جنسی تعلیم کیا ہے کیا نہیں


عبدالستار صاحب کا ایک کالم پڑھا اس پہ ایک صاحب کے کمنٹ نے توجہ کھینچی عبدالستار صاحب نے مردانہ جنسی مسائل کے حوالے سے لکھے آرٹیکل میں کہا کہ جنسی تعلیم عام ہونی چاہیے جس پہ سوال کرنے والے صاحب نے پوچھا کہ جنسی تعلیم میں کیا سکھایا جائے گا یہ آسان کر کے بتائیے۔

تو میں نے سوچا چلیے اس بات کی تھوڑی بہت وضاحت کردوں۔

جنسی تعلیم میں سب سے پہلے یہ سکھایا جاتا ہے کہ جنسی تعلق ہے کیا۔ کون کون سے جسمانی تعلق مثبت جنسی تعلق میں شامل ہوتے ہیں۔ اور اہم بات یہ کہ اپنے جسم اور اس کے افعال خاص طور سے جنسی افعال کو جاننے کا موقع ملتا ہے۔

پاکستان میں نوعمروں کی بات تو دور کی ہے اکثر خود کو تجربہ کار سمجھنے والے افراد بھی جنسی کارکردگی اور جنسی افعال کے حوالے سے غلط فہمیوں کا شکار ہوتے ہیں کیوں کہ یہ ”تعلیم“ انہیں یا تو بلوغت میں داخل ہونے کے دوران یار دوستوں نے دی۔ یا کچھ مشکوک کردار رکھنے والے بڑوں نے یا پاپ اپ میں کھل جانے والی فحش وڈیوز کی ویب سائٹس نے یا جب انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تب۔

خواتین کو یہ معلومات اکثر پہلی رات شوہر ہی تجربے کی صورت مہیا کرتے ہیں۔ یا اس سے بس کچھ ہی پہلے اشاروں کنایوں میں کوئی خاتون۔

جنسی اعضاء اور جنسی عمل کو واضح الفاظ میں بیان کرنا انتہائی قبیح سمجھا جاتا ہے۔ جس کے لیے اور دوسرے ہزاروں الفاظ استعمال ہونے لگے ہیں اور پھر وہ ہزاروں دوسرے الفاظ بھی عام بول چال میں فحش سمجھے جانے لگے ہیں۔ کہ ان کا اصل مطلب کوئی نہیں لیتا۔

جنسی تعلیم میں ایک اہم معلومات یہ ہوتی ہے کہ آپ جان سکیں کہ مرد عورت یا ٹرانس سیکشوئل پرسن کے جنسی اعضاء کی ساخت کیا ہوتی ہے اور اس کی نارمل کارکردگی کیا ہونی چاہیے۔ یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں بہت زیادہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور اکثر افراد ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ شرم و حیا یا گھن کے نام پہ اکثر افراد نے کبھی اپنے جنسی اعضاء کی ساخت بغور دیکھی ہی نہیں ہوتی۔ نہ انہیں یہ پتا ہوتا ہے کہ ان کی والی ساخت نارمل کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں۔ پھر جب ان میں سے اکثر کی شناسائی پورن وڈیوز میں موجود جنسی اعضاء سے ہوتی ہے اور وہ مصنوعی چیزیں انہیں نارمل لگتی ہیں اور وہ مزید گھبرا جاتے/جاتی ہیں۔

تو یہ نوٹ کر لیجیے جنسی تعلیم میں آپ کو سب سے پہلے یہ سیکھنا ہوتا ہے کہ آپ کے جنسی اعضاء کو کیسا ہونا چاہیے۔ خوبصورتی کے یا معاشرتی کارکردگی کے نہیں صحت مندی کے معیار کے مطابق۔

ساخت کے بعد بات آتی ہے اس کی عمومی کارکردگی کی۔ جیسا کہ اکثر غلط فہمیاں پائی جاتی ہے اور جریان اور لیکوریا کو بیماری سمجھا جاتا ہے۔ احساسات کے حوالے سے غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ اکثر تو قدرتی جنسی کشش کو ہی ممنوع قرار دے دیا جاتا ہے جو الگ نفسیاتی مسائل جنم دیتی ہیں۔ ایک جنسی عضو کو کتنا فعال ہونا چاہیے کتنی دیر تک فعال رہنا چاہیے۔ جنسی تعلق کی کتنی خواہش نارمل ہے یہ سب بھی جنسی تعلیم کا حصہ ہے۔

