ڈاکٹر قاسم یعقوب کا ناول ” خلط ملط”
بلاشبہ آج نئے اہل قلم کی اکثریت انگریزی کو وسیلۂ اظہار خیال بنائے ہوئے ہے، با الخصوص نثر میں۔ (فی الوقت اس کے عیوب و فوائد گنوانے کی بحث میں الجھنا ہرگز مقصود نہیں۔ )
تاہم اس سے قطعی طور پر یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اردو زبان و ادب کی کوکھ بانجھ ہو چلی ہے۔ کچھ صاحبان ادب اردو میں بھی سنجیدہ نوعیت کے موضوعات کو عمدگی سے برت رہے ہیں۔ انہی میں ایک نام ڈاکٹر قاسم یعقوب کا بھی ہے۔ ڈاکٹر قاسم یعقوب معلم، شاعر اور نقاد کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ یہاں میں ان کے اولین ناول ’خلط ملط‘ کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ لیکن اس سے قبل ضروری خیال کرتا ہوں کہ اس امر کا اقرار کر لوں کہ ضرب المثل ’جس کا کام اسی کو ساجھے‘ کے پیش نظر کسی فن پارے پر نقد و تبصرہ ناقدین فن کو ہی زیب دیتا ہے۔
تاہم ٹی ایس ایلیٹ کا کہنا ہے کہ جب ہم کوئی کتاب پڑھتے ہیں اور اس کے پڑھنے سے ہمارے ذہن میں جو خیالات آتے ہیں اور جس قسم کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اس کا اظہار کوئی بری بات نہیں۔ سو ایلیٹ کے قول سے شہ پا کر درج ذیل سطور رقم کیں جو نہ تو نقد کے ذیل میں آتی ہیں اور نہ ہی تاثرات کے زمرے میں کہ اس کے لیے بھی فکر کی سنجیدگی ضروری ہے۔ ان سطور کو ہم زیادہ سے زیادہ محسوسات سے منسلک کر سکتے ہیں۔
’ خلط ملط‘ سینتیس ابواب پر مشتمل اور تین حصوں میں منقسم ناول ہے۔ ہر حصہ کے شروع میں ’صبح، دوپہر، شام‘ کے عنوان سے معنویت سے بھرپور نظمیں شامل کی گئی ہیں۔ امراؤ جان ادا کی مانند یہ نظمیں بھی پورے حصہ کا خلاصہ کہی جا سکتی ہیں۔ حصہ اول میں ایک ہمعصر گھرانے کا بیاں ہے جو بظاہر آسودہ حال اور زندگی سے مطمئن خوشحال خاندان ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کے باوجود ان کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہے۔
ناول کے آغاز سے ہی ہنگامہ خیز زندگی کی نفسیاتی پیچیدگیوں کا احوال شروع ہو جاتا ہے جو دو بھائیوں، رئیس اور وقاص کے فکر و عمل کی صورت میں اجاگر کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ ہی مصنف کے عصری شعور، گہرے مطالعے اور مشاہدے پر دلالت کرتا نظر آتا ہے۔ اس حصہ کے ساتھ ہی عصر حاضر کے ان مسائل کا بیاں شروع ہوتا ہے جنھیں ہم عموماً ’نازک‘ کہہ کر کنی کترا جاتے ہیں (اور کیا ہی بہتر ہو کہ ان مسائل کو بھی زیر بحث لایا جائے کہ شدت پسندی کا سدباب اسی طرح ہی ممکن ہے ) ۔
فرقہ واریت کا عفریت اور مذہب کے بارے میں سطحی سوچ جس نے ہمارے معاشرہ کو پوری طرح لپیٹ میں لے کر مفلوج کر رکھا ہے اس پر قلم اٹھانے کی ہمت شاید کسی نے نہ کی ہو مگر انہوں نے اس نازک موضوع کو انتہائی خوبصورتی سے نبھایا ہے۔ عقائد کا فرق جس سے کہ ہمیں اختلاف رائے کا ہنر سیکھنا چاہیے تھا وہ ہماری جان کے درپے ہے۔ منٹو نے تقسیم کے پس منظر میں لکھے گئے افسانوں میں اسی المیہ کو بیان کیا ہے کہ مذہب کے فرق نے صدیوں کی رفاقتوں، اعتماد اور معاملات پر لمحوں میں شب خون مارا تو یہاں فرقہ وارانہ اختلافات نے نسلوں کے اعتماد اور قربتوں کو ہیچ بنا دیا۔
دوسرا حصہ جسے ’دوپہر‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اگرچہ فیصل آباد کے پس منظر میں لکھا گیا ہے مگر یہ کہانی تو ہر اک جگہ کی ہے۔ اس حصہ میں مسیحائی کو کارپوریٹ کی طرح چلانے کا قصہ ہے تو معاشرے کے نچلے طبقے کے دکھوں کی داستان بھی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیحائی کے نام پر جا بہ جا پھیلے کلینک وہ مذبح خانے ہیں جہاں دھڑلے سے انسانیت کو سولی چڑھایا جاتا ہے اور ہم اس فعل قبیح کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ اکثر نوٹس بھی نہیں لیتے۔
اس حصہ میں کہانی انتہائی سرعت سے آگے بڑھتی ہے۔ ہم دو نئے کرداروں خالدہ اور راجہ سے متعارف ہوتے ہیں۔ راجہ کا کردار انتہائی جاندار اور حقیقت سے قریب تر ہے جس میں نیکی و بدی کے عناصر موجود ہیں۔ ایک لمحہ میں وہ ولن کا روپ دھار لیتا ہے تو اگلے ہی لمحہ میں وہ فرشتہ نظر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ سیکٹر کے گھن چکر کی باریکیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اقتصادیات کی گنجلک گتھیوں کو سلجھانا ایک ادیب کے لئے کار سہل ہرگز نہیں مگر قاسم یعقوب صاحب یہاں اپنی تحقیق و جستجو کو رہنما بنا کر اپنا لوہا منواتے نظر آتے ہیں۔
