کے تختہ صلیب پر پٹختے ہیں اس کے بازوؤں اور ٹانگوں کو لکڑی کے تخت پر پھیلا کر رسیوں سے جکڑ کر ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پیروں کی تلیوں کو تختہ صلیب پہ جما کر ان میں لوہے کی بڑی اور نوک دار میخوں کو ہتھوڑے سے ٹھونکتے ہیں اور اسے موت کی سولی پہ لٹکایا جاتا ہے۔ مگر کرشمہ قدرت کہ سولی پہ بھی وہ نیند کی غنودگی کا لطف لے رہا ہے۔

جبکہ شیطان صفت حاکم وقت اپنے محل میں آرام و راحت کی تمام آسائشوں کے ہوتے ہوئے نرم مخملی تکیے پہ کب سے سر رکھے نیند کا منتظر ہے، اس کی بے چین نگاہیں تاریک خلاؤں میں دور تلک جا کر واپس لوٹ آتی ہیں، نیند کی محرومیت کا درد اذیت زہریلا سانپ بن کر اس کے چہرے پہ مسلسل ڈستا ہے اور یہ تکلیف کی شدت سے اپنا سر پکڑ کر بستر پہ بے آب ماہی کی طرح تڑپتا ہے۔

دنیا کی ہر زبان و ادب میں نامور دانشوروں اور شعراء نے نیند کے احساس کو بڑے کمال یاد گار خوبصورت الفاظ سے تراش کر پیش کیا ہے۔

”جان ایلیا“ ایک رات آوارگی کے بعد گھر لوٹے تو اپنی نتاظر محبوبہ کی رفاقت کو نظر انداز کر کے بستر پہ بے حس بن کر سوئے تو صبح اٹھ کر بہت دیر احساس ندامت سے اپنا سر پکڑ کر بیٹھے رہے تب انھوں نے احساس ندامت کا اظہار کچھ یوں کیا۔

” سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں نیند آنے لگی ہے فرقت میں“

سرحد کے اس پار ”پنچھم“ اور ”امرتا پریتم“ کو نیندوں میں اٹھ کر پتر لکھنے والے ”گلزار جی“ ایک رات نیند میں چلتے چلتے جب سرحد کے اس پار نکل آئے تو ساتھ اپنے وہ سرسوں کا ساگ اور پوٹلی میں نئے سال کی فصلوں کا تازہ گڑ بھی لائے۔ صبح جب آنکھ کھلی تھے تو وہیں سرحد کے اس پار اپنے بستر پر لیکن زباں پہ ان کی گڑ کی چائے کی چسکیوں کا ذائقہ موجود تھا۔ جلدی سے گلزار جی نے بے ساختہ ہاتھ اٹھا کر انگلیوں کی پوروں سے ہونٹوں پر چھو کر دیکھا تو گڑ کی چائے کی چپچپاہٹ ان کے ہونٹوں پر اب بھی جمی تھی۔

ادھر محلے میں آدھی رات کے وقت کوئی نیند میں اٹھ کر چلتے چلتے گھر سے باہر گلی میں پہنچا ہے اور گولہ شربت بیچنے والے چچا نصیر کا دروازہ بجا کر ایک گلاس پانی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ چچا نصیر اپنی دم بخود آنکھوں سے پانی مانگنے والے نوجوان کو دیکھتے ہیں خود اپنی کیفیت پر بھی انھیں حالت نیند کا شبہ ہوتا ہے مگر یہ رات کی تاریکی اور بے بسی کے عالم میں دروازے پہ کھڑے نوجوان کی پانی کی فرمائش پوری کرتے ہیں اور پھر دروازہ بند کر کے تکیے میں منہ دے کر سو جاتے ہیں۔

ادھر یورپ میں کسی ریاضی دان نے نیند میں اٹھ کر کاغذ اور قلم اٹھا لیا ہے اور کئی دنوں سے الجھے ہوئے پیچیدہ مسئلے کا درست اور صحیح حل اب اس نے لکھ ڈالا ہے۔

نیند زندگی کا ایک قیمتی جز نہیں بلکہ نصف حصہ ہے

سو سال زندگی جینے والے نے پچاس سال سو سو کر نیند کی حالت میں گزارے ہوئے ہوتے ہیں لیکن لا شعوری طور پر ہم یہ بات بہت کم سوچتے ہیں وہ اس لئے کہ در حقیقت بنا نیند زندگی کا تصور ہی ممکن نہیں مگر عام طور پر اس کے حصول کے لئے کوئی قیمت نہیں دینی پڑتی بلکہ یہ مفت میں مل جاتی ہے۔