اس کے بعد جنسی تعلیم میں جنسی تعلق کی بات آتی ہے۔ کس قسم کی جسمانی مشق کو جنسی تعلق سمجھا جانا چاہیے اور کون سی حرکات و سکنات تعلق کی بجائے تشدد میں آتی ہیں اور کیوں۔ جنسی تعلق میں جذباتی تعلق کی کیا اہمیت ہے اور اسے کیسے ڈیل کیا جاسکتا ہے۔ اور کون سا جنسی تعلق محفوظ ہے اور کون سا آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اور صرف پورن وڈیوز میں ہی نظر آتا ہے حقیقت میں ممکن نہیں۔

ایک اور اہم چیز جو جنسی تعلیم میں شامل ہے وہ ہے جنسی اعضاء کی صحت و صفائی کا خیال رکھنا۔ اکثر افراد پاک صاف رہنے کی کوشش میں جنسی اعضاء کو غیر ضروری حد تک صاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور قدرتی صفائی کے نظام کو گڑبڑ کر دیتے ہیں جس کے باعث انفیکشنز پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ افراد سرے سے کوئی صفائی ستھرائی پہ توجہ ہی نہیں دیتے اور ناصرف خود جنسی طور پہ پھیلنے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں بلکہ اپنے جنسی ساتھی کو بھی کر دیتے ہیں۔ اسی لیے جنسی تعلیم میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جنسی تعلق میں کون سے ایسے اقدامات کرنے ہوتے ہیں کہ آپ اور آپ کا/کی شریک حیات جنسی حوالے سے بھی صحت مند رہے اور ایک سے دوسرے کو بیماریاں نہ پھیلیں۔

جنسی تعلق چوں کہ براہ راست پیدائش کے عمل سے جڑا ہے اس لیے یہ آگاہی بھی اہم ہوتی ہے کہ جوڑا اگر حمل چاہتا ہے تو کیا اقدامات مددگار ہیں اور اگر حمل نہیں چاہتا تو کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ ہمارے یہاں اس آگاہی کی شدید کمی کے باعث اکثر خواتین شوہروں سے چھپ کر غیر معیاری کونٹراسیپٹو طریقے اختیار کرنے پہ مجبور ہیں جو ان کی جنسی اور عمومی صحت کو خطرناک نقصان پہنچاتا ہے۔

جنسی تعلیم میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جب جنسی تعلق کی ضرورت ہے لیکن کوئی فریق نہیں تو کس قسم کی مصروفیات آپ کو جسمانی، نفسیاتی اور جنسی اعتبار سے فرسٹریشن سے بچا سکتی ہیں۔

جنسی تعلق کس سے بنانا ہے یہ جنسی تعلیم کا موضوع نہیں یہ اخلاقیات کا موضوع ہے۔ جو ہر انسان اپنے عقیدے، نظریات، اخلاقیات اور معلومات کی بنیاد پہ طے کرتا ہے۔ ہر ملک میں جہاں جہاں جنسی تعلیم دی جاتی ہے وہاں کے لوگ اس تعلیم کے حصول کے بعد اس کے معلومات اور اپنی معاشرتی اخلاقیات کی بنیاد پہ یہ تعلق قائم کرتے ہیں۔

ایک ذہنی، جذباتی اور جنسی اعتبار سے صحت مند شخص اس معلومات سے اپنے لیے اور اپنے ساتھی اور معاشرے کی بہتری کے لیے فائدے کا کام ہی لے گا۔ اس کا مس یوز وہی افراد کر سکتے ہیں جو کسی وجہ سے جنسی گھٹن کا شکار رہے ہوں اور اس حوالے سے نفسیاتی مشاورت کے مستحق ہوں۔ ایسے افراد کو مشاورت دینا ہی مسئلے کا حل ہے آگاہی نہ دینا مزید گھٹن زدہ افراد بڑھانے کا باعث ہو گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 113 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments