عالمِ برزخ می ایم اے پاس پاکستانی


ایک دن ایم اے پاس پاکستانی کھوجی معمول کی گشت کے دوران سوچ رہا تھا کہ عالم برزخ میں غیروں کے استعمال سے ان کے برتن ناپاک کیوں نہیں ہوتے، عورتوں والے برتنوں میں کھانے سے مردوں کے نکاح کیوں نہیں ٹوٹتے؟ یہاں یہود ہنود دشمن کیوں نہیں ہیں؟ لنگر خانے، کھیل کود کے میدان، چائے خانے اور گپ خانے سانجھے کیوں ہیں، ایک ہی ٹیبل کے گرد گورے گوریاں، کالے کالیاں کیوں بیٹھتے ہیں؟ کیوں کوئی ٹھاکر اور کوئی اچھوت نہیں؟

انہی سوچوں اور سوالوں میں مصروفیت کے دوران اس نے دیکھا کہ ایک دراز قد آدمی نٹشے کے اسٹائل میں منھ پر مونچھیں سجائے، بہت اعلی نسل کے پینٹ کوٹ میں ملبوس بڑی مہنگی پنپی پہنے ہاتھ میں کیروان فائیو سگریٹ کی ڈبیہ لیے عام لوگوں سے ذرا پرے، ارد گرد کے ماحول سے بے نیاز، وڈیروں کے اسٹائل میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ ایم اے پاس پاکستانی کو اسٹائل نے بہت اٹریکٹ کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس آدمی کی پرسنیلٹی نے ایم اے پاس پاکستانی کے لیے مقناطیسی ثابت ہوئی تو غلط نہیں ہو گا۔

ایم اے نے دیکھا کہ سگریٹ والے آدمی کو وہاں پر موجود دوسرے برزخیوں کی طرح کا کوئی غم نہیں، وہ چہل قدمی کرتے ہوئے دھواں اڑانے کے ساتھ ساتھ وہاں موجود پھولوں اور خوشبودار ہواؤں سے لطف اندوز ہو رہا تھا اور ساتھ ساتھ درختوں اور ان پر بیٹھے پرندوں سے باتیں کر رہا تھا۔

ایم اے پاس پاکستانی کو سگریٹ والے کی باتوں کی سمجھ نہیں آئی پر اس کو یہ پتہ چل گیا تھا کہ انگلش بول رہا ہے۔ جس طرح بھولے ہوئے کو ایک دم کسی کا نام یاد آ جاتا، جسے کچھ لوگ چھٹی حس، کچھ الہام اور کچھ غیبی مدد کہتے ہیں، بالکل اسی طرح ایم اے پاس پاکستانی کے دماغ میں آیا کہ یہ تو ہمارے بابا جی ہیں۔

پہچاننے کے بعد اس نے اپنے قدموں کو تیز کر لیا اور جھٹ میں بابا جی کے پاس پہنچ گیا۔ ان دنوں کرونا کی وبا عام تھی۔ سمجھدار لوگ گیدرنگ کو پسند نہیں کرتے تھے۔ بابا جی نے تھوڑا سا اگنور کرنے کوشش کی، کہ ہو سکتا ہے یہ کرونا سے مر کر آیا ہو، پھر یہ سوچ کر کہ برصغیر کا لگتا ہے اسے اگنور کرنا اچھا نہیں۔ بابا جی نے اس کو بلا لیا اور چھے فٹ فاصلے پر رکنے کا کہا، وہ رک گیا اور یہ سوچ کر کہ بابا جی مجھے لوٹ جانے کا نہ کہہ دیں جھٹ سے بولا،