گہری نیند کا غلبہ کسی خونخوار درندے پر بھی ہو تو بنا کسی خوف کے اطمینان کے ساتھ اس کے پاس سے گزرا جا سکتا ہے۔ خود بنی نوع انسان کے ہاتھوں انسانیت کی قتل و غارت سے تاریخ انسانیت کا ہر منظر سرخ پڑا ہے۔ لیکن نیند انسانی زندگی کی وہ مخصوص حالت ہے جس میں ایک انسان خود کو دوسرے سے محفوظ سمجھتا ہے اور مطمئن رہتا ہے۔ نیند زندگی کی وہ واحد حالت ہے جسے موت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ موت زندگی کی ضد ہونے کے ساتھ ایک الگ حالت اور شے ہے۔ لیکن نیند کی حالت اور غلبہ کبھی اتنا زور آور اور شدید ہوتا ہے کہ سویا ہوا انسان جھنجھوڑے جانے کے باوجود بھی نیند کی گرفت سے نہیں نکل پاتا۔

بظاہر بہت خوش باش کھلکھلاتے ہوئے انسان کے دل میں بھی جدائی اور محرومیت کے خنجر کی نوک اٹکی رہتی ہے۔ اپنے پیاروں کی اچانک موت کا صدمہ، ہمیشہ کی جدائی کا دکھ بنا کسی وقفے کے اگر مسلسل رہے تو انسان کا دل ہی پھٹ جائے لیکن یہ نیند ہی ہے جو انسان کو نا قابل برداشت جان لیوا دکھ کے بوجھ سے کچھ لمحوں، گھنٹوں اور پہروں تک بھلا دینے کا باعث بنتی ہے۔ یوں انسان نیند کے سہارے اپنے دکھ کو تا عمر سینے سے لگا کر جینے کے قابل رہتا ہے۔

خوابوں کی دنیا دلکش و حسین وادیوں کی دنیا کہلاتی ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں انسان کی ہر وہ ادھوری حسرت پوری ہوتی ہے جاگتی حالت میں جس کا امکان ادھورا اور نا مکمل رہتا ہے۔

یہ خواب ہی ہیں جہاں انسان اپنی کھوئی ہوئی ادھوری ان دیکھی، انجانی اور بچھڑی ہوئی کومل حسین دنیا میں جیسے ہی پاؤں رکھتا ہے تو ایک ایسی حقیقی مسکراہٹ اس کے لبوں پر کھیلتی ہے جیسے کسی پیڑ کی اداس ٹہنی بہار کے جھونکوں سے کھل اٹھتی ہے۔

حیرت انگیز سچائی یہ ہے کہ حقیقی خوشی اور مسرت انسان کو خوابوں اور سپنوں کی دنیا ہی میں ملتی ہے لیکن سماج میں پھر بھی اسے ایک فریب سمجھا جاتا ہے۔ عقل پہ تکیہ کرنے والوں کے لئے نیند کی اہمیت اور افادیت کے اپنے منطقی معنی ہیں۔

لیکن صوفیاء، اولیاء اور راز حقیقت سے آشنا کاروان فقر کے نزدیک گہری نیند کا سمے بندے کے لئے معبود حقیقی کی بندگی کے لئے منفرد اور مخصوص دکھائی دیتا ہے۔

رات کے اس پہر جب ”ہو“ کا عالم ہوتا ہے زندگی سکوں کے دامن کی اندھیری گہرائیوں میں محو خواب ہوتی ہے تب کاروان فقر کی آنکھیں آنسوؤں کے چشمے ایسے اگلتی ہیں جیسے کسی قدیم مندر میں پڑی صدیوں پرانی ملکوتی مالا کی ڈور ٹوٹنے سے اس کے سارے سفید دودھیا موتی مرمریں فرش پر چھن سے بکھرتے چلے جاتے ہیں۔

نیند کی بڑی حسین خوبی یہ بھی ہے کہ اس کی شدید کمی انسان کو اس ممتا کی یاد دلاتی ہے جسے وہ اپنی مرضی سے یاد کرنا بھی اکثر بھول جایا کرتا ہے اور جب کبھی آنکھوں اور نیند کے درمیان میں دوریاں اور فاصلے طویل ہو جائیں تو پھر یہ دوری اس ہستی کے احساس کی حسین و لطیف یادوں اور بیتے ہوئے شیر خوارگی اور کم عمری کے ان تمام لمحوں کو اچانک کھینچ کر اس کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جہاں ممتا کی مدھر لوریاں کانوں میں تازہ میٹھے شہد کی طرح رس گھولتی ہیں اور ملائم ہاتھوں کی کومل تھپکیوں کے ساتھ ہی اس کی کھلی پلکوں پہ نیند کی پریاں اتر کر انگڑائیاں لینے لگتی ہیں۔

انسانی زندگی میں نیند کی اہمیت پر یہ گفتگو آخر کتنی ادھوری رہ گئی۔ اسے مکمل ہونے کے لئے بھی خوابوں کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS