دی لیجنڈ آف مولا جٹ اور پاکستانی سٹیون سپیل برگ

لگ بھگ ایک دہائی میں تیار ہونے والی فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ سینماز کی زینت بن چکی ہے۔ فلم کے ہدایت کار بلال لاشاری جبکہ پروڈیوسر عمارہ حکمت اور اسد جمیل خان ہیں۔ فلم ایک طرف تو بزنس کے نئے ریکارڈ بنا رہی ہے تو دوسری طرف تنقید نگاروں نے فلم پر یلغار کی ہوئی ہے۔
جناب سرور بھٹی صاحب (جو کہ پہلی مولاجٹ فلم کے فلم ساز ہیں ) کے مطابق دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی کہانی، مکالمے، مناظر اور کرداروں کا گیٹ اپ پنجاب کے کلچر کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ بھارتی فلم باہو بھلی کے کردار ہیں۔ دی لیجنڈ آف مولا جٹ میں جو کچھ دکھایا جا رہا ہے وہ کہیں سے بھی پنجاب کی نمائندگی نہیں کرتا۔ بھٹی صاحب نے کمال مہربانی کرتے ہوئے گنڈاسے کو نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ جو گنڈاسا مولا جٹ کے زیر استعمال ہے وہ بھی پنجابی کلچر میں اجنبی ہے۔
کچھ تنقید نگاروں کو ایسا لگتا ہے کہ وہ کوئی رومن دور کی گلیڈی ایٹر ٹائپ کی فلم دیکھ رہے ہیں۔ اور یہ مناظر فلم کو غیر حقیقی رنگ دیتے ہیں۔ مزید کچھ تنقید نگاروں کے نزدیک ہیرو اور ہیروئن کو پنجابی بولنی نہیں آتی اور ان کے لباس اور الفاظ کی ادائیگی بھی پنجابی نہیں لگتی۔
اگرچہ پاکستانی سینما کی موجودہ حالت کو دیکھیں اور پھر ان تنقیدی حوالہ جات پر نظر دوڑائیں تو سینما کی زبوں حالی کی وجوہات سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ فلم ساز تو ستر کی دہائی میں رہ رہے ہیں لیکن فلمی تنقید نگاری بھی شاید اسی دور میں مقید ہے۔ فلم سازی کے بدلتے ہوئے رجحانات، جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال اور اسٹریمنگ سروسز کے ساتھ مقابلہ سازی نے فلم سازی کی سائنس کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ان بدلتے ہوئے رجحانات کو جہاں فلم سازوں کو سمجھنا اور قبول کرنا ضروری ہے وہیں تنقید نگاروں کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ فلم بین اب ستر کی دہائی میں نہیں رہتا ہے۔ وہ سینما نہ تو پنجاب کا کلچر دیکھنے جاتا ہے اور نہ ہی پنجابی سیکھنے۔ ویسے بھی پنجاب میں اب پنجاب کا کلچر کہاں ہے؟ شاید دور افتادہ کسی گاؤں میں یا انڈین پنجاب کی پنجابی فلموں میں۔
فلم بین کے لئے سینما ایک تفریح ہے اور فلم تو حقیقت سے فرار ہے کچھ لمحوں کا۔ جس میں فلم بین دو سے تین گھنٹے اس گھٹن اور حبس زدہ حقیقی زندگی کو بھول کر فلم کے کرداروں میں کھو کر زندگی کے حقائق سے فرار چاہتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں دن کے چوبیس گھنٹے اور سال کے تین سو پینسٹھ دن سیاست زیر بحث رہتی ہے۔ اور جہاں تمام ٹی وی چینلز سیاسی تجزیہ نگاروں کی مدد سے سیاسی شدت پسندی اور نفرت کو ہوا دے رہے ہیں وہاں بلال لاشاری جیسے لوگ دی لیجنڈ آف مولا جٹ جیسی فلمیں تخلیق کر کے معاشرے کی گھٹن کو کم کر رہے ہیں۔
