کافروں کے دیس میں حادثہ


میں کچھ عرصہ سے رزق کی خاطر پیرس میں ٹیکسی چلا رہا ہوں۔ ٹیکسی میں جہاں اور بہت سے تجربات و مشاہدات ہوئے وہیں بارہ اکتوبر کو ایک حادثے کا شکار بھی ہونا پڑ گیا۔ علی الصبح فرانس کے سب سے بڑے ائر پورٹ چارلس ڈی گال جو کہ یورپ کا دوسرا اور دنیا کا نواں بڑا ائر پورٹ ہے سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ ایک سواری کو ائر پورٹ کے قریب ہی واقع ہوٹل سے اٹھایا اور اسے پندرہ کلو میٹر دور بوندی نام شہر میں پہنچانے کے لیے سفر کا آغاز کیا۔

ابھی پانچ سات منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ ایک چوک جہاں اشارے کام نہیں کر رہے تھے اچانک ایک گاڑی دائیں جانب سے فراٹے بھرتی ہوئی آئی اور میرے اوسان خطا ہونے تک مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ ہوا کیا ہے۔ اس گاڑی نے جونہی ٹکر ماری مجھے ایک لمحے کے لئے تو یونہی لگا جیسے میں اس دنیا سے جا چکا ہوں۔ اوسان خطا ہوئے مگر انتہائی تھوڑی دیر کے لئے اور پھر مجھے یوں محسوس ہوا کہ میری گاڑی بے قابو ہو چکی ہے۔ گاڑی خود بخود اپنا رخ تبدیل کر چکی تھی اور گھسٹتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔

مجھ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ہوا کیا ہے۔ اچانک میری نظر پل کے ایک جنگلے پہ پڑی جس سے گاڑی زور سے ٹکرائی اور یک دم رک گئی۔ یہ ایک پل تھا جو اس موٹر وے کے اوپر سے گزرتا ہے جس پر مجھے جانا تھا اور اگر جنگلا نہ ہوتا تو شاید گاڑی نیچے گر چکی ہوتی۔ اتنا خوفناک منظر پل بھر میں نظروں کے سامنے سے گزرا تھا۔ گاڑی جونہی رکی میں گاڑی سے باہر نکلا۔ ماتھے سے تھوڑا تھوڑا خون رس رہا تھا، بائیں ٹانگ میں درد تھا مگر اللہ کا شکر ہے کسی بڑی چوٹ سے محفوظ رہا۔

گاڑی سے نکلا تو دوسری گاڑی ( جس نے ٹکر ماری تھی ) کا ڈرائیور بھی گاڑی سے باہر نکل کر میری طرف آ چکا تھا۔ اس کے ائر بیگ کھل گئے تھے جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہا۔ گاڑی کی طرف نظر دوڑائی تو مکمل تباہ ہو چکی تھی اور اس تباہی والا منظر دیکھ کر خدا یاد آ گیا کہ اس نے کس طرح مجھے اور میرے ساتھ میری سواری کو محفوظ رکھا۔ میرے پلے تو ایسی کوئی نیکی تھی نہیں جو کام آتی بس والدین اور کچھ پیاروں کی دعائیں ہیں جو کام آ گئیں۔

ابھی ہم گاڑی کا جائزہ لے ہی رہے تھے کہ ایک گاڑی قریب آ کر رکی۔ سول کپڑوں میں ملبوس ایک شخص باہر آیا، ہم سے حال احوال دریافت کیا اور بتایا کہ وہ رینجرز کا آدمی ہے اور اس نے اسی وقت فون کر کے رینجرز کی نفری منگوا لی۔ چند ہی لمحوں میں وہاں، رینجرز، ائر پورٹ پولیس، قومی پولیس اور ایمبولینس کی چار گاڑیاں اپنے بھرپور عملے کے ساتھ موجود تھیں۔ کافروں کا ملک اور ہم دونوں ڈرائیور مسلمان مگر ان کافروں کا رویہ مسلمانوں سے بڑھ کر اچھا لگا۔

سب سے پہلے ہمارا میڈیکل چیک اپ کیا گیا اور ہمارا حال احوال پوچھ کر اور تسلی کر لینے کے بعد کہ ہمیں کوئی دماغی یا جسمانی چوٹ تو نہیں آئی ایمبولینسز رخصت ہو گئیں۔ رینجرز ٹریفک کنٹرول کرنے لگے، ائر پورٹ پولیس نے اپنی کارروائی کی اور قومی پولیس نے ہماری انشورنس معاملات میں جو فوری کاغذی کارروائی ہوتی ہے میں مدد فرمائی۔ قومی پولیس نے ہی فوری طور پر موقع پر موجود حادثے کی نوعیت کا جائزہ لے کر بتایا کہ غلطی دوسرے شخص کی تھی۔

دراصل جہاں حادثہ ہوا وہاں ایک چوک ہے جہاں رواسی گاؤں سے ایک سڑک ائر پورٹ کی طرف جاتی ہے اور دوسری ائر پورٹ سے پیرس کی طرف موٹروے سے ملاتی ہے۔ چوک میں اشارہ ہے جو حادثے کے وقت کام نہیں کر رہا تھا۔ ڈرائیونگ قوانین کے مطابق اگر اشارہ کام نہ کر رہا ہو تو چوک پر لگے بورڈز پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ میری سائڈ والے بورڈ کے مطابق مجھے حق حاصل تھا آگے بڑھنے کا جبکہ دوسرے ڈرائیور کے لئے لازم تھا کہ مجھے رستہ دیتا۔

دوسرے ڈرائیور جو کہ ایک عرب نژاد مسلمان نوجوان ہے نے بورڈ سمجھنے میں غلطی کی اور مجھ سے آ ٹکرایا۔ یوں میری ڈرائیونگ کی تاریخ کا پہلا اتنا خوفناک حادثہ مجھے پیش آیا۔ اس خوفناک حادثے سے مجھے ایک تو والدین اور اپنے پیاروں کی دعاؤں پہ بھروسا بڑھ گیا اور خدا پہ ایمان بھی کہ وہی ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے۔

دوسرے کافروں کے ملک کے کافروں کا اپنے ساتھ سلوک دیکھ کر رشک بھی آیا اور دل سے دعا بھی نکلی کہ کاش ہم مسلمان بھی، مسلمان ہو جائیں، خاص طور پر پاکستان کے لئے کہ اللہ میرے ملک کے مسلمانوں کو بھی مسلمان کر دے اور انہیں رول آف لا کا پابند بنا دے۔

انسانیت نہیں تو اسلام نہیں اور انسانیت ان کافروں میں پائی جاتی ہے بس ایک کلمہ پڑھنا رہ گیا ہے جس کے بل پر ہم مسلمان کہلاتے ہیں چاہے ہمارے اعمال بالکل بھی اسلام کے مطابق نہ ہوں اور یہ بہت سارے اچھے اعمال کے باوجود کافر۔

Facebook Comments HS