وہ محض کھوکھلی نعرہ زنی تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس پورے نظام کا مطالعہ و مشاہدہ کرنے کے بعد اس کی فریب کاریوں کو پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی جکڑ بندیوں اور اس کے معاون بینکاری نظام کی عفریت کو انتہائی سلیقے سے بیان کرنے میں کامیاب ٹھہرتے ہیں۔ آخری حصہ موسوم بہ ’شام‘ کلائمکس پر مشتمل ہے۔ تمام کردار اپنے منطقی انجام تک پہنچتے ہیں۔ اختتام کچھ یوں ہے جسے مختلف مفاہیم پہنائے جا سکتے ہیں۔
کیا نورین کی مسکراہٹ راضی بہ رضا کی علامت ہے؟ طنز ہے؟ یا کچھ اور؟ اس کا فیصلہ قاری نے کرنا ہے۔ کردار نگاری کی بات کی جائے تو ان کے کردار حقیقت سے قریب تر ہیں وہ ان کے ساتھ کچھ چھیڑ چھاڑ کئیے بغیر ہی پیش کر دیتے ہیں۔ خالدہ اور مفتی عنایت کے کرداروں میں اس امر کا تجزیہ ہے کہ مقدس پیشوں کو کس طرح گھناؤنے عزائم کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مفتی عنایت علامت ہے مذہب کا سطحی علم رکھنے والے ملاؤں کی جو شدت پسندی پر مائل ہیں اور سوال کا رخ روک کر سوچ پر قدغن عائد کر دیتے اور زندگی میں زہر گھول دیتے ہیں۔
دونوں ایک ہی مائنڈ سیٹ کے تحت مسیحائی اور مذہب کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی مرضی کے مطابق موڑ دیتے اور من چاہی تاویلیں پیش کر دیتے ہیں۔ یہ راجہ اور وقاص جیسے سادہ لوح لوگوں کی زندگی میں زہر انڈیل دیتے ہیں اور انہیں کٹھ پتلی بنا کر اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں۔ وقاص کی صورت میں ہمیں ایک سطحی جذباتی نوجوان دیکھنے کو ملتا ہے جس کی جذباتیت کو مفتی عنایت جیسے کم علم ملا اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جن پر لب کشائی کے لیے کافی سے زیادہ ہمت چاہیے۔
خلط ملط کے معنی گڈمڈ، ملا جلا، مخلوط، درہم برہم، بکھرا ہوا کے ہیں۔ ناول کے اختتام پر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کس قدر مناسب نام ہے۔ کیونکہ اس ناول میں مختلف خیالات، کہانیاں اور مشاہدات بکھرے ہوئے ہیں جنھیں مشاقی سے ایک ہی لڑی میں پرو دیا گیا ہے اور کسی قسم کی بے ربطی محسوس نہیں ہوتی۔ مصنف نے باریک بینی سے گردوپیش کا مشاہدہ کیا اور اپنے مشاہدات کو زیب قرطاس کیا۔ یعنی یہ خیالات غائب سے نہیں آئے بلکہ کم وبیش وہی معاملہ ہے جو کرشن چندر عصمت چغتائی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ انہوں نے پرانی قبروں کی پرستش نہیں کی بلکہ حقیقت کو اپنے تخیل کی شفاف آگ میں پگھلا کر کچھ اس قدر جاندار فضا تخلیق کی کہ مصنف کی فنکارانہ مہارت کی داد دیے بنا چارہ نہیں۔
بعض فقرے اور پیراگراف انتہائی فکر انگیز اور چونکا دینے والے ہیں۔ یقیناً آپ کے ساتھ بھی اکثر ایسا ہوتا آیا ہو گا کہ کسی ادب پارہ کے مطالعہ کرتے کرتے آپ نے چونک کر کہا ہو گا ’ارے ہاں ایسا ہی تو تھا‘ ۔ ایک ادیب کا کمال یہی تو ہے کہ وہ اردگرد موجود دنیا سے ہی اپنا مواد اخذ کرتا ہے اور خون جگر کی آبیاری سے ایک ادب پارہ تخلیق پاتا ہے۔ عام انسان اور ادیب میں فرق ہے تو محض مشاہدے کا کہ وہ بقول غالب قطرے میں دجلہ دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے عام انسان اپنی آنکھوں دیکھے واقعات کو ادب پارے میں نئے سرے سے دیکھتا ہے۔ یہی کچھ آپ کو خلط ملط میں نظر آئے گا۔ یہ ناول ہماری انفرادی و اجتماعی کجیوں اور منافقتوں کا احوال ہے۔ اگر آپ اپنے اردگرد اٹھتے تعفن کو تعفن کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو ضرور اس ناول کو پڑھیے۔



بہترین تحریر جسے پڑھ کر کتاب کو پڑھنے کا اشتیاق ہوا چاہتا ہے.❤❤
سلامت رہیں اور قلمی مہارت سے ہمیں محظوظ کرتے رہیں.
شب وروز کی ریاضت رنگ لا رہی ہے اور اردو معلی کی نفیس اور لطیف کونپل آپ کے خمیر سے پھوٹ رہی ہے مالک نطق و سخن اسے شجر سایہ دار میں تبدیل فرمائے