بلال لاشاری جدید دور کا فلم ہدایت کار ہے جو ہدایت کاری کے رموز و اوقاف کے ساتھ بین الاقوامی فلم انڈسٹری کا علم بھی رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سٹریمنگ سروسز اور تیز رفتار انٹرنیٹ نے فلم میکنگ اور فلم بین دونوں کو بدل دیا ہے۔ اب روایتی فلم سازی کا دور گزر چکا۔ بالی وڈ فلم انڈسٹری جس حالیہ کرائسس سے گزر رہی ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اب فلم بین کے پاس او۔ ٹی۔ ٹی کی شکل میں ہوم سینما موجود ہے۔ جہاں ان کے پاس بین الاقوامی ڈیٹا بیس کی شکل میں لاتعداد فلمیں اور سیزن موجود ہیں۔
سال 1979 میں جب مولا جٹ بنی تھی تو اس وقت ایمزون، نیٹ فلیکس، سونی اور پرائم جیسی اسٹریمنگ سروسز موجود نہیں تھیں اور نہ ہی پاکستانی ناظرین کے پاس منی ہائیسٹ، گیمز آف تھرون اور اسٹرینجر تھنگز جیسے سیزن دیکھنے کی سہولت تھی۔ گویا اب سینما کے لئے نئے چیلنجز ہیں اور فلم بینوں کو سینما تک لانے کے لئے بھی کچھ نیا اور کچھ بڑا کرنا ہو گا۔ اچھی کہانی، جاندار اداکاری اور میوزک کے ساتھ ساتھ اب بڑی سکرین پر کچھ ایسا کرنا ہو گا جو ناظرین کو سینما لے کر آئے۔ یہی وہ فارمولا ہے جس کی بنیاد پر باہو بلی، آر۔ آر۔ آر، کے جی ایف اور پشپا جیسی فلمیں کامیاب ہوئی ہیں۔ حالانکہ ان تامل فلموں کے مقابل بالی وڈ جیسی بڑی فلم انڈسٹری مسلسل فلاپ فلمیں دے رہی ہے۔
بلال لاشاری یہ سمجھ چکا ہے اور لیجنڈ آف مولاجٹ ہر لحاظ سے بڑی سکرین کی بڑی پروڈکشن ہے جو نہ صرف پاکستانی سینما کے لئے ایک اچھی خبر ہے بلکہ فلم کی بین الاقوامی پذیرائی بھی پاکستان کی سسکتی ہوئی فلم انڈسٹری کے لئے ایک اچھی خبر ہے۔ ہدایت کار نے کردار اور اداکاروں کے چناؤ سے لے کر جدید ترین کیمروں کے استعمال اور پوسٹ پروڈکشن سمیت ہر شعبہ میں بہترین صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی اور بھارتی فلموں کی کامیابی میں میوزک ہمیشہ سے ایک اہم جزو سمجھا جاتا رہا ہے لیکن یہاں بھی بلال لاشاری نے فلم میں کوئی گانا شامل نہیں کیا جو کہ ایک مشکل فیصلہ ہو گا تاہم ناظرین کا ریسپانس بتا رہا ہے کہ فلم کا گرینڈ تھیم، ویژول ایفیکٹس اور نوری نت کی جاندار اداکاری نے گانوں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ اس طرح روایتی فارمولہ سے مختلف ہونے کے باوجود فلم نے دیکھنے والوں کو شروع سے اختتام تک اپنے سحر میں مبتلا رکھا ہے۔
بلال لاشاری کی جدت پسندی، نئے تجربات، سینما سائنس کے علم اور اب تک کیے جانے والے کام کی بنیاد پر اسے پاکستانی فلم انڈسٹری کا سٹیون سپیل برگ کہا جا سکتا ہے۔ جس نے ایک جست میں مرتی ہوئی فلم انڈسٹری کو بین الاقوامی سینما کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ بلال لاشاری نے کہنہ مشق ہدایت کاروں کے لئے نئے معیارات طے کر دیے ہیں۔ سو تنقید نگار جو مرضی کہتے رہیں فلم وہی اچھی ہے جو فلم بینوں کو سینما تک لے آئے اور لیجنڈ آف مولا جٹ میں وہ سب کچھ موجود ہے جو فلم بین سینما میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