بابا جی۔ ”اسلام علیکم“ ۔
وعلیکم سلام۔ ”آر یو انڈین“ ؟

نہیں نہیں، بابا جی میں پاکستانی ہوں۔ اسی لیے بڑی محبت سے آپ کو بابا جی کہہ کر سلام کیا ہے، آپ صرف میرے ہی نہیں پوری قوم کے ہیرو ہیں۔ کوئی انڈین بھلا آپ کو ایسے احترام سے ملے گا؟ ان کے تو آپ ولن ہوئے۔ آپ ہمارے ہیرو ہیں۔ آپ نے ہمیں وطن دیا۔

نہیں ایسی بات نہیں، وطن تو آپ کا پہلے بھی تھا، میں نے بس ہندوستان کو تقسیم کیا تھا۔
اچھا اچھا، ایسے ہی جیسے، بنگال تقسیم، پنجاب تقسیم اور آخر میں ہندوستان تقسیم؟

اس دوران بابا جی اس کو لے کر ایک بنچ کی طرف چلے گے اور بولے۔ بیٹھو۔ کسی ویٹر کو آواز دو اور اپنے لیے چائے یا کافی جو تم لینا چاہتے ہو کہہ دو۔

شکریہ میں نے کچھ نہیں لینا۔
بھر بھی بیٹھو تو سہی۔
یہاں ویٹر ہیں؟
سب لوگ خود ہی سروس کرتے ہیں، پر میں نے رکھا ہوا ہے۔
ایم اے ”میں آپ کے لیے بلاؤں ویٹر کو“ ؟
نہیں میرا ابھی ٹائم نہیں، تم بیٹھو۔

جی بہتر، پر بابا جی میں زمین پر بیٹھوں گا کیونکہ آپ کے ادب کی خاطر آپ کے برابر بیٹھنا مجھے پسند نہیں۔

بابا جی نے گرج دار آواز میں پوچھا

”آپ کو کس نے کہا ہے کہ ادب و آداب کا تعلق برابر نہ بیٹھنے میں ہے؟ میں کرسی پر بیٹھوں اور تم زمین پر اس میں میری عزت نہیں توہین ہے اور تمہاری اناکشی الگ سے۔

مگر بابا جی ہمیں تو یہی سکھایا گیا ہے، کہ بڑوں کے برابر نہ بیٹھیں، ان سے آنکھ ملا کر بات نہ کریں اور ان کی بات کو کاٹیں نہ ٹوکیں۔

بابا جی، اگر آپ کو پک پتہ ہو کہ بڑے غلط کہہ رہے ہیں تو بھی نہیں ٹوکنا، ؟
”جی تو بھی نہیں ٹوکنا“ ۔
بابا جی، اچھا یہ بتاؤ کہ اگر وہ غلط بات کریں تو ان کو کیوں نہ ٹوکیں؟
ایم اے ”جناب وہ بڑے جو ہوئے“ ۔

پھر ان کی اصلاح کیسے ہو گی؟ نوجوان نسل کے پاس فریش اور توانا خون ہوتا ہے ان کا نالج بھی جدیدیت سے بھر پور ہوتا ہے، ان کو چاہیے کہ بڑوں کو اس نالج سے آگاہ کریں، بڑوں کو چھوٹوں سے سیکھنا چاہیے تاکہ وہ جہالت میں نہ مر جائیں، ویسے بھی سیکھنے کے معاملے میں کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔

ایم اے پاس نے بولنے کی کوشش کی
بابا جی نے منع کرتے ہوئے کہا، مجھے بات مکمل کر لینے دو۔
سوری سوری معذرت، آپ بات کریں۔

بابا جی۔ نو، نو، اتنا سوری کی ضرورت نہیں، جب کوئی بات کر رہا ہو تو بات کو دھیان سے سننا چاہیے، مکمل سننا چاہیے، یہ گفتگو کے آداب ہیں، میرے یا بڑے چھوٹے کے آداب نہیں اور کبھی بھی

بات کے دوران بم کی طرح پھٹنا نہیں چاہیے، بات کو سنو ہضم کرو اور پھر بولو۔
جاری ہے

Facebook Comments HS